ایشیا کپ 2014 کا سب سے سنسنی خیز اور یادگار مقابلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوا، جو کرکٹ کی دنیا میں روایتی حریف سمجھے جاتے ہیں۔ یہ میچ 2 مارچ 2014 کو ڈھاکہ کے شیرِ بنگلہ کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ شائقین کرکٹ کو یہ میچ ہمیشہ یاد رہے گا کیونکہ اس نے نہ صرف دونوں قوموں کے جذبات کو چھوا بلکہ کرکٹ کی تاریخ میں ایک سنہری باب کا اضافہ بھی کیا۔
میچ کا پس منظر
ایشیا کپ ہمیشہ سے ہی سب سے بڑے ایشیائی کرکٹ ٹورنامنٹس میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلے کو ایک عام میچ کے بجائے "اعصابی جنگ” کہا جاتا ہے۔ دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کیلئے جیت کی متمنی تھیں، جبکہ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کی نظریں اس سنسنی خیز مقابلے پر جمی تھیں۔
بھارت کی بیٹنگ اور ہدف کا تعین
پاکستان کے کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ بھارتی ٹیم نے مقررہ 50 اوورز میں 245 رنز بنائے۔ ویرات کوہلی اور روہت شرما نے اچھی اننگز کھیلیں، مگر پاکستانی بولرز خصوصاً سعید اجمل اور محمد حفیظ نے درمیانی اوورز میں اہم وکٹیں حاصل کر کے بھارت کے بڑے اسکور کے امکانات کم کر دیے۔
پاکستان کی بیٹنگ اور دباؤ
246 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی شروعات تسلی بخش نہ رہیں۔ اوپنرز جلد آؤٹ ہو گئے اور ٹیم پر دباؤ بڑھ گیا۔ مگر محمد حفیظ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری بنائی۔ ان کے ساتھ عمر اکمل اور کپتان مصباح الحق نے بھی قیمتی رنز جوڑے۔ اس کے باوجود، میچ آخری اوورز میں بھی سنسنی خیز موڑ پر کھڑا رہا۔
میچ کا ڈرامائی آخری اوور
پاکستان کو جیت کے لیے آخری اوور میں 10 رنز درکار تھے اور وکٹ پر شاہد آفریدی موجود تھے۔ بھارتی بولر رویندر جڈیجا کو بال دیا گیا۔ آفریدی، جنہیں کرکٹ دنیا میں "بوم بوم” کے نام سے جانا جاتا ہے، نے پہلا ہی گیند اٹھا کر چھکا جڑ دیا۔ اس کے بعد دوسرا گیند بھی لانگ آن کے اوپر سے شاندار چھکے کی شکل میں باؤنڈری سے باہر جا پہنچا۔ اس طرح پاکستان نے دو گیندیں باقی رہتے ہی میچ جیت لیا۔
شاہد آفریدی کا ہیرو بننا
آفریدی کی ان دونوں گیندوں پر مارے گئے چھکوں نے نہ صرف پاکستان کو کامیابی دلائی بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے دل بھی جیت لیے۔ اس فتح کے بعد شاہد آفریدی کا نام ایک بار پھر "میچ فِنشر” کے طور پر امر ہو گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے آفریدی کو ایک بار پھر کرکٹ کے ہیرو کے طور پر سامنے لا کھڑا کیا۔
عوامی ردعمل اور جشن
پاکستان میں اس جیت کو قومی جشن کی طرح منایا گیا۔ شائقین نے سڑکوں پر نکل کر نعرے لگائے، آتشبازی کی اور اپنے ہیرو شاہد آفریدی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی آفریدی کے چھکوں کی ویڈیوز وائرل ہوئیں اور یہ میچ ہمیشہ کیلئے یادگار بن گیا۔
کرکٹ کی تاریخ میں مقام
یہ میچ کرکٹ کی تاریخ میں سنسنی خیز مقابلوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ خاص طور پر آخری اوور میں آفریدی کے دو چھکوں نے اس میچ کو "کلاسک تھرلر” میں بدل دیا۔ آج بھی جب پاکستان-بھارت کے مقابلوں کی بات کی جاتی ہے تو ایشیا کپ 2014 کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے۔
خلاصہ
ایشیا کپ 2014 کا یہ میچ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ جذبات، اتحاد اور خوشی کا ذریعہ ہے۔ شاہد آفریدی کے دو چھکے نہ صرف پاکستان کیلئے فتح کا پیغام لائے بلکہ یہ لمحہ پاکستان کے کرکٹ شائقین کے دلوں میں ہمیشہ کیلئے نقش ہو گیا۔
مزید خبریں:
انجینئر محمد علی مرزا مفتن یامحقق ؟
مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں