آپ جب قرآنِ کریم پڑھتے ہیں تو مشکل مقامات کا مفہوم سمجھنے کے لئے اردو یا عربی تفسیروں کا مطالعہ کرتے ہیں، آپ تفسیر ماجدی، تفہیم القرآن یا تدبرِ قرآن دیکھتے ہیں، اور آپ میں جو ہوشیار ہیں وہ صفوة التفاسیر، روح المعانی، تفسیر ابنِ کثیر کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور جو زیادہ ہوشیار ہیں، وہ تفسیرِ طبری، تفسیرِ کشاف اور تفسیرِ کبیر پر نظر ڈالنے کا حوصلہ کرتے ہیں۔ کبھی کبھی آپ اپنے اساتذہ کی رائے معلوم کرتے ہیں، تفسیر کی کتابیں پڑھنے اور اپنے اساتذہ کے اقوال جاننے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے قرآن سمجھ لیا ہے۔
ریاض الصالحین کے طلبہ دلیل الفالحین سے مدد لیتے ہیں، مشکاۃ المصابیح کی جماعت والے مرقاۃ، أشعۃ اللمعات یا مرعاۃ کی ورق گردانی کرتے ہیں، صحیح بخاری کے لئے فتح الباری اور عمدۃ القاری، صحیح مسلم کے لئے شرحِ نووی، سنن ابی داود کے لئے معالم السنن اور عون المعبود، جامع ترمذی کے لئے عارضۃ الأحوذی اور تحفۃ الأحوذی کا مطالعہ کرتے ہیں۔
حماسہ پڑھنے والے مرزوقی اور تبریزی کی شروح پڑھتے ہیں، معلقات کے لئے الزوزنی کی شرح دیکھتے ہیں، یہی حال تمام علوم و فنون کا ہے، کافیہ کی شرحِ ملا جامی، الفیہ کی شرحِ ابنِ عقیل وغیرہ آپ کے حوصلوں کی منزلِ آخریں ہیں۔
یاد رکھیں کہ اس طرزِ تعلیم سے نہ آپ قرآن سمجھیں گے، نہ بخاری، مسلم، ابو داود و ترمذی سمجھیں گے، اور نہ فقہ، ادب اور نحو کا علم حاصل کر سکیں گے۔
کیونکہ آپ قرآن کا مطالعہ نہیں کر رہے ہیں، بلکہ قرآن پر دوسروں کے مطالعوں کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ یہی حال حدیث وغیرہ علوم و فنون کا ہے، آپ ان علوم و فنون کا مطالعہ نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کے مطالعہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ یہ طریقۂ کار آپ کو علم و فن سے دور رکھتا ہے، اور آپ کے درمیان اور علوم کے درمیان ہمیشہ دوسروں کی نظر کا حجاب رہتا ہے۔ آپ کی مثال اس شخص کی ہے جس نے سورج اور چاند نہ دیکھا ہو، البتہ اس کے پاس ان لوگوں کی تحریریں کافی تعداد میں موجود ہوں جنہوں نے سورج اور چاند دیکھا ہے، اور وہ ان کے تجربات کے مطالعے کو سورج اور چاند دیکھنے کے ہم معنی سمجھتا ہے۔
یاد رکھیں کہ بریانی کھانا الگ ہے، اور بریانی کھانے والوں کے تاثرات پڑھنا الگ۔ آپ یہ تاثرات پڑھ کر خود کو بریانی کا ماہر نہ سمجھیں۔ لکھنؤ کی سیر کرنا علیحدہ ہے، اور لکھنؤ کا نقشہ پڑھنا علیحدہ۔
لہٰذا مطالعہ کا مطالعہ نہ کریں، بلکہ چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں، اپنے کان سے سنیں، اپنی ناک سے سونگھیں، اپنی زبان سے چکھیں، اپنے ہاتھ سے چھوئیں، اپنی عقل سے سمجھیں، اور لکھنؤ کی سیر اپنے قدموں پر چل کر کریں۔
آپ سورۂ بقرہ شروع کریں، جو باتیں کہی جا رہی ہیں ان کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کریں، پھر ان خانوں کے درمیان ربط پیدا کریں۔ یہ صحیح ہے کہ قرآن پورا ہم آہنگ ہے، اس کی آیتوں میں باہم کوئی تعارض و اختلاف نہیں۔ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ ابلیس آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور پھر یہی بات ہر جگہ دہرائی گئی ہے، کہیں یہ نہیں ہے کہ شیطان مٹی سے بنا ہے۔ لیکن قرآن کی کوئی بات بجائے خود مکمل نہیں، قرآن کے مختلف مقامات پر پیدا ہونے والے سوالات کا جواب ضروری نہیں کہ وہیں موجود ہو، بلکہ وہ کہیں اور ہوگا۔ مثلاً سورۂ بقرہ کے شروع میں شیطان کا انکار موجود ہے، مگر اس انکار کی تشریح موجود نہیں، اس کی تشریح سورۂ حجر میں ہے۔
ہر خانے میں جو سوالات پیدا ہوں انہیں لکھیں، مزید سوالات پیدا کریں، پھر ان کا جواب خود قرآن میں تلاش کریں۔ جب اچھی طرح یہ سفر طے کر لیں تو پھر دیکھیں کہ دوسرے مطالعہ کرنے والوں سے آپ کا مطالعہ کس قدر مختلف ہے؟ اور آپ میں اور ان میں کتنی ہم آہنگی ہے؟ آپ ان کے مطالعہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
آپ صحیح بخاری پڑھیں تو حدیث "إنما الأعمال بالنیات” پر رک جائیں، یہ دیکھیں کہ حدیث کی کتابوں میں اس کی کتنی سندیں ہیں؟ امام بخاری نے ان سیکڑوں سندوں میں سے صرف سات سندوں کا انتخاب کیوں کیا ہے؟ پھر ان سات طرق کو اپنی کتاب میں کس طرح پھیلایا ہے؟ کس سند اور کس متن کو کہاں جگہ دی ہے؟ پہلی بار یہ حدیث مکمل ہونی چاہیے تھی، پھر یہاں ناقص متن کیوں ہے؟ اس حدیث کا کتاب کی ابتدا اور انتہا سے کیا تعلق ہے؟ باب بدء الوحی میں جس آیت کا انتخاب کیا ہے وہ کیوں باب کے زیادہ مناسب ہے؟
شعرائے عرب اطلال و آثارِ دیار کا ذکر کیوں کرتے ہیں؟ وہ اپنے جن احساسات و جذبات کا ذکر کرتے ہیں کیا ان میں مبالغہ ہوتا ہے؟ یا ہم ان کے جذبات کی شدت کی وجہ جاننے سے قاصر ہیں؟ وہ وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ جو تعبیرات وہ اختیار کرتے ہیں کیا ان کا متبادل ممکن ہے؟ اور اگر ممکن ہے تو ان کے انتخاب کے پیچھے راز کیا ہے؟
حاصل یہ ہے کہ ہر چیز کو اپنی عقل سے سمجھیں، جو چیز آپ نے اپنی عقل سے نہیں سمجھی وہ چیز آپ نے سمجھی ہی نہیں۔ اکثر لوگ جو قرآن، حدیث، نحو، تاریخ، فقہ یا ادب پڑھاتے ہیں وہ دوسروں کا مطالعہ پڑھاتے ہیں، خود ان کا اپنا کوئی مطالعہ نہیں ہوتا۔ آپ ان میں سے نہ بنیں۔