افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورہ انڈیا کے دوران، نئی دہلی میں Afghan Embassy میں ہونے والی پہلی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو شرکت کی اجازت نہ دی گئی، حالانکہ انہوں نے لباس کے ضابطوں کی پابندی کی تھی۔ اس فیصلے پر بھارت بھر میں شدید تنقید ہوئی:
- سیاسی ردعمل: کانگریس رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ یہ "ہر بھارتی خاتون کے لیے توہین” ہے۔ پریانکا گاندھی نے وضاحت طلب کی، جبکہ مہوا موئترا نے اسے "شرمناک” قرار دیا۔
- میڈیا اور عوام: ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا اور انڈین ویمن پریس کارپس نے مذمت کی۔ سوشل میڈیا پر #TalibanInIndia ٹرینڈ کیا، جہاں لوگوں نے اسے طالبان کی "مردانہ تہذیب” کا مظہر کہا۔
- بھارتی حکومت: وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ Afghan Embassy کا فیصلہ تھا، اور انہوں نے خواتین کی شمولیت کی تجویز دی تھی، جو مسترد ہوئی۔
دوسری پریس کانفرنس (12 اکتوبر 2025، نئی دہلی)
شدید تنقید کے بعد طالبان نے ایک "شامل” پریس کانفرنس منعقد کی، جس میں خواتین صحافیوں کو مدعو کیا گیا۔ 50 سے زائد صحافیوں میں خواتین نمایاں تھیں۔ امیر متقی کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا:
- خواتین کے حقوق: صحافیوں نے Afghan لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت پر پابندیوں پر سوال اٹھائے۔ متقی نے کہا کہ تعلیم "حرام نہیں”، یہ "عارضی” ہے اور سپریم لیڈر کے حکم کا انتظار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2.8 ملین لڑکیاں سکولوں میں ہیں، لیکن یونیسکو کی رپورٹس اس کی تردید کرتی ہیں۔
- علاقائی مسائل: پاکستان کے ساتھ تنازعہ پر کہا کہ "امن کی کوشش جاری ہے”۔ انڈیا کو "قریبی دوست” قرار دیا۔
- دفاع: متقی نے جنسی علیحدگی کی پالیسیوں کو "قومی روایات” قرار دیا، جو علاقائی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں