طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کا تاریخی دورہ ہندوستان: نئی دہلی میں مذاکرات شروع

امیر خان متقی

نئی دہلی، 9 اکتوبر 2025 – طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی آج نئی دہلی پہنچے، جو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد ان کی حکومت کا ہندوستان کا پہلا اعلیٰ سطحی دورہ ہے۔ یہ دورہ 9 سے 16 اکتوبر تک جاری رہے گا اور اسے جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹیکل حرکیات میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دورے کا پس منظر

2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد ہندوستان نے اپنا سفارتخانہ بند کر دیا تھا۔ تاہم، 2022 میں ہندوستان نے کابل میں ایک چھوٹا سفارتی مشن دوبارہ کھولا، جو بنیادی طور پر انسانی امداد اور تجارت کے امور کو دیکھتا ہے۔ یہ دورہ اسی رابطے کی ایک توسیع ہے، لیکن اس کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ یہ طالبان کے اعلیٰ عہدیدار کا سرکاری دورہ ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی نے متقی پر عائد سفری پابندیوں کو عارضی طور پر ہٹایا ہے، جو ان پابندیوں کی وجہ سے ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر ہندوستان، طالبان کے ساتھ محدود لیکن حقیقت پسندانہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مذاکرات کا ایجنڈا

امیر خان متقی ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جیشنکر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق، اس دورے کے دوران درج ذیل اہم موضوعات پر بات چیت متوقع ہے:

  • تجارت و معاشی تعاون: ہندوستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کو فروغ دینے پر زور دیا جائے گا، خاص طور پر خشک میوہ جات، زعفران، اور دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات پر۔
  • انسانی امداد: ہندوستان نے گزشتہ برسوں میں افغانستان کو گندم، ادویات، اور دیگر ضروری اشیا فراہم کی ہیں۔ اس دورے میں امدادی پروگراموں کی توسیع پر غور کیا جائے گا۔
  • صحت و تعلیم: ہندوستان کی طرف سے افغان طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور ہسپتالوں کے قیام جیسے منصوبوں پر بات ہوگی۔
  • قونصلاتی خدمات: کابل میں ہندوستانی مشن کی سرگرمیوں کو بڑھانے اور ویزا کے عمل کو آسان بنانے پر زور دیا جائے گا۔
  • علاقائی استحکام: دونوں فریق خطے میں دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، اور دیگر چیلنجز پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کر رہا، لیکن حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اپناتے ہوئے تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

علاقائی اثرات

یہ دورہ نہ صرف ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے اہم ہے۔ پاکستان، جو طالبان کا دیرینہ حامی رہا ہے، اس دورے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ ہندوستان کا یہ اقدام پاکستان اور چین کے اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کی ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خطے کے دیگر ممالک، جیسے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں، بھی اس پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ہندوستان کی چابہار بندرگاہ کے ذریعے افغانستان تک رسائی خطے کی تجارت کے لیے اہم ہے۔

ہندوستان کا نقطہ نظر

ہندوستان نے ہمیشہ سے افغانستان میں امن و استحکام کی حمایت کی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہندوستان نے افغانستان میں 3 بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی، جس میں اسکول، ہسپتال، اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں۔ یہ دورہ ہندوستان کے اس عزم کی تجدید ہے کہ وہ افغانستان کے عوام کے ساتھ اپنی شراکت داری کو جاری رکھے گا، چاہے سیاسی حالات کچھ بھی ہوں۔

ردعمل اور توقعات

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ طالبان کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ اپنی ساکھ بہتر بنائیں۔ تاہم، انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین کے حقوق کے حوالے سے طالبان کی پالیسیوں پر ہندوستان کی طرف سے تحفظات برقرار ہیں۔ امکان ہے کہ یہ موضوعات بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے، اگرچہ کھل کر نہیں۔

دوسری طرف، طالبان ہندوستان کو ایک اہم علاقائی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو معاشی بحالی اور بین الاقوامی تسلیم کے لیے ان کی کوششوں میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

نتیجہ

امیر خان متقی کا یہ دورہ ہندوستان اور طالبان کے درمیان ایک نازک لیکن اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ دونوں فریق احتیاط سے آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن یہ مذاکرات خطے میں امن، تجارت، اور استحکام کے لیے نئے امکانات کھول سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان ملاقاتوں کے نتائج پر تمام کی نظریں مرکوز رہیں گی۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے