فلسطینی صدر محمود عباس کاٹونی بلیئر سے ملاقات،حماس غزہ پر حکومت نہیں کرے گی اور ہتھیار بھی ہمارے حوالے کریں گے

فلسطینی صدر محمود عباس

فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ کی پٹی میں جاری تنازع کے حوالے سے ایک اہم ملاقات کے دوران اپنے موقف کا واضح طور پر اعلان کیا۔ یہ ملاقات اتوار، 13 جولائی 2025 کو اردن کے دارالحکومت عمان میں ان کی قیام گاہ پر سابق برطانوی وزیراعظم اور مشرق وسطیٰ کے لیے بین الاقوامی چار فریقی کمیٹی کے سابق ایلچی ٹونی بلیئر کے ساتھ ہوئی۔ اس ملاقات میں عباس نے غزہ کی موجودہ صورتحال، جنگ بندی کے امکانات، اور فلسطینی اتھارٹی کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے ایک پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسرائیل، حماس، اور بین الاقوامی برادری کے لیے اپنے مطالبات اور تجاویزپیش کیں ۔

اہم نکات

1. فوری جنگ بندی اور انسانی امداد

محمود عباس نے غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام یرغمالیوں اور قیدیوں کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ غزہ کے عوام کی بنیادی ضروریات، جیسے خوراک، ادویات، اور دیگر امدادی سامان، پوری کی جا سکیں۔ غزہ میں جاری انسانی بحران، جو اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور ناکہ بندی کی وجہ سے مزید سنگین ہو چکا ہے، اس مطالبے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

2. اسرائیلی انخلا اور فلسطینی اتھارٹی کا کردار

عباس نے کہا کہ تنازع کا واحد قابل عمل حل اسرائیل کا غزہ کی پٹی سے مکمل انخلا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو عرب اور بین الاقوامی حمایت کے ساتھ غزہ میں مکمل طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی ہی وہ واحد ادارہ ہے جو غزہ میں نظم و نسق اور گورننس کو مؤثر طریقے سے سنبھال سکتا ہے، بشرطیکہ اسے مناسب سیاسی اور مالی حمایت حاصل ہو۔

3. حماس کا کردار اور ہتھیاروں کی حوالگی

صدر عباس نے واضح کیا کہ حماس جنگ بندی کے اگلے روز سے غزہ پر حکومت نہیں کرے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حماس اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے اور تنظیم آزادیِ فلسطین (PLO) کے سیاسی منشور، بین الاقوامی ایجنڈے، اور قانونی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے سیاسی عمل میں شامل ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطین میں ایک نظام، ایک قانون، اور ایک قانونی ہتھیار کا اصول نافذ ہونا چاہیے۔ یہ موقف حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان طویل عرصے سے جاری سیاسی تقسیم کو ختم کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

4. یک طرفہ اقدامات کی روک تھام

عباس نے اسرائیل کے یک طرفہ اقدامات کی شدید مذمت کی، بالخصوص مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بستیوں کی توسیع، فلسطینی اراضی کے الحاق، اور مقدس مقامات، جیسے مسجد اقصیٰ پر بار بار ہونے والے حملوں کی۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ یہ اقدامات روکے جائیں۔

5. دو ریاستی حل اور بین الاقوامی حمایت

عباس نے دو ریاستی حل کے نفاذ کی اہمیت پر زور دیا، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں، عرب امن منصوبے (2002)، اور نیویارک میں مجوزہ بین الاقوامی امن کانفرنس کے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست، جس کی سرحدیں 1967 کی جنگ سے پہلے کی حدود پر مبنی ہوں اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو، خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے عرب اور بین الاقوامی برادری سے اس حل کی حمایت جاری رکھنے کی اپیل کی۔

6. جاری رابطے اور مذاکرات

ملاقات کے اختتام پر، محمود عباس اور ٹونی بلیئر نے اتفاق کیا کہ جنگ بندی، سلامتی، استحکام، اور پورے خطے میں امن کے حصول کے لیے متعلقہ فدانلود ایلچیوں، عرب ممالک، اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رindenburg رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غزہ میں جنگ بندی، سلامتی، استحکام اور خطے میں امن کے حصول کے لیے متعلقہ فریقوں سے رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

دیگر متعلقہ پیش رفت

امریکی ایلچی کا بیان

دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے حوالے سے امید ظاہر کی۔ اتوار، 13 جولائی 2025 کو انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اسی روز نیو جرسی میں کلب ورلڈ کپ کے فائنل کے موقع پر اعلیٰ قطری حکام سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ قطر اس تنازع میں ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا دعویٰ

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ حماس نے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، حالانکہ اسرائیل نے وِٹکوف کی تجویز اور ثالثوں (مصر اور قطر) کی ترامیم کو قبول کر لیا تھا۔ نیتن یاہو کے اس بیان سے مذاکرات کی پیچیدگیوں اور حماس کے ساتھ جاری تناؤ کی عکاسی ہوتی ہے، جو فلسطینی اتھارٹی اور حماس کے درمیان سیاسی اختلافات کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

تجزیہ

محمود عباس کا یہ بیان فلسطینی اتھارٹی کی اس حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ غزہ پر اپنا کنٹرول بحال کرنا چاہتی ہے اور حماس کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اپنی شرائط پر۔ عباس کا دو ریاستی حل پر زور ان کے طویل مدتی موقف کے مطابق ہے، جو بین الاقوامی قانون اور قراردادوں پر مبنی ہے۔ تاہم، حماس کی جانب سے ہتھیار حوالے کرنے اور سیاسی عمل میں شامل ہونے کے مطالبے کو قبول کرنے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان سیاسی اور نظریاتی اختلافات گہرے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے مذاکرات میں پیش رفت کے دعووں اور حماس کی طرف سے مسترد کرنے کے الزامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے مذاکرات اب بھی پیچیدہ ہیں۔ قطر اور مصر کی ثالثی کوششوں کے باوجود، زمینی حقائق، جیسے اسرائیلی فوجی موجودگی اور غزہ کی ناکہ بندی، حل کو مشکل بنا رہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری، بشمول امریکہ، کی جانب سے مذاکرات کی حمایت جاری ہے، لیکن عملی نتائج کے لیے تمام فریقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔

نتیجہ

محمود عباس نے اپنے بیان میں غزہ کے تنازع کے حل کے لیے ایک واضح روڈ میپ پیش کیا ہے، جس میں فوری جنگ بندی، اسرائیلی انخلا، اور فلسطینی اتھارٹی کی گورننس کی بحالی شامل ہے۔ تاہم، حماس اور اسرائیل کے متضاد مؤقف اور خطے کی پیچیدہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے ان تجاویز پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔ بین الاقوامی حمایت اور مذاکرات کے تسلسل سے اس تنازع کے حل کے امکانات موجود ہیں، لیکن اس کے لیے تمام فریقوں کی جانب سے لچک اور خیر سگالی کی ضرورت ہے۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

دیگر اہم خبریں:

کربلا کا سانحہ اور اُمت مسلمہ کا المیہ !

ایران اسرائیل جنگ کے بیچ شیعہ سنی اختلافات بھڑکانے کی کوششیں زوروں پر ؟

ایران اسرائیل جنگ کے بیچ شیعہ سنی اختلافات بھڑکانے کی کوششیں زوروں پر ؟ قسط :2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے