"یہ میرا ہے” ایک سادہ اور مختصر جملہ ہے، لیکن اس کا مفہوم اس وقت تک واضح نہیں ہوگا جب تک کہ "یہ” کا مشار الیہ نہ معلوم ہو۔ اگر آپ نے متکلم کو اپنے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا، تو آپ سمجھ جائیں گے کہ وہ گھر کو اپنا بتا رہا ہے۔ مشار الیہ کبھی خارجی ہوتا ہے، یعنی عبارت میں اس کا وجود نہیں ہوتا، جیسا کہ مذکورہ مثال میں آپ نے دیکھا، اور کبھی داخلی ہوتا ہے، مثلاً: "وہ کتاب میری ہے”۔ اس مثال میں "وہ” کا مشار الیہ یعنی "کتاب” جملے کے اندر موجود ہے، اور کتاب سے کون سی کتاب مراد ہے، اس کے لیے آپ کو خارجی مشار الیہ جاننا ضروری ہے۔ عام طور سے انسانی کلام داخلی اور خارجی دونوں قسم کے مشار الیہ پر مشتمل ہوتا ہے، مثلاً: "شاہجہان نے تاج محل تعمیر کیا”۔ اس جملے میں تعمیر کرنے والے اور تعمیر شدہ دونوں کا ذکر ہے، یہ داخلی مشار الیہ ہوا، اور شاہجہان کون ہے؟ اور تاج محل کیا ہے؟ ان دونوں کا ذکر کلام میں نہیں، ان کو متعین کرنے کے لیے آپ کو خارجی مشار الیہ کا جاننا ضروری ہوگا۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
انسانی زبان ایک اشارہ ہے، کسی کلام یا تحریر کے سمجھنے کے لیے داخلی اور خارجی مشار الیہ کا جاننا لازمی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم اسے داخلی اور خارجی سیاق سے تعبیر کرتے ہیں۔ داخلی سیاق کلام یا تحریر میں موجود ہوتا ہے، اور خارجی سیاق سے مراد اس کلام یا تحریر کا وقت، محل، ماحول اور دوسرے متعلق ہیں۔ جو لوگ سیاق سے واقف نہیں ہوتے وہ بات کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
جب انسان گفتگو کرتا ہے تو سارے سیاق و سباق ذکر نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنے مخاطب کی رعایت کرتا ہے۔ جو باتیں مخاطب پہلے سے جانتا ہے، ان کا تذکرہ فضول سمجھا جاتا ہے۔ متکلم کے لیے صرف وہ تفصیلات فراہم کرنا ضروری ہے جن سے مخاطب واقف نہیں، یا جو اس کے لیے مبہم اور غیر واضح ہیں۔
قرآنِ کریم میں اس کی مکمل رعایت کی گئی ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے: "فَعَصَى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ”، یعنی فرعون نے پیغمبر کی بات نہیں مانی۔ یہاں پیغمبر سے کون مراد ہے؟ اس کا تذکرہ عبارت میں نہیں، لیکن جو قرآن کے ابتدائی مخاطبین تھے وہ جانتے تھے کہ جس پیغمبر کو فرعون کے پاس بھیجا گیا تھا، وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے۔
یا مثلاً کہا گیا: "إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ” (آل عمران: 96)
یہاں خانۂ کعبہ کو پہلا گھر کہا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کعبہ کس حیثیت سے پہلا گھر ہے؟ اس کے بعد کے فرمان: "وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ” (آل عمران: 97) اور دوسری تفصیلات سے معلوم ہوا کہ آیت کا مفہوم ہے: "إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِحَجِّ النَّاسِ” یعنی حج کی غرض سے یہ پہلا گھر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس مفہوم کو سورۃ الحج کی آیات 25 تا 29 میں مزید کھول دیا گیا ہے۔
اسی لیے قرآنِ کریم کی عام آیات کو سمجھنے کے لیے ان آیات کے ان متعلق کا علم ضروری ہے جو مخاطبینِ اولیں کو حاصل تھا۔ اس میں اُس وقت کی عربی زبان، عرب تاریخ، عرب تہذیب و ثقافت، مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیہ و اقوام وغیرہ کا علم داخل ہے۔
یہ چیزیں قرآنی آیات کا مشار الیہ ضرور ہیں، لیکن قرآنی ہدایات کا حوالہ نہیں۔ ان کے لیے نبیِ کریم ﷺ کی سنتوں کا علم ضروری ہے۔ سنت قرآنی ہدایت کی مشار الیہ ہے۔ اقامتِ صلاۃ، زکوٰۃ، حج، معاشرتی امور وغیرہ کی قرآنی ہدایات سنتِ نبوی کی تفصیلات کے بغیر نہیں سمجھی جا سکتیں۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا:
"صلوا كما رأيتموني أصلي”
اور فرمایا: "خذوا عني مناسككم” وغیرہ۔
یہاں غلطی ان لوگوں سے ہوتی ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم قرآنِ کریم کو بغیر کسی خارجی حوالے کے سمجھ سکتے ہیں، حالانکہ یہ بات کسی بھی کلام کے لیے درست نہیں۔ قرآن فہمی میں جہالتوں، گمراہیوں اور غلطیوں کی بنیادی وجہ سنت سے ناواقفیت یا سنت کو نظرانداز کرنا ہے۔
قلمکار: ڈاکٹر محمد اکرام ندوی
آکسفورڈ لندن
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !