پاکستان کی سیاسی و سماجی حلقوں میں اس وقت ایک اہم خبر گردش کر رہی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی پاکستان کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے حال ہی میں ایک ٹی وی پروگرام "کیپیٹل ٹاک” میں کیا، جہاں انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ انہوں نے 19 ستمبر 2025 کو غزہ کے لیے امدادی بیڑے "صمود فلوٹیلا” میں شمولیت سے قبل کیا تھا۔ یہ خبر اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی جب مشتاق احمد خان چند روز قبل اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد وطن واپس لوٹے۔ ان کی رہائی اور استعفیٰ دونوں ہی پاکستانی عوام اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔
مشتاق احمد خان کا پس منظر
مشتاق احمد خان پاکستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں ایک نمایاں نام ہیں۔ وہ جماعت اسلامی کے طویل عرصے سے رکن رہے اور خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ 2018 سے 2024 تک وہ پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن رہے، جہاں انہوں نے فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے کے علاوہ انسانی حقوق، عدلیہ کی آزادی، میڈیا کی آزادی، اور دیگر اہم قومی و بین الاقوامی مسائل پر بات کی۔ ان کی جرأت مندانہ آواز اور اصول پسندی نے انہیں سیاسی حلقوں میں ایک معتبر شخصیت بنایا۔
مشتاق احمد خان کی سیاسی جدوجہد ہمیشہ سے نظریاتی رہی ہے۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کے اندرونی مسائل بشمول بلوچستان اور پختونوں کے حقوق پر بات کی بلکہ عالمی سطح پر فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے بھی آواز بلند کی۔ ان کی حالیہ سرگرمیوں میں "گلوبل صمود فلوٹیلا” میں شمولیت ایک اہم سنگ میل ہے، جو غزہ کی ناکہ بندی توڑنے اور وہاں امداد پہنچانے کی ایک عالمی کوشش تھی۔
صمود فلوٹیلا اور اسرائیلی جیل سے رہائی
19 ستمبر 2025 کو مشتاق احمد خان نے "صمود فلوٹیلا” نامی امدادی بیڑے میں شمولیت اختیار کی، جو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف امداد پہنچانے کی ایک بین الاقوامی تحریک کا حصہ تھا۔ یہ بیڑا فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کی امداد کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔ تاہم، 2 اکتوبر 2025 کو اسرائیلی بحریہ نے اس بیڑے پر حملہ کیا اور مشتاق احمد خان سمیت متعدد کارکنان کو گرفتار کر لیا۔
اسرائیلی جیل میں تقریباً ایک ہفتے تک قید رہنے کے بعد، مشتاق احمد خان کو 6-7 اکتوبر 2025 کو رہا کیا گیا۔ وہ 9 اکتوبر 2025 کو پاکستان واپس پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ان کی رہائی کو پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور فلسطین کے حامیوں نے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ تاہم، ان کی واپسی کے فوراً بعد جماعت اسلامی سے رکنیت کے مستعفی ہونے کی خبر نے سب کو حیران کر دیا۔
استعفیٰ کی وجوہات
مشتاق احمد خان نے اپنے استعفیٰ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کا تنظیمی ڈھانچہ بعض حدود رکھتا ہے، جو انہیں ان کے نظریاتی اہداف کے حصول میں رکاوٹ بن رہا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ فلسطین، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی، عمران خان کی حمایت، جمہوریت، انسانی حقوق، میڈیا کی آزادی، بلوچستان اور پختونوں کے حقوق جیسے اہم مسائل پر کھل کر جدوجہد کرنا چاہتے ہیں، لیکن جماعت اسلامی کے تنظیمی ڈھانچے کے اندر یہ ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ استعفیٰ کسی جھگڑے یا پارٹی سے دوری کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی جدوجہد کو آزادانہ طور پر جاری رکھنے کی خواہش کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی اور اس کے رہنماؤں، خصوصاً حافظ نعیم عابدی کے ساتھ اپنے احترام اور محبت کے رشتے کو برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی جدوجہد کو نئے سرے سے منظم کریں گے اور پاک-فلسطین کمیٹی جیسے نئے پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے مقاصد کو آگے بڑھائیں گے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
مشتاق احمد خان کے استعفیٰ کی خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی۔ کچھ صارفین نے اسے جماعت اسلامی کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا، کیونکہ مشتاق احمد ایک نظریاتی اور سرگرم رکن کے طور پر جان
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں