١٩ اکتوبر ٢٠١٧ بروز جمعرات حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب دامت برکاتہم نے دار العلوم ندوۃ العلماء میں ایک اہم علمی و فکری محاضرہ دیا. یہ محاضرہ دو حیثیتوں سے بہت اہم تھا.
ایک تو حضرت مولانا نے تحریک ندوۃ العلماء کے ان دو بنیادی مقاصد کی یاد دہانی کرائی جو عام طور پر ابناء ندوہ کی نظروں سے اوجھل ہے اور دوسرا حضرت مولانا نے تصویر کے مسئلے پر سیر حاصل بحث کی جو بہت تحقیقی، علمی اور فکری تھی.
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
عام طور جب بھی تحریک ندوۃ العلماء اور اس کے مقاصد کا ذکر آتا ہے تو سب کے ذہن میں ایک ہی بات آتی ہے "مدارس کے نصاب و نظام کی اصلاح کرنا تاکہ ایسے علماء تیار کئے جا سکے جو زمانے کے چینجز کا مقابلہ کر سکے” لیکن زمانے کے چیلنجز کیا ہیں اور تحریک ندوۃ العلماء نے اپنی ترجیحات میں کن چیلنجز کو شامل کیا تھا وہ عام طور پر زیر بحث نہیں آتا ہے.
حضرت مولانا نے اپنے محاضرے میں سب سے پہلے اسی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ تحریک ندوۃ العلماء نے جن دو چیزوں کو اپنی ترجیحات میں اولین درجہ دیا تھا وہ یہ ہیں "جدید علم کلام” اور "تجدید فقہ اسلامی”
حضرت نے فرمایا کہ جہاں تک جدید علم کلام کی بات ہے تو علامہ شبلی، علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا عبد الباری ندوی اور حضرت مولانا سید ابو الحسن علی میاں ندوی رحمہم اللہ اور دگر ندوی فضلاء نے اس پر کام کیا ہے اور ان کی تحریروں میں اس پر اچھا خاصا مواد مل جاتا ہے لیکن تجدید فقہ اسلامی کا کام اب تک أبناء ندوہ پر قرض ہے.
مولانا نے فرمایا کہ حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی رح نے تجدید فقہ اسلامی کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے ١٩٦٣ میں دار العلوم ندوۃ العلماء کے احاطے میں "مجلس تحقیقات شرعیہ” کی بنیاد رکھی تھی اور مولانا اسحاق رح کو اس کا ذمہ دار بنایا تھا. مولانا کے پاکستان منتقل ہو جانے کے بعد مولانا برہان الدین صاحب دامت برکاتہم اس کے ذمہ دار بنائے گئے.
مولانا نے پھر ایک بہت اہم بات فرمائی جو تمام أبناء ندوہ کے لیے دعوت فکر و عمل ہے.
مولانا نے فرمایا کہ اگر یہ ادارہ قائم رہتا اور جس طرح کا کام اس ادارے سے سوچا گیا تھا وہ ہوتا تو یہ فقہ اکیڈمی سب سے زیادہ کامیاب اور موثر ہوتی کیونکہ ندوے کے تعلقات عالم عرب سے ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کی تحقیقات پورے عالم عرب تک پہنچتی اور وہاں کی تحقیقات یہاں متعارف ہوتی اور علمی مذاکرات کی ایک نئی راہ کھل جاتی.
جس علمی قرض کی بات مولانا نے اپنے محاضرے کے پہلے حصے میں کی تھی مولانا نے اسی محاضرے کے دوسرے حصے میں اس قرض کی پہلی قسط ادا بھی کر دی.
مولانا نے محاضرے کے دوسرے حصے میں تصویر کے مسئلے پر سیر حاصل بحث کی. دونوں طرف کے دلائل کا جائزہ لیا، حرمت والی احادیث کی علت بیان کی، مختلف احادیث کے درمیان تطبيق دی، قدیم روایات اور جدید تقاضوں کے درمیان ترجیحات کا تعین کیا، خلاصہ یہ کہ اس موضوع پر مولانا کا محاضرہ ایک علمی، فکری و تحقیقی محاضرہ تھا.
یہ صرف ایک محاضرہ نہیں تھا بلکہ تحریک ندوہ العلماء کے بنیادی مقصد "تجدید فقہ اسلامی” کا احیا تھا.
ہم امید کرتے ہیں حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب دامت برکاتہم اس سلسلے کو جاری رکھیں گے اور معاشرے کے سلگتے ہوئے مسائل پر اسی طرح امت کی رہنمائی فرماتے رہیں گے.
ابناء ندوہ بھی اس کام کو انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر کر سکتے ہیں. پھر سے مجلس تحقیقات شرعیہ کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے. سالانہ اس کے اجلاس ہو سکتے ہیں جس میں جدید مسائل پر کھل کر اور پوری وسعت کے ساتھ بحث کی جا سکے اور اپنی رائے سے پوری امت کو آگاہ کیا جا سکے. روایتی انداز سے ہٹ کر سوچا جا سکتا، دلائل پر از سر نو غور کیا جا سکتا ہے جیسا کہ مولانا سلمان صاحب نے تصویر کے معاملے میں اس محاضرے میں کیا ہے ورنہ روایتی انداز سے مسائل بیان کر دینے کے لیے تو پہلے سے بہت ای فقہی اکیڈمیاں اور انجمن موجود ہے
ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ پوری دنیا میں بسنے والے أبناء ندوہ تحریک ندوۃ العلماء کے اس مشن کو آگے بڑھانے میں حصہ لیں گے اور عربی ادب کی طرح فقہ اسلامی میں بھی ندوۃ العلماء کا نام پوری دنیا میں روشن کریں گے.
اگر کچھ أبناء ندوہ آگے بڑھیں اور اس کا بیڑا اٹھا لیں اور حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب دامت برکاتہم کی سرپرستی میں اس کام کو آگے بڑھائیں تو یہ نہ صرف ندوۃ العلماء کے حق میں بہتر ہوگا بلکہ پوری امت کے لیے باعث رحمت ہوگا.
اللہ تعالٰی ہم سب عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین
———————————-
یہ محاضرہ آج سے آٹھ سال پہلے حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب دامت برکاتہ نے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دیا تھا، یہ صرف ایک محاضرہ نہیں تھا بلکہ تحریک ندوہ العلماء کے بنیادی مقصد "تجدید فقہ اسلامی” کا احیا تھا کاش کہ ندوے نے یا ابناء ندوہ نے اس سلسلے کو آگے ہوتا جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے
مولانا سلمان صاحب کے اس طرح کے علمی و فکری محاضرات کو جب سنتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ مولانا میں کتنی خوبیاں ہیں، علم و فکر کے کس مقام پر مولانا فائز ہیں اور مولانا امت کے حق میں اتنے مفید تھے اور ہو سکتے تھے، کتنے بڑے بڑے علمی و فکری موضوعات پر مولانا کام کر سکتے تھے، علماء کی رہنمائی کر سکتے تھے لیکن ہائے افسوس….. بس دعا ہی کی جا سکتی ہے……. رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !