پنجاب (13 اکتوبر 2025): صوبہ پنجاب کے شہر مریدکے میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں کے احتجاجی مارچ کو منتشر کرنے کے لیے پیر کی صبح شروع کیا گیا آپریشن تقریباً پانچ گھنٹوں میں مکمل کر لیا۔ آپریشن کے بعد صفائی کا کام جاری ہے۔ پنجاب پولیس کے مطابق، اس آپریشن میں ایک پولیس اہلکار سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
واقعہ کی تفصیلات
- مارچ کا پس منظر: ٹی ایل پی نے فلسطین اور اسرائیل تنازعے کے خلاف "لبیک اقصیٰ” مارچ 10 اکتوبر کو لاہور سے اسلام آباد کے لیے شروع کیا تھا۔ مارچ مریدکے پہنچ کر رک گیا، جہاں کارکنوں نے جی ٹی روڈ بلاک کرنے کی کوشش کی۔
- حکومتی کارروائی: مذاکرات ناکام ہونے کے بعد، حکومت نے راستے روکنے کے لیے خندقیں کھود دیں۔ 12-13 اکتوبر کی درمیانی شب پولیس اور رینجرز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن شروع کیا۔
- تشدد کا آغاز: پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے پتھراؤ، کیل دار ڈنڈوں، پیٹرول بموں اور مبینہ فائرنگ سے حملہ کیا، جس کے جواب میں پولیس نے دفاعاً فائرنگ کی۔
ہلاکتوں اور نقصانات
- ہلاکتیں: ایک پولیس انسپیکٹر (ایس ایچ او محمد شہزاد جھمٹ) سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے، جن میں ٹی ایل پی کارکن شامل ہیں۔
- زخمی: 48 سے زائد پولیس اہلکار اور متعدد مظاہرین زخمی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی شدید زخمی اور گرفتار ہوئے ہیں، جبکہ ٹی ایل پی نے ان پر تین گولیاں چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔
- نقصانات: مظاہرین نے گاڑیوں اور دکانوں کو نذر آتش کیا، جبکہ پولیس نے ٹی ایل پی کی جائیدادوں کو نشانہ بنایا۔ لاہور اور آس پاس کے راستے عارضی طور پر بند ہیں۔
فریقین کے الزامات
- پولیس کا موقف: مظاہرین نے بغاوت کی کوشش کی اور پولیس پر حملہ کیا۔ آپریشن کو "امن بحال کرنے” کی کارروائی قرار دیا گیا، جس کی نگرانی IG پولیس اور وزیر داخلہ نے کی۔
- ٹی ایل پی کا دعویٰ: پولیس نے مظاہرین پر "اندھا دھند فائرنگ” کی اور سعد رضوی کو نشانہ بنایا۔ ٹی ایل پی نے اسے "ریاستی دہشت گردی” قرار دیا اور مذاکرات کے باوجود "فتنہ” پھیلانے کا الزام لگایا۔
موجودہ صورتحال
- آپریشن مکمل ہو چکا ہے، اور صفائی کا عمل جاری ہے۔ ایم-2 موٹروی بند ہے، لیکن حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان مذاکرات میں "مثبت پیش رفت” کی اطلاعات ہیں۔
- سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ٹی ایل پی کے حامی ہلاکتوں کو "شہادت” اور مخالفین اسے "بغاوت” قرار دے رہے ہیں۔ فوج کے ہیلی کاپٹر حملوں کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں، لیکن ان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ واقعہ 2017 اور 2021 کے ٹی ایل پی احتجاجات کی یاد دلاتا ہے، جہاں بھی تشدد دیکھا گیا تھا۔ صورتحال مسلسل بدل رہی ہے، اس لیے تازہ معلومات کے لیے معتبر ذرائع (جیسے ARY News، Ummat News) سے رجوع کریں۔ مزید تفصیلات درکار ہوں تو بتائیں!
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں