شیعہ سنی اتحاد

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

موجودہ دور بلا شبہ فتنے کا دور ہے رسول اللہ ﷺ نے  فرمایا کہ قیامت سے پہلے فتنے تاریک رات کی طرح ہوں گےاور آج ہر سو یہی صورتحال ہمیں نظر آتی ہےاب اتحادِ اُمت کے نام پر بھی لوگ ”انتشار ”پھیلا رہے ہیں اور آج سے چند برس پہلے تک اس کا تصور بھی ممکن نہیں تھا ۔ایک طرف شیعہ سنی اختلافات کا ایک سمندر ہے جس کو شاید الفاظ   کے ذریعےعبور کیا جاسکتا ہےمگر حقیقت میں نہیں اس لئے کہ یہ اختلاف ایک مسئلے یا نقطے میں نہیں بلکہ عقائد ،مراجع ،مآخذ ،روایات ،رسوم اور تاریخ میں بھی ہے وہیں دوسری طرف ہماری نااہلی کے نتیجے میں غیر مسلم دنیا ہم سے سخت ناراض ہے جس کو مطمئن کرنے کے لئے ہمارے پاس نہ کوئی پروگرام ہے اور نہ ہی کوئی مطلوبہ قیادت۔

امت کے وسیع تر مفاد میں  بعض ”شیعہ سنی علماء اور دانشور” مدت دراز سے اس کوشش میں لگے تھے کہ کسی طرح دونوں کے بیچ غلط فہمیاں کم ہوں اس لئے کہ انہیں دور کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے ۔  انہیں  اولین ادوار میں دور کرناقدرے آسان تھا مگر اب یہ صرف ایک خواب ہے ۔ اختلاف جتنا ہی پرانا ہو اسے ختم کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے ۔اس اختلاف کو کم کرنے کے لئے عرب و عجم میں بعض تحریکات نے سنجیدہ کوششیں ضرور کیں مگراس کا  ”اہل سنت ”میں الٹا اثر یہ ظاہر ہوا کہ وہی لوگ اپنے حلقوں میں  بدنام ہو ئے جس کی بڑی دو مثالیں اخوان المسلمین اور جماعت اسلامی کی دی جاسکتی ہیں اس لئے کہ انھوں نے توحید،رسالت اور آخرت کے صرف تین باہم بنیادی مماثلتوں کو لیکر ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہونے کا ایک ”مناسب” نقطہ تلاش کیا تھا۔

یہ بھی صرف ایک ظاہری شکل ضرور تھی تاکہ باہمی سرپھٹول سے کسی طرح  بچا جا سکے اور اپنے الگ الگ حلقوں میں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہونے کے برعکس مشترکہ دشمن کے خلاف اجتماعی یک رُخی جدوجہد کا آغاز کیا جائے ۔امریکہ ،برطانیہ اور اسرائیل نے انہی بنیادوں پران دونوں جماعتوں اور ان کے ہم خیال تنظیموں کو ہر سطح اور ہر محاذ پر ختم کرنے کے لئے کوئی کمی نہیں چھوڑی اور سچ یہ ہے کہ آج کے دن تک انہیں اس میں بڑی کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے ۔

ایران میں آیت اللہ خمینی کےکامیاب  انقلاب کے دن سے لیکر آج تک انہی عزائم کی وجہ سے  مغربی اور یورپی  حکومتوں نے امریکی سرپرستی میں ملک کی معیشت اور ساخت کو مجروح کرنے کے لئے ہزاروں ہتھنکڈے اپنائے اور تازہ ترین اسرائیل کا ایران پر حملہ  بھی اسی سلسلے کی  ایک کڑی تھی اور ٹھیک اسی موقع پر ”شیعہ سنی”مذہبی اور جذباتی کارڈ بھی کھیلا گیا ،اسی پس منظر میں بہت سارے شیعہ سنی لوگ  پرانے مختلف فیہ مسائل کو لیکر سوشل میڈیا کی وساطت سے میدان میں کود پڑے جن میں ایک نئی جماعت مولانا سلمان ندوی صاحب کی شکل میں شامل ہو چکی ہے ۔

یہ نئی قسم اگر چہ شیعہ سنی اختلافات کے خلاف ہے مگر اس بینر کے نیچے  ان کے بیانات اس قدر افسوسناک ہیں کہ ان کا طریقہ کار اور طرز تخاطب اہل سنت کے لئے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہو رہا ہے ۔مولانا اور ان کے ہمنوابالکل متشدد اہلِ تشیع کی طرح حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو لیکر بنو اُمیہ پر چڑھائی کرتے ہیں اور ان کا بیانیہ یہ ہے کہ اس طرح کے لوگ ”منافق” تھے ۔مولانا سلمان صاحب جو حوالے پیش کر رہے ہیں اسے قطعی طور پر یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منافقین کی نشاندہی کر کے صحابہ کو ان کی پوری فہرست بتادی تھی ہاں یہ بات ضرور تھی  کہ  حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو منافقین کے نام بتا دئے تھے مگر انہیں دوسروں پر اس راز کو کھولنے کا حکم نہیں دیا تھا پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہمارے پاس ان منافقین کو جاننے کا کوئی ذریعہ ہی نہیں ہے تو مولانا صحابہ میں منافقین کی تلاش میں اس قدر بے چین اور مضطرب کیوں ہیں ؟اور پھر وہ حضرت امیر معاویہ کو ان میں شامل کیوں کر رہے ہیں ؟

مولانا سلمان ندوی صاحب نے آخری حد یہ عبور کردی کہ حضرت امیر معاویہ کو اس امت کا ”فرعون” قرار دیدیاجس سے مولانا کے تبدیل ہورہے علمی ذوق کا بھی عندیہ ملتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہ مولانا ”عرب مخالفت ”میں اس قدر نچلی سطح تک آچکے ہیں کہ من گھڑت سے من گھڑت بات بھی اپنے مطلب کے لئے استعمال کرنے لگے ہیں نہیں تو مولانا اچھی طرح جانتے ہیں کہ اولاًیہ حدیث سند کے اعتبار سے بعض محدثین کے نزدیک متکلم فیہ ہے دوم اسے مراد ابو جھل ہے نہ کہ امیر معاویہ اور بعض کے نزدیک ولید مراد ہیں ۔

مولانا سید سلمان ندوی صاحب کو بخوبی معلوم ہے کہ ہماری کتابوں میں دونوں نقطہائے نگاہ کے لئے کافی مواد موجود ہے اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مناقب  کتابوں میں تلاش کئے جائیں تو وہ بھی کچھ کم نہیں ہیں اور نہ ہی ان روایات پر کلام کرنے والوں کی کمی ہے حتیٰ کہ ہماری کتابوں میں ”یزید” جیسے ظالم اور فاسق شخص کے لئے بھی کچھ کم مواد موجود نہیں ہے ۔یہ قصور آج کے کسی مسلمان کا نہیں ہے بلکہ یہ مواد ہمارے بڑے بڑے نامی گرامی بزرگوں نے کتابوں میں جمع کیا ہے اور ہمارے نزدیک وہ کتابیں بہت ہی اعلیٰ درجہ کاعلمی سرمایہ ہیں اور مولانا خوب جانتے ہیں کہ ان کے یہ کہنے سے کہ یہ مواد گھڑا گیا یا حکمرانوں کو خوش کرنے کے لئے لکھا گیا  سے کچھ نہیں ہوگا اس لئے کہ ٹھیک اسی مقام پر ان لوگوں کے خلاف بہت زیادہ مواد بھی موجود ہے اگر پہلے مواد کو من گھڑت اور حکمرانوں کی خوشنودی کے لئے تخلیق کردہ مواد مانا جائے تو یہی حکم ان کی مخالفت میں لکھے گئے مواد سے متعلق بھی لگایاجائے گا اور تو اور اسی مواد کے آگے پیچھے انہی بزرگوں کی انہی کتابوں میں اہل بیت رضی اللہ عنھم کے فضائل اور مناقب پر جلدوں کی جلدیں بھریں پڑی ہیں ۔

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒنے کتاب "خلافت و ملوکیت” اکتوبر 1966ء میں لکھی۔ یہ کتاب دراصل بد نام زمانہ  ناصبی محمود احمد عباسی کی کتاب "خلافتِ معاویہ و یزید” کے جواب میں لکھی گئی تھی. مولانا مودودیؒ نے اس کتاب میں اسلامی نظام حکومت، خلافت علی منہاج النبوہ کے بتدریج بادشاہت میں تبدیل ہونے اور اس کے نتیجے میں اسلامی دنیا پر پڑنے والے اثرات پر بحث کی ہےیہ کتاب لکھتے لکھتے مولانا مودودیؒ اہل سنت میں اس قدر بدنام ہو ئے کہ لوگوں نے ”خمینی مودودی بھائی بھائی” کا نعرہ بلند کیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اہل سنت کی اکثریت ان کے دیگر باکمال تصانیف سے استفادے سے محروم رہی اور مولانا جیسے زبردست عالم جماعت اسلامی کے عالم بن کر رہ گئے جو ان کی ذات سے بہت بڑی زیادتی تھی اس لئے کہ مولانا کی سواسو کتابوں میں ”خلافت و ملوکیت”صرف ایک کتاب ہے باقی 124 سے بھی لوگوں نے استفادہ نہیں کیا اور لکھے پڑھے لوگ جانتے ہیں کہ اہل مغرب اور یورپ ان کی دیگر بہترین کتابوں کی وجہ سے مولانا سے کس قدر بیزار ہیں مگر ایک کتاب نے انہیں گویا ”دشمنِ اہلِ سنت” بنادیا حالانکہ خود مولانا ؒ کو اپنی زندگی میں ہی اس کتاب کے مختلف فیہ ہونے کا سخت رنج تھا مگر مولانا جیسے اعلیٰ پایہ مفکر اور عالم کو پہلے سے اس بات کا اندازہ ہو جانا چاہیے تھا کہ یہ موضوع کس قدر مختلف فیہ ،متنازع اور حساس ہے اور اگر مولانا اس موضوع کو نہ چھیڑتے تو شاید بات ہی  کچھ اور ہوتی ۔

چند روز قبل ایک رفیق میرے پاس آئے اور اسی موضوع پر بہت سارے سوالات پوچھے جن میں ایک سوال کافی باوزن تھا کہ آخر اتنے حساس موضوع کو اتنے بڑے علماء جان بوجھ کر موضوع بناتے ہوئے آپ ہی آپ لوگوں کو اپنے سے متنفر ہونے کا ذریعہ کیوں بنتے ہیں ؟میں نے عرض عزیز من دراصل بڑے علماء بھی ”انسان” ہی ہوتے ہیں جن کے لئے تمام تر مسائل کا احاطہ ممکن نہیں ہوتا ہے اورنہ ہی یہ کسی انسان کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ ایک مسئلے کو چھیڑنے کے بعد اس کے حوالے سے تمام تر پہلوؤں کا درست اندازہ اور تخمینہ لگائے،نہ ہی یہ ممکن ہے کہ انسان چاہیے کتنا بڑا عالم کیوں نہ ہو متنازع مسائل پر لکھتے ہو ئے تنازعات اور اختلافات سے بچ سکے گا ۔

ہاں یہ بات درست ہے کہ  ایک عالم سرے سے اختلافی موضوعات کو نہ چھیڑ کر دیگر اہم مسائل پر اپنی توانائیاں صرف کریں یہ ممکن بھی ہے اور بہتر بھی ہے اس لئے کہ گذشتہ چودہ سو برس میں ان مسائل پر لکھنے بولنے سے نہ کچھ حاصل ہوا اور نہ مستقبل میں کچھ حاصل ہوگاسوائے عوامی انتشار اور اضطراب کے۔اب جن حضرات کو یہ شوق بے چین کر رہا ہے کہ ہم دودوچار کی طرح ان مسائل پر بات کرتے ہوئے ”حق”کا بول بالا کریں گے وہ یہ شوق بھی پورا کرلیں جیسا کہ آج تک لاکھوں کرتے آ رہے ہیں مگر وہ لوگ یہ  بات ذہن میں رکھیں کہ یہ اختلاف بین المسلمین ہے اور اس میں ”اہل سنت”کے ہاں دودوچار کی طرح کو ئی رائے قائم ہوجانا ممکن نہیں ہے ۔

بعض لوگ یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ اہل تشیع کے ہاں اس مسئلے پر ایک محکم سوچ پائی جاتی ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے ہاں ہماری حدیث اور تاریخ کی کتابیں قابل اعتبار نہیں ہیں اور نہ ہی اہل بیت جس مراد حضرات علی المرتضیٰ ،سید ہ فاطمۃ الزھرااور حسنین کریمین رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین ان کی اولادیں وغیرھم ہیں سے مختلف کوئی رائےمقبول ہے گو چہ ان کے مؤرخین نے بھی بعض مقامات پر برعکس باتیں درج کی ہیں مگر مجموعی طور پر پہلی سوچ ہی ان کی ترجمان ہے ہمارے ہاں تمام تر اصحاب رسولﷺ عادل اور ثقہ ہیں لہذا ان کے آپسی اختلافات کی ہم ایسی ممکنہ تاویل کرتے ہیں جس سے نہ اہل بیت پر کوئی حرف آئے اور نہ ہی اصحاب محمدﷺ کی عدالت مجروح ہو ۔

عمومی طور پر ہم لوگ بہت ساری باتیں نظر انداز کرتے ہیں مثال کے طور ہم دورِ اول میں پیش آئے حالات وواقعات کو بیان کرتے ہوئے یہ بالکل بھول جاتے ہیں کہ اس دور کی تاریخ کا تعلق ”سماعت”پر تھا تحریر پر نہیں ۔ نبی کریم ﷺ کے دور مبارک میں قرآن مقدس بھی لوگوں نے زبانی یاد کررکھا تھا اور بہت کم تحریر ی شکل میں موجود تھا بعد میں مستقبل کے انسانوں کا خیال کرتے ہوئے حضرت عثمان غنی ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے دور میں اس کو مکمل تحریر ی شکل میں جمع کیا گیا اسے آپ احادیث نبویﷺ اور تاریخ اسلام کے تحریری مواد کا بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہیں بعد کے ادوار میں کس عرق ریزی کے ساتھ جمع کیا گیا ہوگا لہذا یہ بات طے ہے کہ اس دور کے حالات و واقعات کو آج کے دور کی طرح نہ ہی فلمایا جاتا تھا نہ ہی قلم بند کیا جاتا تھا جو جس کے ذہن میں یاد رہا اس نے اس کو اپنے الفاظ میں بیان کیا اس لئے کہ تاریخ بیانی قرآن اور احادیث بیانی بھی نہیں ہے کہ ایک انسان اس کو من و عن پیش کرے پھر جب مؤرخین نے یہ باتیں لکھنی شروع کردیں تو تمام ترکوششوں کے باوجود ان کو احساس ہوا کہ ان کے ہاتھ میں بے شمار چیزیں متصادم اور متضاد لگی ہیں لہذا اہل سنت کے کبار علماء نے کسی کی عدالت مجروح کئے بغیر اس میدان میں کف لسان یعنی زبان بندی کو اعتدال پر مبنی موقف سمجھا اور وہ آج تک اس پر قائم ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو اور ہم سب کے سامنے اس کا عدل و انصاف پر مبنی فیصلہ آجائے گا۔

مولانا سید سلمان ندوی کی اس مہم جوئی کا نتیجہ اس وقت سوائے انتشار کے کچھ بھی نہیں ہے نوجوانوں خاص کر اسلام پسند نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اس لایعنی اور لاحاصل جنگ سے اپنے آپ کو دور رکھیں ۔شیعہ سنی اختلافی مسائل میں نہ الجھیں بلکہ انہیں نظرانداز کرکے اپنے ”اصل دشمن”کی اسی طرح پہچان کریں جس طرح وہ آپ سے آپ کی شناخت اور مسلک  پو چھے بغیر غزہ میں چن چن کر مار رہا ہے ۔اس کے نزدیک آپ مسلمان ہیں اور یہی آپ کا جرم ہے اس کو آپ کے قوم،رنگ، نسل ، خاندان اور مسلک سے کوئی غرض نہیں ہے وہ آپ سے آپ کی شناخت پوچھے بغیر عراق اور افغانستان میں مسلمان ممالک کو تباہ و برباد کر رہاہےاور غزہ کی نسل کشی آپ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔وقت اور دانش کا تقاضا ہے کہ خود بھی اس منحوس مہم سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں تاکہ یہ مرض ہمارے  پہلے سےبیمار وجود کو سرطان میں تبدیل نہ کرے ۔

کربلا کا سانحہ اور اُمت مسلمہ کا المیہ !

ایران اسرائیل جنگ کے بیچ شیعہ سنی اختلافات بھڑکانے کی کوششیں زوروں پر ؟

ایران اسرائیل جنگ کے بیچ شیعہ سنی اختلافات بھڑکانے کی کوششیں زوروں پر ؟ قسط :2

مصنف سے رابط اس ای میل پر کیجیے: altafnadvi@gmail.com

Facebook Contact

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے