یوں تو دنیا میں بے شمار ادیان و فرق اور مذاہب ہیں اور ہر مذہب و ملت کا ایک معبد، عبادت خانہ ضرور ہوتا ہے جسے آپ مندر یا مسجد کہیں یا چرچ اور کے نام سے موسوم کریں،جس میں آدمی اپنے ایمان اور عقیدے کے مطابق اپنے معبود کی عبادت کرتا ہے اور اس کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر افسوس کی بات ہے یہ ہے کہ مذہب اسلام کے علاوہ تمام ادیان و مذاھب اپنے صحیح عقائد و نظریات سے منحرف ہو کر شرک اکبر جیسے کبیرہ گناہ میں ملوث ہو گئے ،
کسی نے اپنی عبادت گاہوں میں خدا کے نام پر اپنے ہی ہاتھوں سے تراشی ہوئی مورتیوں کو خدا مان لیا تو کوئی شمسی تصویر کی پوجا کرنے لگا
کسی نے اپنے معبد میں ہی مزار بنا لی تو کسی نے مزار ہی کو عبادت گاہ بنا دیا جس سے اس مذہب و ملت کی دینی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اس کی روحانیت بھی یکسر ختم ہو گئی
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
وفا جس سے کی بے وفا ہوگیا
جسے بت بنایا خدا ہو گیا
مگر مذہب اسلام کی یہ خوبی ہے کہ اسلام روز اول سے آج تک اپنی حقیقی صورت حال پر برقرار ہے
رب العالمین کا ارشاد ہے
وَّ اَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا
اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو[الجن:18]
یہی سبب ہے کہ الحمدللہ مسلمانوں میں جتنے مسلک اور مذاہب یا فقہی گروہ ہیں گرچہ آپس میں اختلاف رائے رکھتے ہیں مگر ہر مسلک اور مذہب کی مساجد میں اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہیں کی جاتی حتیٰ کہ نہ مساجد میں کوئی مورتی آپ پائیں گے اور نہ ہی کسی کی تصویر جس سے اسلام کی حقانیت ثابت ہوتی ہے
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
مساجد کی تعمیر کی فضیلت
مساجد کی اہمیت اور فضیلت کے لیے اتنی ہی بات کافی ہے کہ مساجد رب العالمین کا گھر اور دنیا میں سب سے مقدس مقام ہوتی ہیں اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” أَحَبُّ البِلَادِ إِلَى اللَّهِ، مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ البِلَادِ إِلَى اللَّهِ، أَسْوَاقُهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک (انسانی) آبادیوں کا پسندیدہ ترین حصہ ان کی مسجدیں ہیں، اور اللہ کے ہاں (انسانی) آبادیوں کا سب سے ناپسندیدہ حصہ ان کے بازار ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد )
لہذا ہر مومن پر واجب ہے کہ وہ رب العالمین کے گھر کی تعمیر میں حصہ لے اور جو انسان اللہ رب العالمین کے گھر کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے اس شخص کے ایمان کی گواہی خود رب العالمین نے دی ہے فرمایا
اِنَّمَا یَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمۡ یَخۡشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰۤی اُولٰٓئِکَ اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُہۡتَدِیۡنَ
اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰة دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں[التوبة:18]
اور ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس شخص کے لیے جنت کے بشارت دی جو اللہ رب العالمین کے گھر کی تعمیر کرتا ہے یا اس کار خیر میں حصہ لیتا ہے فرمایا
مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ "،
جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اس کے مانند گھر بنائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7471
لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی شخص مسجد کی تعمیر میں دامے درمے کچھ تعاون کر کے خود کو جنت کا ٹھیکدار سمجھ لے
ہم میں سے بہت سے مسلمان اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ روزہ نماز اور دیگر فرائض کو نظر انداز کر کے صرف وقتی طور پر دینی کاموں میں کچھ تعاون کر دینے سے ان کا بیڑا پار ہو جائے گا جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا
مسجد تو بنادی شب بھر میں
ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے
برسوں میں نمازی بن نہ سکا
لہذا مساجد کی تعمیر میں حصہ لینے کے ساتھ ایک مومن کا اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ رب العالمین کے گھر کو آباد کرے یعنی وہ پنج وقتہ نمازی بنے رب العالمین ہر مسلمان کو وقت مقررہ پر نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ،
مساجد کا مقصد
مسلمانوں میں شاید ہی کوئی کم ظرف اور نادان ہوگا جو اس بات سے ناواقف ہو کہ مساجد میں صرف اور صرف رب العالمین کی عبادت اور بندگی کی جاتی ہے جہاں پر انسان رب العالمین کے دربار میں سر بسجود ہو کر اپنے رب کی پاکی اور بزرگی بیان کرتا ہے اور شریعت نے اسی کا حکم دیا ہے جیسا کہ رب العالمین کا فرمان ہے
وَّ اَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا
اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو[الجن:18]
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض مسلمان اپنے حقیقی رب اور خالق کائنات، مالک ارض و سماء کی عبادت کرنے کی بجائے در بدر ٹھوکریں کھاتے ہوئے اپنی زندگیوں میں سکون تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے غلط عقائد و نظریات سے مذہب اسلام کے خدوخال کو بگاڑ دیا ہے
اس سلسلے میں یہاں پر میں اپنا ایک ذاتی واقعہ قلم بند کرنا مناسب سمجھوں گا دوران سفر ٹرین میں ایک مرتبہ ہم اپنی سیٹ( Upper Berth )پر آرام کر رہے تھے اور نیچے کچھ لوگ جن میں ہندو مسلم سب شامل تھے آپس میں محوگفتگو تھے ایک غیر مسلم شخص نے کسی مسلمان سے پوچھا کہ بھائی صاحب مجھے مسلمانوں کے تیئں ایک بات سمجھنی ہے وہ یہ کہ
یہ بڑا گھر کیا ہوتا ہے اور چھوٹا گھر کیا ہوتا ہے
مسئول شخص شاید صوفیانہ عقائد رکھتے تھے کہنے لگے بڑے گھر سے مراد اللہ کا گھر یعنی مسجد ہوتی ہے اور چھوٹے گھر سے مراد درگاہ ہوتی ہے تو غیر مسلم نے دوبارہ سوال کیا کہ اچھا بڑے گھر میں اللہ کی عبادت ہوتی ہے تو چھوٹے گھر میں اللہ کی عبادت نہیں ہوتی ؟؟؟
صوفی صاحب فورا گویا ہوئے کہ : نہیں نہیں جناب بڑا گھر بھی اللہ کا ہے اور چھوٹا گھر بھی اللہ کا ہی ہے مگر بڑے گھر میں صرف اللہ کی عبادت ہوتی ہے اور چھوٹے گھر میں اللہ والوں کی،،،
مگر صوفی صاحب اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے،
غیر مسلم کنفیوز( confuse) ہو گیا اور تعجب سے کہنے لگا
بھائی ہم نے تو سنا تھا کہ مسلمان تو صرف اور صرف اللہ کی عبادت اور بندگی کرتے ہیں مگر اب سن رہے ہیں کہ مسلمان اللہ کے علاوہ کسی اور کی بھی عبادت کرتے ہیں ، حیرت ہے
سچ کہا ہے علامہ اقبال نے
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی
تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
مساجد کی صفائی کی فضیلت
مذہب اسلام میں پاکی صفائی کا کیا مقام ہے اور پاکی صفائی کی کتنی تاکید کی گئی ہے یہ جگ ظاہر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو پاکی صفائی کو آدھا ایمان قرار دیا ہے فرمایا
الطُّهُورُ شَطْرُ الإيمانِ . ”طہارت آدھا ایمان ہے“
[صحيح مسلم : ٢٢٣]
اور مساجد کی پاک صفائی کی اہمیت کا اندازہ اپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ خود رب العالمین نے اپنے گھر کو بت پرستی اور تمام چیزوں سے پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ہے فرمایا
وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۱۲۵) (پ۱،البقرة : ۱۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان : اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسمٰعیل کو کہ میرا گھر خوب سُتھرا کرو طواف والوں اور اِعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے ۔
لہذا مساجد اللہ کا گھر ہوا کرتی ہیں ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اللہ رب العالمین کے گھر کی حفاظت کرے یعنی اس کی صاف صفائی کا بھرپور خیال رکھے مگر خدا خیر کرے ہمارے بعض مسلمانوں پر جن کی مساجد، مسجدیں کم اور درگاہیں زیادہ نظر آتی ہیں
اتفاقاً ایک مرتبہ نماز ادا کرنے کے لیے ہم اپنے دوسرے مسلک والوں کی مسجد میں داخل ہوئے تو یہ دیکھ کر ہم حیران اور ششدر رہ گئے کہ یہ مسجد ہے یا کوئی درگاہ، مسجد کو ہرے اور نیلے مختلف رنگوں سے روغن کیا گیا تھا اور چاند تاروں کی شکل میں کئی طرح کے پھول اور ڈیزائن سے مسجد کو سجایا گیا تھا ، خانہ کعبہ اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ بیت المقدس کی تصاویر بھی لگی ہوئی تھیں، ہر نوجوان اور ہر لڑکا اپنی صوابدید سے جو چیز پسند کرتا لا کر مسجد سے چسپاں کر دیتا اور مزید نور علی نور کے تحت اودھ کی خوشبو اور دھوئیں سے پوری مسجد کا منظر کسی درگاہ سے کم نہیں تھا
جبکہ حدیث پاک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کو پاک اور صاف رکھنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے
چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : أمرَنا رسولُ اللهِ ببناءِ المساجدِ في الدُّورِ، وأن تُنظَّفَ وتُطيَّبَ .[صحيح الترغيب : ٢٧٩] ’’رسول اللہ ﷺ نے ہمیں آبادیوں اور کالونیوں میں مسجدیں بنانے کا حکم دیا ہے اور انھیں صاف ستھرا رکھنے اور خوشبو سے معطر کرنے کا حکم دیا ہے‘‘
حتی کہ اسلام میں مساجد کی پاکی اور صفائی کا خیال رکھنے والوں کی بھی بڑی فضیلت اور اہمیت بیان کی گئی ہے حدیث مبارکہ میں مذکور ہے
چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: أنَّ رَجُلًا أسْوَدَ أوِ امْرَأَةً سَوْداءَ كانَ يَقُمُّ المَسْجِدَ فَماتَ، فَسَأَلَ النبيُّ ﷺ عنْه، فَقالوا: ماتَ، قالَ: أفلا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي به دُلُّونِي على قَبْرِهِ – أوْ قالَ قَبْرِها – فأتى قَبْرَها فَصَلّى عَلَيْها.[صحيح بخاری : ٤٥٨] ” ایک سیاہ رنگ عورت مسجد نبوی
میں جھاڑو لگاتی تھی یا ایک کالا آدمی تھا جو یہ کام انجام دیتا تھا، پھر اس کا انتقال ہو گیا، رسول اللہ ﷺ نے اس کے تعلق سے پوچھا تو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا : اس کا انتقال ہو گیا ہے ، آپ نے فرمایا : تو تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی ؟ چلو مجھے اس کی قبر بتاؤ ، پھر آپ وہاں تشریف لے گئے اور اس قبر پر نماز جنازہ پڑھی“ ۔
قلمکار: ڈی محمد خالد جامعی سلفی ندوی کرناٹک انڈیا
فون نمبر: 9620813295
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !