-
تفسیر بالرائے پر مولانا ابوالکلام آزادؒ کا موقف
تفسیر بالرائے کا مطلب سمجھنے میں لوگوں کو لغزشیں ہوئی ہیں۔ تفسیر بالرائے کی ممانعت سے مقصود یہ نہ تھا کہ قرآن کے مطالب میں عقل و بصیرت سے کام نہ لیا جائے، یا اُس کی تفسیر کرنے میں عقل و درایت کو دخل نہ دیا جائے، کیوں کہ اگر یہ مطلب ہو تو پھر قرآن کا درس و مطالعہ ہی بے سود ہو جائے، حالاں کہ خود قرآن کا یہ حال ہے کہ اول سے لے کر آخر تک تعقل و تفکر کی دعوت ہے اور ہر جگہ مطالبہ کرتا ہے کہ: افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا؟…
فیچر اور تجزیے
-
تفسیر بالرائے پر مولانا ابوالکلام آزادؒ کا موقف
تفسیر بالرائے کا مطلب سمجھنے میں لوگوں کو لغزشیں ہوئی ہیں۔ تفسیر بالرائے کی ممانعت سے مقصود یہ نہ تھا کہ قرآن کے مطالب میں عقل و بصیرت سے کام…
-
علمی اختلاف : حدود، آداب اور ذمہ داریاں
علم و تحقیق کی فطرت ہی اختلاف پر مبنی ہے۔ اہلِ علم کی گفتگو میں کبھی اتفاق ہوتا ہے اور کبھی اختلاف، اور یہی اختلاف فکر و تدبر کے لیے…
-
آئینہ اور انسان: دوسروں کے عیب دراصل ہمارے اپنے عیب ہوتے ہیں
میں نے زید کو دیکھا تو وہ حاسد محسوس ہوا، عمرو کی طرف دیکھا تو وہ نادان نظر آیا، سامر کی طرف دیکھا تو وہ بے حیا معلوم ہوا، حجاج…