افغان طالبان نے سابق وزیر اعظم افغانستان انجینئر گلبدین حکمت یار کی ملاقاتوں پر پابندی کے بعد اب بیرون ملک سفر پر بھی پابندی لگا دی

انجینئر گلبدین حکمت یار

افغان طالبان حکومت نے سابق افغان وزیر اعظم اور حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ انجینیئر گلبدین حکمت یار کو بیرون ملک سفر کرنے سے روک دیا ہے۔ اس بات کی تصدیق حکمت یار کے بیٹے حبیب الرحمن حکمت یار نے کی۔

ذرائع کے مطابق، طالبان نے حکمت یار پر یہ پابندی ان کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے عائد کی ہے۔ طالبان کی جانب سے پہلے بھی حکمت یار کو سیاسی بیانات دینے اور ملاقاتوں سے روکا جا چکا ہے۔ یہ تازہ قدم طالبان کی مخالف آوازوں کو دبانے کی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

انجینیئر گلبدین حکمت یار: مکمل تعارف

نام: گلبدین حکمت یار
پیدائش: 1 اگست 1949 (عمر: 76 سال، 2025 تک)
مقام پیدائش: کندز، افغانستان
پیشہ: سیاستدان، مجاہد رہنما، سابق وزیر اعظم، حزب اسلامی کے بانی و سربراہ
قومیت: افغان
مذہب: سنی اسلام
سیاسی جماعت: حزب اسلامی افغانستان


زندگی اور ابتدائی پس منظر

گلبدین حکمت یار ایک معروف افغان سیاستدان، سابق مجاہد رہنما، اور حزب اسلامی افغانستان کے بانی ہیں۔ وہ 1949 میں افغانستان کے صوبہ کندز کے ایک پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے، جو غلبزئی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے والد ایک زمیندار تھے، اور ان کی ابتدائی تعلیم مقامی اسکولوں میں ہوئی۔ بعد میں انہوں نے کابل یونیورسٹی سے انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی، جس کی وجہ سے انہیں "انجینیئر” کا لقب ملا۔

1970 کی دہائی میں، حکمت یار نے کابل یونیورسٹی میں طلبہ سیاست میں حصہ لیا اور اسلامی تحریکات سے متاثر ہوئے۔ وہ مسلم یوتھ آرگنائزیشن کے رکن بنے، جو بعد میں ایک زیادہ منظم سیاسی اور عسکری تنظیم کی شکل اختیار کر گئی۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں 1970 کی دہائی میں گرفتار بھی کیا گیا، لیکن وہ بعد میں رہا ہوئے اور پاکستان فرار ہوگئے۔


حزب اسلامی کا قیام اور سوویت جنگ

1975 میں، گلبدین حکمت یار نے حزب اسلامی افغانستان کی بنیاد رکھی، جو ایک سنی اسلامی سیاسی اور عسکری تنظیم تھی۔ اس تنظیم کا مقصد افغانستان میں ایک اسلامی نظام کا قیام تھا۔ 1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد، حکمت یار سوویت مخالف جہاد کے اہم رہنماؤں میں سے ایک بن گئے۔ ان کی تنظیم نے پاکستان کی حمایت سے، جو اس وقت امریکی امداد حاصل کر رہا تھا، سوویت فوجوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑی۔

حزب اسلامی کو اس وقت امریکہ، پاکستان، اور سعودی عرب سے بھرپور مالی اور عسکری امداد حاصل تھی۔ حکمت یار کی قیادت میں یہ تنظیم سوویت مخالف جنگ میں ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھری۔ تاہم، حکمت یار کی سخت گیر پالیسیوں اور دیگر مجاہد گروپوں سے تنازعات نے ان کی ساکھ کو متنازع بنایا۔


افغان خانہ جنگی اور وزارت عظمیٰ

1992 میں سوویت فوجوں کے انخلا اور نجیب اللہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد، افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ اس دوران حکمت یار کو دو بار (1993-1994 اور 1996 میں مختصر مدت کے لیے) افغانستان کا وزیر اعظم نامزد کیا گیا۔ تاہم، ان کی قیادت کے دوران کابل میں شدید لڑائی ہوئی، جس کی وجہ سے ہزاروں شہری ہلاک ہوئے۔ حکمت یار پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے کابل پر راکٹ حملے کیے، جس سے شہر کو شدید نقصان پہنچا۔

1996 میں جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا، حکمت یار ایران فرار ہو گئے، جہاں وہ کئی سال تک جلاوطنی میں رہے۔ اس دوران انہوں نے طالبان کے خلاف بیانات دیے اور ان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔


واپسی اور طالبان کے ساتھ تعلقات

2016 میں، حکمت یار نے افغان حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا اور کابل واپس آئے۔ اس معاہدے کے تحت ان پر عائد تمام قانونی پابندیاں ہٹائی گئیں، اور انہیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ تاہم، 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، حکمت یار کے طالبان کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے۔

طالبان نے ان پر متعدد پابندیاں عائد کیں، جیسے کہ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی، تقریر کرنے سے روکنا، اور حال ہی میں (اکتوبر 2025) انہیں بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا۔ حکمت یار کے بیٹے حبیب الرحمن نے دعویٰ کیا کہ یہ پابندیاں طالبان کی جانب سے ان کے والد کی سیاسی آزادیوں کو محدود کرنے کی کوشش ہیں۔


ذاتی زندگی

گلبدین حکمت یار کی شادی ہوئی ہے، اور ان کے کئی بچے ہیں، جن میں سے حبیب الرحمن حکمت یار سب سے زیادہ فعال ہیں اور اپنے والد کے سیاسی موقف کی ترجمانی کرتے ہیں۔ حکمت یار ایک سخت گیر اسلامی نظریات کے حامل رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں، لیکن ان کی قیادت کے انداز اور فیصلوں پر اکثر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔


سیاسی نظریات

  • اسلامی نظام: حکمت یار ایک سخت گیر اسلامی نظام کے حامی ہیں اور مانتے ہیں کہ افغانستان میں ایک شرعی حکومت ہونی چاہیے۔
  • قوم پرستی: وہ افغان قوم پرستی کے بھی حامی ہیں اور غیر ملکی مداخلت کے سخت مخالف ہیں، چاہے وہ سوویت یونین ہو، امریکہ ہو، یا کوئی اور ملک۔
  • تنازعات: حکمت یار کے دیگر افغان رہنماؤں جیسے احمد شاہ مسعود، برہان الدین ربانی، اور طالبان کے ساتھ تاریخی تنازعات رہے ہیں۔

موجودہ صورتحال (2025)

2025 تک، گلبدین حکمت یار کابل میں مقیم ہیں، لیکن طالبان کی پابندیوں کی وجہ سے ان کی سیاسی سرگرمیاں محدود ہیں۔ اکتوبر 2025 میں طالبان نے انہیں بیرون ملک سفر سے روک دیا، جس سے ان کے اور طالبان کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا۔ وہ اب بھی ایک اہم سیاسی شخصیت ہیں، لیکن ان کا اثر و رسوخ 1980 اور 1990 کی دہائی کے مقابلے میں کافی کم ہو چکا ہے۔


تنقید اور میراث

گلبدین حکمت یار ایک متنازع شخصیت ہیں۔ کچھ لوگ انہیں سوویت مخالف جہاد کے ہیرو کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ دیگر انہیں افغان خانہ جنگی کے دوران ہونے والی تباہی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان کی قیادت، فیصلہ سازی، اور سخت گیر نظریات پر تنقید ہوتی رہی ہے، لیکن وہ Afghan سیاسی منظر نامے میں ایک اہم کردار رکھتے ہیں۔


اہم نکات

  • سوویت جنگ: سوویت فوجوں کے خلاف جہاد میں کلیدی کردار۔
  • وزارت عظمیٰ: 1993-1994 اور 1996 میں مختصر مدت کے لیے وزیر اعظم رہے۔
  • جلاوطنی: 1996 سے 2016 تک ایران میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔
  • طالبان کے ساتھ تعلقات: طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کشیدہ تعلقات۔
  • حالیہ پابندی: اکتوبر 2025 میں طالبان نے انہیں بیرون ملک سفر سے روک دیا۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے