طالبان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا بھارتی سرزمین سے پاکستان کو دہشت گردی پر پیغام: ایک تفصیلی تجزیہ

امیر خان متقی

9 اکتوبر 2025 کو طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی اپنے پہلے سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچے، جو اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارت کے ساتھ اعلیٰ سطح کا پہلا رابطہ ہے۔ یہ دورہ، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے متقی پر عائد پابندی کے عارضی استثنیٰ سے ممکن ہوا، ماسکو فارمیٹ مذاکرات کے بعد ہوا اور بھارت-افغانستان تعلقات میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، خاص طور پر کابل میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد، متقی کے بھارتی سرزمین سے بیانات نے سرحد پار دہشت گردی پر پاکستان کو واضح تنبیہ دی۔ یہ تجزیہ اس دورے کے پس منظر، اہم پیش رفت، اور خطے کے وسیع تر اثرات کو سمجھنے کے لیے اسٹریٹجک، سیکیورٹی، اور جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر سے جائزہ لیتا ہے۔

پس منظر: دشمنی سے عملی تعلقات کی طرف

بھارت اور طالبان کے تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں۔ 1996-2001 کے دوران طالبان کی پہلی حکومت میں، بھارت نے اسے پاکستان کا پراکسی سمجھا، خاص طور پر 1999 کے IC-814 طیارہ اغوا اور القاعدہ جیسے بھارت مخالف عسکریت پسندوں کی پناہ دینے کے واقعات کے بعد۔ 2001 کے بعد، بھارت نے امریکی حمایت یافتہ افغان جمہوریہ میں 3 بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی، بنیادی ڈھانچے اور ترقی کی حمایت کی، جبکہ طالبان کی بغاوت کے خلاف صف بندی کی۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے پر بھارت نے اپنے اہلکاروں کو واپس بلا لیا اور کابل میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا، سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ویزوں کی فراہمی روک دی۔

تاہم، عملی سیاست نے آہستہ آہستہ تعلقات کو بحال کیا۔ جون 2022 تک، بھارت نے کابل میں ایک تکنیکی مشن دوبارہ کھولا تاکہ انسانی امداد کا انتظام کیا جا سکے، اور طالبان حکام کے غیر اعلانیہ دوروں نے اعتماد سازی کی۔ جنوری 2025 میں دبئی میں متقی اور بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری کے درمیان ملاقات، اور اپریل 2025 کے پھاگام حملے (جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے) پر طالبان کی مذمت نے گہرے مکالمے کی راہ ہموار کی۔ ستمبر 2025 کے زلزلے نے تعلقات کو مزید تیز کیا، جب بھارت نے ایران کے چابہار بندرگاہ کے ذریعے امداد فراہم کی، خود کو کابل کا "پہلا امدادی” ثابت کیا۔

دریں اثنا، طالبان اور پاکستان کے تعلقات خراب ہو چکے ہیں۔ ایک وقت کے اتحادی اب ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہیں: پاکستان طالبان پر تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے عسکریت پسندوں کی پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے، جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دراڑ نے طالبان کو اپنے شراکت داروں کو متنوع بنانے کا موقع دیا، پاکستان پر انحصار کم کرتے ہوئے بھارت جیسے پڑوسیوں سے تعلقات بڑھانے کی کوشش کی۔

دورے کے اہم واقعات

متقی کا شیڈول بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ 10 اکتوبر کو دو طرفہ مذاکرات پر مرکوز تھا، جس میں سفارتی، تجارتی، معاشی، اور علاقائی امور پر بات ہوئی۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں، جے شنکر نے کابل میں مشن کو مکمل سفارتخانے میں اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا، جو کہ باضابطہ تسلیم کے بغیر عملی تعلقات کی علامت ہے۔ متقی نے بھارت کو "قریبی دوست” قرار دیا، باہمی احترام، تجارت، اور عوامی روابط پر زور دیا، اور مضبوط تعلقات کے لیے ایک مشاورتی نظام تجویز کیا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے عائد ٹیرف جیسے تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بھارت-افغانستان-امریکہ کے مشترکہ مذاکرات کی تجویز بھی دی۔

یہ دورہ دہلی سے آگے بھی بڑھا، جہاں متقی بھارتی کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں، تاج محل کا دورہ، اور اتر پردیش کے دارالعلوم دیوبند مدرسے کے دورے کا منصوبہ رکھتے ہیں—جو ثقافتی اور مذہبی روابط کی طرف اشارہ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جے شنکر-متقی ملاقات سے چند گھنٹے قبل پاکستان نے کابل میں TTP کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جس میں 30 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، جس نے سیکیورٹی مذاکرات کو مزید اہم بنا دیا۔

متقی کا دہشت گردی پر پیغام: پاکستان کے لیے واضح تنبیہ

دورے کا مرکزی نکتہ متقی کی دہشت گردی کے خلاف یقین دہانیاں تھیں، جو پاکستان کے لیے واضح تنبیہ کے طور پر سامنے آئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے گزشتہ چار سالوں میں افغان سرزمین سے تمام دہشت گرد گروہوں، بشمول لشکر طیبہ (LeT) اور جیش محمد (JeM) کو ختم کر دیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ "ان میں سے کوئی ایک بھی افغانستان میں نہیں ہے” اور "ایک انچ زمین بھی ان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔” متقی نے دیگر ممالک—بالواسطہ طور پر پاکستان—پر زور دیا کہ وہ "امن کے لیے اسی طرح دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کریں جیسا کہ افغانستان نے کیا۔”

ایک سخت تنبیہ میں، انہوں نے کہا: "افغانوں کی ہمت کو آزمایا نہ جائے۔ اگر کوئی ایسا کرنا چاہتا ہے، تو وہ سوویت یونین، امریکہ، اور نیٹو سے پوچھے، وہ بتا سکتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ کھیلنا اچھا نہیں۔” انہوں نے پاکستان پر حالیہ سرحدی دھماکے اور فضائی حملوں کا الزام عائد کیا، انہیں "غلط” اور "اشتعال انگیز” قرار دیا، اور زور دیا کہ تشدد سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ جے شنکر نے اس کی حمایت کی، سرحد پار دہشت گردی کو "مشترکہ خطرہ” قرار دیا اور کشمیر کے غیر قانونی قبضے کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان کو "ہمسایہ” کہا۔

سیکیورٹی اثرات: خدشات کے درمیان دہشت گردی کا مقابلہ

اس دورے کا بنیادی مقصد بھارت کے اس خدشے کو دور کرنا ہے کہ افغان سرزمین سے عسکریت پسند بھارتی مفادات، خاص طور پر کشمیر میں، کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ طالبان کی یقین دہانیاں بھارت کے ترجیحات کے مطابق ہیں، جیسا کہ پھاگام حملے کی مذمت اور ISKP، القاعدہ، AQIS، LeT، اور JeM کے خلاف اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے۔ ماہرین اسے "سیکیورٹی مفادات کا ہم آہنگی” قرار دیتے ہیں، جہاں بھارت طالبان کی خواتین اور اقلیتوں پر پابندیوں جیسے نظریاتی اختلافات پر عملی فوائد کو ترجیح دیتا ہے۔

پاکستان کے لیے، متقی کے بیانات اس کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں: اسلام آباد کے TTP کے محفوظ ٹھکانوں کے الزامات کو طالبان کے پاکستان کی طرف سے عدم استحکام کے دعوؤں سے جوابی حملہ کیا جاتا ہے۔ یہ سرحدی جھڑپوں کو بڑھا سکتا ہے، جیسا کہ پاکستان کے وزیر دفاع کی "صبر ختم ہو گیا” کی تنبیہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ طالبان کے اندرونی اختلافات—پرو- اور اینٹی-پاکستان دھڑوں—کی رپورٹس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں، جو علاقائی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہیں۔

معاشی اور تجارتی پہلو: ترقی کے لیے راستے کھولنا

معاشی طور پر، یہ دورہ چابہار بندرگاہ کے ذریعے کھلے تجارتی راہداریوں کو فروغ دیتا ہے، تاکہ دو طرفہ تجارت کو بڑھایا جا سکے۔ متقی نے مزید ویزوں، سرمایہ کاری، اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی بحالی کا مطالبہ کیا، جبکہ بھارت افغانستان کے معدنی ذخائر پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ ماسکو فارمیٹ جیسے علاقائی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے اثر کو کم کرنے کے لیے افغان معاشی منصوبوں میں شرکت کو فروغ دیتا ہے۔

پہلوبھارت-افغانستان فوائدپاکستان کے لیے چیلنجز
تجارتی راہداریاںچابہار کے ذریعے بہتر رسائی؛ ٹیرف پر مشترکہ امریکی مذاکراتافغان ٹرانزٹ پر اثر و رسوخ کم ہونا؛ CPEC کے غلبے کا مقابلہ
امداد و سرمایہ کاریانسانی امداد (مثلاً زلزلہ ریلیف)؛ معدنی تلاشمہاجرین کی جبری واپسی اور سرحدی بندش کے باعث تنہائی
ربط کاریوسطی ایشیا سے روابط؛ عوامی تعلقاتعلاقائی تجارتی مراکز میں بڑھتی ہوئی مسابقت

جغرافیائی سیاسی اثرات: اتحادوں میں تبدیلی

جغرافیائی سیاسی طور پر، یہ دورہ طالبان کی قبولیت کی جستجو کو ظاہر کرتا ہے، جیسا کہ روس کی جولائی 2025 میں باضابطہ تسلیم سے واضح ہے، اس کے بعد چین، ایران، اور وسطی ایشیا کے ساتھ رابطے۔ بھارت کے لیے، یہ چین اور پاکستان کے اثر کو روکتا ہے، سرحدوں کو محفوظ کرتا ہے، اور افغانستان کو جنوبی-وسطی ایشیا کے رابطوں میں شامل کرتا ہے۔ ماہر برہما چیلانی اسے "محتاط ری سیٹ” قرار دیتے ہیں، جو اقدار پر اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔

پاکستان تنہائی کا شکار ہے: طالبان کی خودمختاری اس کے تاریخی کنٹرول کو چیلنج کرتی ہے، اور بھارت کی TTP یا BLA جیسے پاکستان مخالف عناصر کی حمایت کی ممکنہ راہ کھل سکتی ہے، حالانکہ اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ وسیع تر اثرات میں امریکہ کو پیغامات (فوجی اڈوں کی مخالفت) اور ٹرمپ کے تحت امریکہ-پاکستان دوبارہ اتحاد کے مقابلے میں بھارت کی کثیر قطبی حکمت عملی شامل ہے۔

چیلنجز اور تنقید: عملیات اور اصولوں کا توازن

ناقدین خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں: طالبان کی خواتین اور اقلیتوں کے حقوق پر ناقابل بھروسہ رویہ طویل مدتی تعلقات کو کمزور کر سکتا ہے، اور بھارت کا تعلق باضابطہ تسلیم کے بغیر رژیم کو خاموشی سے جائز قرار دے سکتا ہے۔ گھریلو طور پر، یہ طالبان کے حامیوں کی گرفتاریوں کے برعکس ہے، جس پر اپوزیشن نے طنز کیا۔ طالبان کے لیے، بھارت کے ساتھ زیادہ تعلقات پاکستان اور چین سے دوری کا خطرہ رکھتے ہیں۔

نتیجہ

متقی کا دورہ مفادات کے ایک حساب سے ہم آہنگی کی نمائندگی کرتا ہے، اس کے دہشت گردی مخالف پیغام نے پاکستان کو تنہا کرتے ہوئے بھارت-افغانستان تعلقات کو آگے بڑھایا۔ اگر یہ برقرار رہا تو یہ علاقائی استحکام کو فروغ دے سکتا ہے، لیکن اس کا انحصار عسکریت پسندوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات اور معاشی نتائج پر ہے۔ جیسا کہ ایک ماہر نے کہا، یہ "پاکستان کے لیے ایک دھچکا” ہے، جو ایک غیر مستحکم پڑوس میں اتحادوں کو نئی شکل دیتا ہے۔

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے