سنا ہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اسلام کے نام پر جنگ جاری ہے واہ کیا بات ہے مبارک ہو اہلیان کشمیر کی جانب سے ،اگر غزہ جنگ رُک جانے کے بعد آپ دونوں یہ ناگزیر قدم نہ اٹھاتے تو بڑی کمی رہ جاتی ۔ کشمیری بے چارے خواہ مخواہ ہلکان ہو رہے ہیں بھائیو ایک بات یاد رکھو یہ دنیا بڑی بے رحم ہے یہاں کسی کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے واللہ پہلے بھی کسی کو آپ کی کوئی پرواہ نہیں تھی عالم اسلام کی جھوٹی ہوا کچھ مقامی اردو اخباروں میں ہم جیسے ”مقامی قلمکاروں” نے کھڑی کردی تھی اور کشمیری زبان میں بات کرنے والے کچھ شعلہ بیان مقررین نے ۔ جس کشمیری زبان کو بانہال کی ٹنل کے اس پار کوئی نہیں سمجھتا ہے۔لہذا حالات کا ادراک کرو اور جو کرنا ہے مقامی سطح پر کرو وہ بھی ایسا کام نہ ہو جس کے نتیجے میں آپ کی زندگی اجیرن کر دی جائے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ہر مظلوم کی ہمدردی رکھو چاہیے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ۔
مسلم ممالک کو غزہ نے ننگا کر کے رکھدیا غزہ کی بکھرتی لاشوں اور تڑپتی ماؤں بہنوں کی آوازیں جھوٹے عالم اسلام کے مکار حکمرانوں نے ضرور سنیں مگر کیا کسی کی بندوق اور میزائل چلی؟ کیا کسی جرنیل کی رگ حمیت غزہ کے خونی سیلاب کو دیکھ کر پھڑکی اور کسی حاکم یا جرنیل نے اپنے بمبار جہازوں کو بمباری کا حکم دیا ؟ کشمیریوں کے ساتھ عالم اسلام کا صرف ایک مذہبی رشتہ ہے اور یہ رشتہ پوری دنیا میں کب کا ٹوٹ چکا ہے ! جبکہ اہلیان غزہ و فلسطین کے ساتھ ان کے درجنوں واسطوں سے سینکڑوں رشتے قائم تھے مگر یہ تب بھی بے غیرت ہی نکلے برعکس ان کے پورا مغرب سڑکوں پر نکل کر غزہ والوں کے لئے غمزدہ نظر آیا! تف ہے مسلم حکمرانوں اور ان کی سڑی ہوئی فوج پر۔ کشمیریوں کے لئے اس میں ہزاروں سبق موجود ہیں ۔ یاد رکھیے جنگیں ”نسیم حجازی مرحوم ” کی ناولوں سے متاثر ہو کر صرف جذبات اور نعروں سے نہیں لڑی جاتی ہیں اور نہ ہی ترانوں کی دھن اس میں کام آتی ہے جنگ فوج لڑتی ہے جو ماشاء اللہ عالم اسلام کے پاس کئی سو سال سے نہیں ہے اور اگر کہیں کچھ ہے بھی تو وہ صرف امریکی پہرہ دار ہیں باقی کچھ بھی نہیں ۔
کشمیری ضرب المثل ”خشڈ پاجامس منز گژنہ ز نگ ژنن ” سے اجتناب کرو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم نے ہمیشہ ساری دنیا کے مظلومین کی حمایت کی مگر ہمارے لئے کسی نہ دو لفظ بھی نہیں بولے اور اگر کسی نے کبھی بولے بھی تو اس کا اس میں بھی اپنا مفاد تھا ہمارا نہیں ۔
آپ مجھ سے اختلاف کر سکتے ہیں اور آپ کو اختلاف کرنے کا حق ہے بس گذارش ہے طبعی بخار کے برعکس معنوی بخار میں اپنے آپ کو نہ جلائے اسے خواہ مخواہ طبیعت متاثر ہو جاتی ہے۔
قلمکار: الطاف حسین ندوی کشمیری
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں