كتاب الرد على المنطقيين
عظیم برطانوی فلسفی، منطقی اور ریاضی دان برٹرینڈ رسل (1872–1970) اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں (1950، ص 395): "جب میں اپنی زندگی کا جائزہ لیتا ہوں تو وہ مجھے ایک بے مقصد زندگی دکھائی دیتی ہے، جو ناقابلِ حصول نظریات کے تعاقب میں صرف ہو گئی۔ میری سرگرمیاں محض عادت کے دباؤ کے تحت جاری ہیں، اور دوسروں کی رفاقت میں میں اُس مایوسی کو بھول جاتا ہوں جو میری روزمرہ جدوجہد اور مسرتوں کی بنیاد میں پوشیدہ ہے۔ لیکن جب میں تنہا اور بے مصروف ہوتا ہوں تو میں خود سے یہ حقیقت چھپا نہیں سکتا کہ میری زندگی کی کوئی واضح غایت نہ تھی، اور یہ کہ مجھے اپنی باقی عمر کو وقف کرنے کے لیے کسی نئی غایت کا بھی علم نہیں۔ میں اپنے آپ کو تنہائی کے ایک وسیع اور گہرے دھندلکے میں گھرا ہوا پاتا ہوں، جو بیک وقت جذباتی بھی ہے اور مابعد الطبیعی بھی، اور جس سے نکلنے کی کوئی راہ مجھے نظر نہیں آتی”۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے تازہ خبر ملے
رسل کے یہ خیالات اُن افراد کی نمائندگی کرتے ہیں جو ایک مخصوص طرزِ استدلال پر اس حیثیت سے اعتماد کرتے ہیں کہ وہی انسان کے لیے اپنی ذات اور اپنے گرد و پیش کی دنیا کو سمجھنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ جب ایک پوری زندگی اسی طرزِ فکر کے لیے وقف کر دی جاتی ہے تو بالآخر خود عقل ہی مایوسی کا باعث بن جاتی ہے، کیونکہ وہ ان حقائق کی توجیہ کرنے سے قاصر رہتی ہے جو سب سے زیادہ عمومی، بنیادی اور بدیہی ہیں: یعنی یہ حقیقت کہ انسان صاحبِ عقل ہے اور دنیا اس کے لیے قابلِ فہم ہے، بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا انسانی تجسس کا تقاضا کرتی ہے اور اس کا جواب بھی دیتی ہے۔ عقل اپنے ہی وجود کی وضاحت نہیں کر سکتی۔ یہ ایک حقیقت ہے، مگر عقل یہ نہیں بتا سکتی کہ ایسا کیوں اور کیسے ہے۔
اسی طرح عقل اس امر کی بھی مکمل وضاحت نہیں کر سکتی کہ ہم اقدار کے تصورات، جیسے محبت، عدل، صداقت، حسن اور مسرت، اور ان کے متضادات، کو کیسے اور کیوں سمجھتے ہیں اور ان کے مطابق ردِّعمل ظاہر کرتے ہیں۔ یہی اقدار ہماری زندگی کے اہم ترین عملی فیصلوں کی بنیاد بنتی ہیں: ہم کس کو اور کس چیز کو پسند یا ناپسند کرتے ہیں، کن مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں، اپنے رویّوں اور طرزِ زندگی کو کس طرح ترتیب دیتے ہیں، اور دوسروں کے ساتھ ہمارا برتاؤ کیسا ہوتا ہے۔ ہم ان اقدار کی ایسی تعریفیں وضع نہیں کر سکتے جو ہر صورتِ حال پر یکساں طور پر منطبق ہوں یا جن پر تمام انسان متفق ہو سکیں۔ اس کے باوجود، جب ہم کسی خاص اور معیّن صورتِ حال میں فیصلہ کرتے ہیں تو ہمیں کسی نہ کسی طور یہ شعور حاصل ہو جاتا ہے کہ ان اقدار کا اظہار کہاں مناسب ہے اور کہاں نہیں۔
تمام انسان ان اقدار کو سمجھتے ہیں اور ان اقدار کے لیے ان كے پاس الفاظ ہوتے ہیں۔ مزید برآں، ان میں عمومی اظہار کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے: وہ اپنے ذہن میں خارجی دنیا کے ادراکات کو محفوظ رکھ سکتے ہیں، انہیں دوسروں تک منتقل کر سکتے ہیں، اور ان ادراکات سے پیدا ہونے والے احساسات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر، انسان بہت سی ایسی چیزوں پر غور و فکر، تذكر اور تخیل بھی کر سکتا ہے جو براہِ راست کسی خارجی محرک سے وابستہ نہیں ہوتیں۔ تمام انسانوں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ خود رو اور منفرد انداز میں اپنے آپ کو ظاہر کریں، خواہ کسی دوسرے فرد کی تحریک ہو یا خارجی دنیا کی، یا پھر کوئی تحریک نہ ہو۔ یہ صلاحیت مختلف ماحول میں مختلف صورتیں اختیار کرتی ہے: انسان سب كے سب ایک ہی زبان نہیں بولتے، مگر سب كے سب زبان رکھتے ہیں۔
انسان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنے ذہنی ادراکات اور تاثرات کو ایک نظامِ علامات میں محفوظ رکھ سکے، جسے ہم زبان کہتے ہیں، اور انہیں خارجی دنیا کی کسی شرط یا واقعیت سے آزاد رکھتے ہوئے ذہن میں قائم رکھ سکے۔ یہی صلاحیت ہمیں یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اشیاء کا موازنہ کریں، نمونے دیکھیں، تشابہات قائم کریں، قیاسات استوار کریں، اور منصوبہ بندی کریں۔ یہی طریقۂ تعلیم ہے: ہم ادراکات اور فیصلوں میں غلطیاں کرتے ہیں، پھر ان غلطیوں کو درست کر کے اپنے ادراکات اور فیصلوں کو بہتر بناتے ہیں؛ ہمارے منصوبے ناکام ہو جاتے ہیں، پھر ہم بہتر منصوبے بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ ہم جو کچھ سیکھتے ہیں اسے اپنی زبان میں محفوظ کر سکتے ہیں، اس لیے سیکھنے کی مقدار اور رفتار مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔ اور یہ ایک حیرت انگیز امر ہے کہ ہم یہ سب کرتے رہتے ہیں اور ہمیں کبھی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہوتی نظر نہیں آتی: ہمارے ذہن اور زبان کے نظام، عملی طور پر، لامحدود ہیں۔
انسان محض دنیا میں دستیاب خوراک، جیسے میوے، اناج، شکار شدہ یا پالے ہوئے جانوروں کا گوشت، جمع نہیں کرتا بلکہ ذائقوں، بناوٹوں اور خوشبوؤں کو جوڑ کر ان کا امتزاج کرتا ہے: وہ پکاتا ہے، اور یوں نہ صرف اپنی بھوک بلکہ اپنی بقاء کی صلاحیت کو بھی بڑھاتا ہے تاکہ مختلف ماحول میں زندہ رہ سکے۔ یہ اصول انسانی سرگرمی کے تمام شعبوں میں صادق آتا ہے۔
جتنی بھی قوت تجسس، لسانی اور عقلی قابلیت انسان میں ہے، ان سب کے باوجود، وہ اپنے عمل میں پوری طرح خود کو نہیں دیکھ سکتا۔ ہم تمام حالات کی پیش گوئی یا ان پر قابو نہیں پاسکتے جو ہمارے خیالات، احساسات، رویوں اور اعمال کو متاثر کرتے ہیں؛ ہم اپنے اعمال کے تمام نتائج کی پیش گوئی نہیں کر سکتے، اور نه انہیں کنٹرول کر سکتے ہیں، نہ اپنے لیے اور نہ اپنے قریبی افراد کے لیے، نيز دور کے لوگوں یا زمین کے حیاتی نظام کے لیے بهى۔ ہم دوسروں کو دیکھتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، لیکن خود اپنے دیکھنے کے عمل کو نہیں دیکھ سکتے۔ یہی حقیقت ہے۔ ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ہمیں موت آئے گی، لیکن ہم اپنے مرنے کے عمل کو خود نہیں گزار سکتے۔ ہم دوسروں کی موت کو دیکھ سکتے ہیں، لیکن اپنی موت کبھی نہیں۔ اسی سرحد پر ہمیں اپنے عميق ترین علم اور فہم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، اور وہ عقل اور زبان جو یہاں ہماری خدمت میں تھیں، اس مقام پر ناکام ہو جاتی ہیں۔ یہی حدودِ مشاہدہ و غیب ہے۔
اسی سرحد کو عبور کرنے کی ضرورت، انسانی مذہبی جذبے کی جڑ ہے۔ اگر غیب کی جانب سے کوئی اطلاع نہ آتی، تو یہ جذبہ وجود میں نہ آ سکتا۔ لیکن یہ موجود ہے۔ ہم بے یقینی کے احساسات میں غرق ہو جاتے ہیں: یہ کہ ہم کیوں وجود رکھتے ہیں حالانکہ ہمیں مرنا ہے، یہ کہ ہمیں دنیا میں ایسے احساسات، محرکات اور اثرات کیوں ملتے ہیں جنہیں ہم پوری طرح نہیں سمجھ سکتے، یہ کہ ہمارا ماضی ہمارے پیچھے رہتا ہے حالانکہ وہ اب موجود نہیں، اور یہ کہ ہم اپنے مستقبل کی طرف بڑی امید اور خوف کے ساتھ دھکیل دیے جاتے ہیں۔ اگر غیب کی جانب سے کوئی اطلاع نہ آتی، تو یہ احساسات ہمیں مفلوج کر دیتے۔ لیکن اطلاع موجود ہے: اسی چیز كو ہم مذہب کہتے ہیں۔ اس کے دنیا میں متعدد مظاہر پائے جاتے ہیں۔ مؤمن کہتے ہیں کہ مذہب کی واحد معتبر صورت وہ ہے جو انبیاء کے ذریعے پہنچائی گئی، وہ لوگ جو خدا کی طرف سے غیب سے آگاہ ہوئے اور غیب کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ مسلمان بے حد خوش قسمت ہیں کہ جو کچھ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں بتایا، وہ قرآن میں مکمل طور پر محفوظ ہے، اور تقریباً اتنی ہی درستگی کے ساتھ آپ کی تعلیمات اور سنت کے ریکارڈ میں بھی محفوظ ہے۔
چونکہ مذہب ہمیں اُن حقائق کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جنہیں ہم نے براہِ راست محسوس نہیں کیا، اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ ہمیشہ ایک تصدیقی عمل سے شروع ہوتا ہے، ہمیں پہلے انبیاء اور ان کی تعلیمات کی صداقت کو ماننا ہوتا ہے، تب جا کر ہم ان تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنا شروع کرتے ہیں، اور ان کی حقیقت ہمارے لیے یقینی ہو جاتی ہے، اسی سبب سے انسان میں ایک رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ مذہب کی مخالفت کرے، انبیاء کے خلاف بغاوت کرے، اور ان کے پیغام سے دھیان ہٹائے۔ یہ رجحان دو شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے:
پہلی صورت میں، یہ مخالفت صریحاً انبیاء کے پیغام کو افسانہ یا فضول کہہ کر مسترد کرنے کی شکل اختیار کرتی ہے۔
دوسری صورت میں، مخالفت اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ پیغام کو محض عوام کے لیے ایک تسلی بخش توہم سمجھ کر قبول کر لیا جائے، تاہم یہ تسلی بھی اصل میں ایک فریب ہی ہے۔ اس قسم کے فریب کے اظہار کے دو طریقے ہیں:
• یا تو فریب کو اس طرح درست کیا جائے کہ پیغام کو فلسفیانہ اصطلاحات اور مجرد تصورات کی زبان میں دوبارہ بیان کیا جائے، اور اسے منطقی دلائل کے منظم سلسلے کے ذریعے پیش کیا جائے؛
• یا یہ کہ ایک مکمل طور پر معارض اور مغالطہ خیز پیغام پیش کیا جائے جو کہ انبیاء کے پیغام کی طرح غیب کے بارے میں بصیرت کا دعویٰ کرتا ہے، مگر بنیادی طور پر انبیاء کے پیغام کے خلاف ہوتا ہے: مثلاً اگر پیغمبر ﷺ تعلیم دیتے ہیں کہ خدا اپنے مخلوقات سے بالکل جدا ہے، تو متبادل پیغام کہتا ہے کہ خدا اور اس کى مخلوق بنیادی طور پر ایک ہی ہیں؛ یا اگر پیغمبر ﷺ کہتے ہیں کہ فرعون ایک ظالم ہے جسے دنیا و آخرت میں سزا دی جائے گی، تو متبادل پیغام کہتا ہے کہ فرعون نے حقیقت کو سمجھ لیا کہ وہ اور خدا بنیادی طور پر ایک ہیں، اور اس لیے فرعون کو مکمل معافی حاصل ہے۔
دونوں ہی طریقوں میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ مخالفین سمجھتے ہیں کہ انبیاء کا پیغام وہ صورت نہیں رکھتا جو اس کی اصل حقیقت ہے؛ جو پیغام کہتا ہے، وہ اصل میں وہ مطلب نہیں دیتا؛ جو کہا گیا ہے وہ حقیقت کے مطابق نہیں۔ مختصراً، دونوں طریقے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وحی حقیقت کو قائم نہیں کرتی، بلکہ صرف ایک دنيوى مذہب کے قواعد و ضوابط قائم کرتی ہے، ایک ایسا طریقہ جو اشرافیہ کے لیے عوام کو قابو میں رکھنے کے کام آتا ہے۔ حقیقت کچھ اور ہے، جسے فلسفی جانتے ہیں، یا جسے اتحادیت پسند صوفیاء کے شیوخ جانتے ہیں۔
ان دونوں طریقوں میں ایک اور مشترک پہلو یہ ہے کہ یہ یونانی فلسفے کی میراث پر مبنی ہیں، حالانکہ فلاسفہ اور متکلمین زیادہ تر ارسطو پر انحصار کرتے ہیں، اور اتحادیت پسند صوفیاء زیادہ تر افلاطون پر۔ ابن تیمیہ کى (الرّد على المنطقیّین) ان دونوں کے خلاف ایک معقول اور منطقی استدلال پر مبنی مقالہ ہے، اور حقیقت پر مبنی فکر کی سب سے بھرپور اور مضبوط دفاعی تحریروں میں شمار ہوتى ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ابن تیمیہ حقیقت پسندانہ فکر کا دفاع کرتے ہیں نہ کہ صرف فکر کے لیے، بلکہ اسلام کو بطورِ عقیدہ اور طرزِ زندگی محفوظ رکھنے کے لیے۔
امام ابن تیمیہ (661–728ھ/1263–1328ء) دمشق کے ایک عظیم مسلمان مفکر تھے۔ روایتی اسلامی علوم میں ان کی مہارت کے علاوہ، وہ منطق، فلسفہ، کلام اور لسانیات میں بھی ماہر تھے۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگر انبیاء نہ ہوتے تو فلسفی زمین پر سب سے بہترین لوگ ہوتے۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ فلسفی درست سوالات اٹھاتے اور غور کرتے ہیں، مگر ان کے پاس وہ مناسب آلات نہیں ہوتے جو ان کے لیے یا انسانیت کے لیے فائدہ مند جوابات فراہم کر سکیں۔ یہ وہ نقطہ ہے جسے انہوں نے اپنی بیشتر اہم تصانیف میں واضح کیا ہے، جیسے (درء التعارض بین العقل و النقل)، (الرّد على المنطقیّین) اور کئی مضامین و مقالات جو مجموعہ الفتاویٰ میں جمع ہیں۔
ابن تیمیہ (الرّد على المنطقیّین) میں فلسفیانہ منطق کے طریقہ کار کے مسائل کی تفصیل سے وضاحت کرتے ہیں، جسے فلسفی درست فکر کے معیار کے طور پر سراہتے ہیں، یعنی جس قدر اہمیت زبان کے لیے قواعدِ نحوی كى ہے، اتنی ہی اہمیت فكر کے لیے منطق كى ہے۔ ابن تيميه کا استدلال یہ ہے کہ ایک ایسا طریقہ کار جو کسی محدود علمی شعبے میں کام کر سکتا ہے، ضروری نہیں کہ دوسرے شعبوں میں بھی کام کرے، اور بالکل بھی انسانی استدلال کے پورے نظام پر لاگو نہیں ہوتا۔ ان کی یونانی منطق پر تنقید یہ نہیں کہ یہ محدود علمی سیاق و سباق میں کام نہیں کرتی، بلکہ یہ کہ اسے ہر علم اور ہر استدلال کی کوشش پر بطور امتحان یا معیار نہیں لگایا جانا چاہیے۔ (فلاسفہ اور متکلمین نے اسے صریحاً ماورائی اور کلامی مسائل میں، اور دوسروں نے فقہ و عربی نحو میں استدلال کے لیے استعمال كیا ہے۔)
ابن تیمیہ نے (الرّد على المنطقیّین) میں ارباب منطق کے چار بنیادی دعووں پر توجہ مرکوز کی ہے:
۱۔ تَصَوُّر (ذہنی مفہوم) صرف حَدّ (ایک مخصوص قسم کی تعریف) کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے؛
۲۔ تَصْدِیق (حکم) صرف قیاس الشمول (ایک مخصوص قسم کی عقلی دلیل) کے بعد ہی قائم کیا جا سکتا ہے؛
۳۔ حدّ معتبر تصوّر کی ضمانت دیتى ہے؛
۴۔ قیاس یقینی یا قریب بیقین تصدیق فراہم کرتا ہے۔
ابن تیمیہ ان چاروں نکات میں منطق دانوں کے نظری اور عملی اطلاقات میں موجود غلطیوں کو واضح طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ فلسفیانہ تفکر کے یونانی طریقوں کے خلاف اپنے بنیادی دلائل تفصیل سے بیان کرتے ہیں، ابن تيقيه كى تنقيد فلاسفہ، متکلمین، صوفيہ اور بعض فقهاء كے مناہج استدلال كو شامل ہے، يعنى وه اسلاميين جنہوں نے فلسفہ کے اثر کو قبول كركے وحى كو نيا رخ ديا۔
ابن تیمیہ کے علمی منصوبے کی سب سے نمایاں خصوصیت خدا اور رسول ﷺ کی تعليمات پر کامل اعتماد ہے۔ وہ علم حاصل کرنے کی راه ميں انسانی عقل کی صلاحیت کا انکار نہیں کرتے، اور نہ ہی اس کے جائز دائرہ کار کو نظرانداز کرتے ہیں۔ بلکہ وہ یہ زور دیتے ہیں کہ ان دائرہ کاروں کے اندر بھی عقل اکثر—بالواسطہ یا بلاواسطہ—ان مقدمات، تقسيمات اور معلومات پر انحصار کرتی ہے جو وحی سے ماخوذ ہیں۔ ابن تیمیہ کے نزدیک، وحی عقل کا انکار نہیں کرتی، بلکہ اسے مکمل، درست اور مستقيم سمت فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا، انبیاء کے ذریعے پہنچایا گیا علم محض عقلی تحقیق کا اضافی سامان نہیں بلکہ ایسے امور میں درست علمی عمل کے لیے ضروری شرط ہے جو مشاہدے اور خود عکاسی سے ماورا ہیں۔
ابن تیمیہ کے اس معرفتی موقف سے قریباً جُڑی ہوئی ان کی غیر معمولی انصاف پسندی ہے جب وہ دوسروں کے نظریات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگرچہ ابن تیمیہ فلسفیوں اور قیاسی متکلمین پر سخت تنقید کرتے ہیں، مگر وہ ہمیشہ یہ احتیاط برتتے ہیں کہ جہاں بھی حقیقی ایمان کا معمولی احتمال باقی ہو، افراد کو کافر قرار نہ دیا جائے۔ ایک نمایاں مثال ان کا ابن سینا کے ساتھ رویہ ہے۔ جہاں ابن تیمیہ ابن سینا کے نظریات، خصوصاً نبوت اور معاد (قیامت) کے حوالے سے، سخت اور مفصل تنقید کرتے ہیں، وہاں وہ الغزالی کی طرح انہیں کافر قرار نہیں دیتے۔ یہ احتیاط نہ تو علمی ہچکچاہٹ ہے اور نہ ہی لغزش، بلکہ عدل، احتياط اور اخلاقی ذمہ داری کی اصولی پابندی کو ظاہر کرتی ہے۔
ابن تیمیہ کے فکر کی ایک اور نمایاں خصوصیت ان کا مسلمانانِ امت کے تئیں شدید ذمہ داری کا شعور ہے۔ وہ ایک محدود علمی حلقے کے لیے لکھنے والے یا شاہی دربار کے فلسفی نہیں تھے جو عام مومنوں سے الگ تھلگ ہوں۔ ان کی تحریریں ہمیشہ اصلاحی مقصد سے سرشار ہیں: عقیدہ کو واضح کرنا، غلطی کو درست کرنا، اور امت کو ان نظریات سے محفوظ رکھنا جنہیں وہ گمراہ کن یا دينى طور پر نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اکثر جدلیاتی تحریریں فوری اور قابلِ فہم ہیں، خاص طور پر فلسفیوں اور اتحادى صوفیوں جیسے ابن عربی کے خلاف، جن کے مابعدالطبیعیاتی تصورات نے، ان کے نزدیک، نبوی تعلیمات کی وضاحت کو چھپایا اور اسلامی عقیدہ کی عملی ہم آہنگی کو متاثر کیا۔
ابن تیمیہ کی علمی وابستگیاں مذہبی عمل کی سمجھ سے جدا نہیں کی جا سکتیں۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ عقیدہ کی اصلاح کافی نہیں جب تک کہ اس کے ساتھ عملی اصلاح نہ ہو۔ قرآن اور سنت کی حقیقی تفہیم کو نہ صرف شریعت کے بیرونی اطلاق بلکہ خدا کے قرب کے لیے داخلی کوشش میں بھی مجسم ہونا چاہیے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق علم محض تفصیلی یا نظریاتی نہیں بلکہ فطری طور پر عملی اور تبدیلی بخش ہے۔ لہٰذا، ابن تیمیہ کی میراث صرف فلسفیانہ استدلال پر تنقید میں نہیں بلکہ صحیح عقیدہ، اخلاقی ضبط و تربیت، اور عملی دیانتداری کو اسلامی زندگی کے مربوط طرز عمل کی بنیاد کے طور پر یکجا کرنے میں بھی مضمر ہے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !