در حقیقت یہ کتاب مصری نژاد مصنف د.حمدی شاہین کی ” الدولة الأموية المفترى عليها ” کا اردو ترجمہ ہے، ڈاکٹر صاحب تاریخ اور اسلامی تہذیب کے پروفیسر ہیں، یہ کتاب آج سے تقریباً چالیس سال قبل لکھی گئی تھی، اس ترجمہ کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خود مصنف نے مترجِم کی کاوشوں کو سراہا ہے اور مباحث سمجھنے کے لئے مہینوں رابطے میں رہنے کا تذکرہ کیا ہے، کتاب کا آغاز محمد فہد حارث کے پیش لفظ سے ہوتا ہے جو اموی تاریخ کے حوالے سے عصر جدید کے مفکرین ؛ عبید الله سندھی، د. مصطفی سباعی اور پروفیسر عبد القیوم کی آراء اور تاریخی تنقیح کے متعلق اقتباسات سے مزین ہے۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
کتاب کے داخلی مباحث نہایت عمدہ اور تحقیقی ہے، پروفیسر یاسین مظہر صدیقی صاحب نے اس بات پر افسوس کا اظہار فرمایا تھا کہ کاش خلافت بنو امیہ کی سیاسی، علمی، معاشرتی، معاشی اور عسکری حالات پر مثبت تاریخ لکھی جاتیں! مذکورہ کتاب سمجھ لیجئے کہ مظہر صدیقی صاحب کی امیدوں کا چراغ ہے، اموی خلافت کے ہر پہلو پر نہ صرف مفصّل کلام کیا ہے بلکہ اموی خلافت کے چہرہ کو داغدار کرنے والے اعتراضات کا بھرپور جائزہ بھی لیا ہے، منفی اثرات، غیر ضروری اعتراضات اور سیاسی عصبیت کی وجہ سے اموی خلافت کی جو تصویر ہمارے بھولے بھالے قارئین کی نظروں میں ہیں، اس کے بجائے یہ کتاب مثبت تاریخی تہذیب، تعمیری کمالات، دینی و علمی اثرات، معاشی و عسکری ترقیوں کا مطالعہ پیش کرتی ہے، کتاب کے مطالعہ کے بعد قارئین اپنے روشن ماضی پر فخر محسوس کریں گے، نوجوان مستشرقین کی قلابازیوں سے واقف ہوں گے اور اسلامی تاریخ میں پیوستہ شیعی اثرات کو محسوس کریں گے۔
مصنف نے مقدمہ سے آغاز کرنے کے بعد تقریباً ۱۷۰ صفحات تک اموی تاریخ کی تحریف کے دلائل کا جائزہ لیا ہے، تاریخ نگاری میں کونسے اصول نظر انداز کئے گئے ہیں، مثلا؛ مخالف تحریکوں کے مقابلے میں اموی دفاع کو جرم قرار دیا گیا، اموی خلافت کے خلاف موالی کا کردار، اور اموی خلافت کے زوال کے بعد جو تاریخ کی کتابیں منظرِ عام ہوئیں انھوں نے دروغ گوئی کا بھرپور فایدہ اٹھایا، اس اعتبار سے یہ پوری مفصل بحث اصولی و علمی ہے، تاریخ کا طالب علم اسے پڑھے گا تو محسوس کرے گا کہ واقعی علم کا دریا بہہ رہا ہے۔
انھیں صفحات میں اموی تاریخ کی تدوین پر سیاسی گروہ بندی کے اثرات کا پردہ بھی چاک کیا گیا ہے، خصوصا شیعہ، موالی، معتزلہ، شعوبیوں اور عباسی اقتدار کے اثرات کا خوب جائزہ لیا گیا ہے، تاریخی مصادر کے راویوں ؛ عوانہ بن حکم، ابو مِخنف، ہشام کلبی، ہیثم بن عدی، واقدی، علی مدائنی اور معمر بن مثنی کی علمی سرگزشت و تاریخی رجحانات کو بیان کیا ہے، اس کے بعد جو کچھ بیان کیا ہے وہ کتاب کا نہایت حسین باب ہے، قدیم مؤرخین، قدیم ادباء اور قدیم فقہاء کی تحریروں میں اموی خلفاء و امراء کا مطالعہ، اور پھر معاصر مؤرخین اور معاصر ادباء کی تحریروں میں اموی خلفاء و امراء کے متعلق رجحانات کا جائزہ لیا ہے۔
دلچسپ بات یہ کہ اموی معاشرہ کو جن مؤرخین نے فاسق، بد تہذیب اور عیاش باور کرایا ہے، ان کے دلائل کا اکثر دار و مدار ادباء کی گپ بازیوں یا شعراء کی خیال آرائیوں کا نتیجہ ہے، کسی بھی معاشرہ کی صورتحال کے لئے واقعاتی دلائل زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور اس معاشرہ کے مجموعی اخلاق و کردار زیادہ اہم ہیں، حالانکہ اموی معاشرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور ان کے تربیت یافتہ لوگوں کا معاشرہ تھا، جہاں معمولی خرابیوں کے باوجود بہت زیادہ اعلیٰ کردار کے حامل لوگ تھے، حکمران مطلق العنان ہونے کے بجائے خدا پرست، علم کے رسیا اور انسانی ہمدردی کے حامل تھے، اس کے باوجود سیاسی حریفوں، عربوں کے دشمن موالی، اور عراقی شیعوں نے چند واقعات کی دھندھلی سی تصویر پیش کرکے مظلومیت کا خوب نوحہ کیا، جبکہ اصل حقائق کچھ اَور تھے۔
صفحہ نمبر ۱۷۳ سے لیکر کتاب مکمل ہونے تک مصنف نے اموی خلافت پر وارد ایک ایک اعتراض کا جواب دیا ہے، جوابات بھی وہ جو قاری کو مطمئن کریں، تحقیقی، علمی اور مصنف کے وسعتِ مطالعہ پر دلالت کرتے ہیں، میں یہاں سے کچھ اس قسم کے سوالات کا خلاصہ پیش کرتا ہوں؛
سیدہ ھند بنت عتبہ پر جگر خوارہ اور مثلہ کرنے کا الزام، اسلامِ سیدنا ابو سفیان کے متعلق شکوک و شبھات کا مفصل جائزہ لیا ہے، اس سلسلے میں جو دلیل ذکر کی جاتی ہے کہ انھوں نے سیدنا ابو بکر صدیق کی خلافت پر کچھ بے اطمینانی کا اظہار کیا تھا، سیدنا ابو بکر صدیق کی خلافت پر بے اطمینانی کا اظہار کرنا اسلام کے مشکوک ہونے کی دلیل کیسے بن گئی؟ جبکہ یہی اظہار سیدنا علی المرتضیٰ، سیدنا سعد بن عبادہ نے بھی کیا تھا جو پکے سچے مخلص مومن تھے، در اصل یہ قبائلی معاشرہ کی حقیقی صورتحال سے ناواقفیت پر مبنی اعتراض ہے، سیدنا ابو سفیان بن حرب انتہائی مخلص، امانت دار اور وفا شعار صحابی رسول تھے، غزوۂ یرموک کے موقع پر آپ کی عمر ۷۰ سے زائد تھی، مجاھدین میں رغبتِ جھاد ابھارنے کی ذمہ داری انھیں کو سپرد کی گئی تھی، اس جنگ کے سپہ سالار آپ کے صاحب زادے سیدنا یزید بن ابی سفیان تھے، اس کے باوجود ظالم تاریخ نے انھیں اسی واقعہ کو دلیل بنا کر منافق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، مذکورہ کتاب کے اس مقام کو پڑھ کر میری آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور مصنف کی اس تحقیق سے دل عجیب کیفیت محسوس کررہا تھا۔
سیدنا عثمان بن عفان پر اقربا نوازی کے الزام کا جس سلیقہ سے رد کیا ہے وہ مصنف کا ہی کمال ہے، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان کے بیعت نہ کرنے پر مفصل تحقیقی کلام کیا ہے، آرزو تو یہ ہے کہ مواد کا خلاصہ پیش کر دوں لیکن تبصرہ کی تنگ دامانی اجازت نہیں دیتی۔
ایک فصل کا عنوان ہے "بنو امیہ کی اسلامی احکامات سے دلچسپی”. کمال تحقیقی گفتگو کی گئی ہے، اسی موضوع پر ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی صاحب نے بھی مفصل کتابچہ سپردِ قلم کیا ہے، اس موضوع پر جتنے اعتراضات وارد ہوتے ہیں ایک ایک کا جائزہ لیا گیا ہے، سیدنا مروان پر اعتراضات کے ضمن میں راویوں نے ان کی صحابیت کا بھی لحاظ نہیں کیا، فقیہِ مدینہ، نیک سیرت گورنر کو مکار، عیار اور عہدہ کا غلط استعمال کرنے والا ثابت کیا ہے جبکہ آپ کے فقہی مقام و مرتبہ کی شہادت امام مالک جیسے شخص نے دی ہے، متقدمین کے نزدیک سیدنا مروان بن حکم ایک منفرد فقیہ کے طور پر نکھر کر سامنے آتے ہیں لیکن شیعی اثرات سے آمیز تاریخ نے انھیں کیا کیا کہہ ڈالا، ان کے صاحب زادے امیر عبد الملک بن مروان کی شخصیت پر مفصل کلام کیا ہے، اس سلسلے میں ابن زبیر رضی الله عنہ کے محاصرے میں کعبہ پر سنگ باری کا الزام، خلیفہ سلیمان بن عبد الملک پر موسیٰ بن نصیر، قتیبہ بن مسلم، محمد بن قاسم ثقفی کے متعلق موقف کی خوب وضاحت کی ہے، اس کتاب کے مطالعہ کے بعد وزیرِ عراق حجاج بن یوسف کی شخصیت منفی سے زیادہ مثبت نظر آتی ہے۔
اموی فتوحات کے عنوان سے طویل صفحات میں کلام کیا گیا ہے، اس کے بعد امویوں کے ہاں شوریٰ کی اہمیت اور اسلام میں ولی عہدی کی شرعی حیثیت پر بہت ہی زبردست لکھا ہے، اس موضوع کو مصنف نے ۶۰ سے زائد صفحات میں سمیٹا ہے، پھر اسی ضمن میں اموی خلافت کا معارضت کے حوالے سے دو رویوں کی وضاحت کی ہے کہ جہاں پُر امن معارضت ہوئی کبھی اموی خلفاء و امراء نے مسلّح اقدام نہیں کیا لیکن جب معارضت کرنے والوں نے ہی مسلح جد و جہد کا آغاز کیا تو انھوں نے مسلّح دفاع بھی کیا، سیدنا حسین کی معارضت، سیدنا ابن زبیر کی معارضت، خارجیوں، سبائیوں اور عباسیوں کی معارضت کا حَسین انداز میں جائزہ لیا ہے تاکہ سیدنا حسین اور ابن زبیر کی شخصیت پر بھی قدغن نہ آنے پائے۔
اموی خلفاء پر ایک اعتراض یہ تھا کہ انھوں نے عربی و قبائلی تعصب کا خوب استعمال کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اموی خلفاء نے زیادہ تر معتدل رویہ ہی اپنایا ہے کیونکہ تعصب کی صورت میں مخالفت کا اندیشہ زیادہ بڑھ جاتا ہے، مصنف نے بے شمار موالی وزراء، علماء اور منتظمین کا ذکر کیا ہے جو اموی دربار سے وابستہ تھیں۔امیر عبد الملک بن مروان نے سلطنت کے دفاتر کو عربیانے اور نظام میں عربی زبان کے عمل دخل پر موالیوں کی سازشوں کا بھی پردہ چاک کیا ہے۔
پوری کتاب کے بجائے صرف آخری تین ابواب کا ہی مطالعہ کرلیا جائے تو کتاب خود قاری کو اپنی طرف کھینچ لے گی، اس میں اموی معاشیات کے نظام کو بیان کیا ہے، زراعت پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے، غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے اور نہروں کے ذریعہ آبپاشی کے نظام اور تعمیراتی کارروائیوں کو بیان کیا گیا ہے، ایسا محسوس ہوتا کہ تاریخ میں جو عیاشی کی کہانیاں بیان کی گئی ہے، اگر انھیں قبول کر لیا جائے تو یہ سب تمدنی آثار کب وجود پزیر ہوئیں؟ پھر اموی عہد میں علمی، فقہی اور فکری ترقی کیسے آئیں؟
تبصرہ کافی طویل ہوگیا، غرض یہ ہے کہ کتاب نہایت اہم، تحقیقی اور علمی مباحث پر مشتمل ہے، اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ کہ مصنف بحث کے آغاز ہی میں پوری بحث کا خلاصہ پیش کر دیتے ہیں اس کے بعد مفصل دلائل و براہین بیان کرتے ہیں۔
ترجمہ بھی کافی عمدہ ہے، اتنا زبردست ترجمہ ہے کہ مباحث پڑھنے میں اس قدر غرق ہو جاتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے لئے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ اصل کتاب عربی میں ہیں یا اردو میں، یہ کتاب ایسی ہے کہ جامعہ، مدارس اور یونیورسٹیز کے نصاب میں شامل ہونی چاہئے! میں اس کی اہمیت کو ایسے بیان کروں گا کہ خدا تعالیٰ نے اگر مجھے کسی ادارہ کی نظمِ تعلیم کا ذمہ دیا تو میں اس کتاب کا مطالعہ لازمی قرار دے دوں اور بس۔
الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو خاطر خواہ مقبولیت عطا فرمائے، اور مصنف، مترجم اور خصوصا ناشر برادرم محمد فہد حارث کو اجرِ جزیل عنایت فرمائے!
مصنف: ڈاکٹر حمدی شاہین مصری حفظہ الله
مترجم: حافظ قمر حسن
معاویہ محب الله
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !