آج طالبان کے اسلامی ورژن پر گفتگو کرتے ہوئے ہم نے کہا کہ طالبان جو تہذیب پیش کرتی ہے یا میڈیا جس پر ہنگامہ کرتی ہے وہ اسلامی تہذیب سے زیادہ ان کی علاقائی تہذیب ہے جس کی اسلام میں گنجائش موجود ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ یہی اسلام ہے اور یہی اسلامی تہذیب ہے اور اس کے علاوہ سب غلط ہے تو یہ بات قابل اصلاح قابل تنقید ہے، ہم نے مزید کہا کہ اسلام نے علاقائی تہذیب کا احترام کیا ہے، اپنے دامن میں اس کو جگہ دی ہے اور ساتھ میں اس میں پائی جانے والی کمیوں کو حکمت اور مصلحت سے دور کرنے کی کوشش کی ہے، تہذیب کا تصادم تو خالص مغربی سوچ ہے اسلام میں تو تہذیب کی اصلاح ہے.
اسلام ایک عالمگیر دین ہے جو مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں میں رچ بس کر ان کے مثبت پہلوؤں کو اپناتا ہے، جبکہ اس کے بنیادی اصول—عدل، رحم، اور انسانیت—ہر جگہ یکساں رہتے ہیں۔ طالبان کا جو ورژن میڈیا میں پیش کیا جاتا ہے یا وہ خود پیش کرتے ہیں، وہ بعض اوقات ان بنیادی اصولوں سے انحراف کرتا ہے اور اسے علاقائی روایات یا سیاسی ایجنڈوں کے ساتھ ملا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہی واحد "اسلامی تہذیب” ہے، تو یہ ایک محدود اور ناقص فہم ہے۔
یہ تنقید اس لیے ضروری ہے کہ اسلام کی وسعت اور اس کی لچک کو سمجھنے کے لیے ہمیں اسے کسی ایک گروہ یا علاقائی تشریح تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ اسلامی تہذیب نے تاریخی طور پر مختلف خطوں—جیسے کہ اندلس، عثمانی سلطنت، یا مغلیہ ہندوستان—میں مختلف شکلیں اختیار کیں، لیکن اس کا جوہر ہمیشہ قرآن و سنت سے جڑا رہا۔ طالبان کے طرز عمل کو تنقیدی طور پر پرکھنا اور اسے اسلام کے عالمگیر اصولوں سے موازنہ کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ ضروری بھی ہے تاکہ دین کی صحیح تصویر واضح ہو۔
اسی گفتگو کے دوران ہم نے مخاطبین کو سموئیل پی ھنٹنگٹن کی مشہور زمانہ کتاب "تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو” کے پڑھنے کا مشورہ دیا اورساتھ میں یاسین مظہر صدیقی صاحب اور محمود أحمد غازی صاحب کی کتابوں کے مطالعہ کا مشورہ دیا.
اس دوران مجھے یاد آیا کہ تہذیبوں کا تصام کتاب ہم نے بہت پہلے خرید لی تھی لیکن اب تک مطالعہ کی میز پر یہ کتاب نہیں پہنچ پائی تھی، آج کی گفتگو سے اس کتاب کے مطالعہ کا شوق جاگا اور ہم نے اس کتاب کو اپنی لائبریری سے نکال کر مطالعہ کی میز پر رکھ دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کاروباری مصروفیات کے ساتھ یہ کتاب کتنے دن میں پوری ہوتی ہے…
اچھی بات یہ ہے کہ آنے والے ہفتہ میں دیوالی کی وجہ سے چھٹی رہے گی اور موقع اچھا مل جایے گا الا یہ کہ کہیں بچوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نہ نکل جائیں بہرحال وہ بھی ایک ضروری کام ہے، اللہ تعالی وقت میں برکت عطا فرمائے آمین
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں