مولانا محمد مسلم بھوپال میں پیدا ہوئے اور دہلی میں وفات پائی، جہاں ان کے والد اور بڑے بھائی کی قبریں بھی ہیں۔ وہ واحد بھارتی تھے جنہیں بھوپال کی حکومت نے صرف پاکستان ہجرت نہ کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیا۔ 1947 سے 1986 تک، بھارتی حکومت نے انہیں ایک ناپسندیدہ شخص کے طور پر برتا، اور متعدد بار جیل میں ڈالا، جن میں سب سے طویل قید 1975 سے 1977 تک رہی۔ وہ میرے ہیرو ہیں۔ 3 جولائی، ان کی وفات کے دن، میں تمام کاموں سے چھٹی لے کر ان کی یادوں میں ڈوب جاتا ہوں۔
ان کا ایمان اور ان کی شریکِ حیات ان کی سب سے بڑی طاقت تھیں۔ میں نے کبھی انہیں اپنی بیوی یعنی میری والدہ سے اونچی آواز میں بات کرتے نہیں سنا۔ وہ اکثر ان سے معذرت کیا کرتے کہ محدود وسائل میں زندگی گزارنے پر انہیں مجبور کیا، بغیر کسی شکوے کے۔ انہوں نے کبھی تنقید نہیں کی، ہمیشہ نرم مزاجی اور عزت سے بات کی۔ میری والدہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں، مگر انہوں نے کبھی اپنے رتبے یا علم کا تذکرہ نہیں کیا۔ وہ اپنی پوری تنخواہ انہیں سونپ دیتے، اور اگر خود کو کچھ درکار ہوتا تو ان سے اجازت طلب کرتے۔ وہ میرے والد ہیں، اور میری یادوں میں ہر روز زندہ رہتے ہیں۔
مولانا محمد مسلم صاحب ان مسلم رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے اعلیٰ مشاورتی تنظیم، “آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت” کی بنیاد رکھی۔ وہ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک جماعت اسلامی ہند کی شوریٰ کے رکن رہے اور روزنامہ “دعوت” کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔
یہ اُن کی زندگی پر میری کچھ جھلکیاں ہیں:
ایسے دن بھی آئے جب گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہوتا، تو وہ ہمیں سکھاتے کہ وسائل میں جینا کیسے سیکھا جائے۔ عید کے موقع پر ہمیں جو رقم ملتی، وہ اکثر ہمیں ہدایت کرتے کہ اسے غریبوں اور محتاجوں کو دے دیں جنہیں ہم جانتے بھی نہ تھے۔ کئی بار وہ ہمارے لیے پرانی مارکیٹ سے کپڑے لاتے، خود شیروانی تو پہنے ہوتے مگر اندر قمیص نہ ہوتی، کیونکہ وہ کسی نادار کو اپنی قمیص دے چکے ہوتے۔ کئی بار ہم نے انہیں کسی خاکروب کی انسانی فضلہ اٹھانے میں مدد کرتے دیکھا۔ کبھی وہ کئی کئی دن روزہ رکھتے کیونکہ ان کا کھانا شاید بچوں یا مہمانوں کے لیے درکار ہوتا۔ کئی راتیں ہمیں فٹ پاتھ پر سونے کو کہا جاتا کیونکہ بے گھر بوڑھے، عورتیں اور بچے ہمارے گھر میں پناہ لیے ہوتے۔
بچپن میں ہمیں یہ سب مناظر تو یاد رہے، لیکن ہم یہ نہیں سمجھ پاتے کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے۔
ہم نے انہیں کئی راتوں کو تنہا کھڑے ہو کر روتے، نماز پڑھتے دیکھا۔ صبح کے وقت وہ اکثر قرآن کے صفحے پر نظریں جمائے، آسمان کی جانب دیکھتے رہتے اور ہمارے سوالوں کا جواب نہ دیتے۔ آدھی رات کو اٹھ کر کچھ لکھتے رہتے۔
یہ سب مشاہدے تو تھے، لیکن ہم یہ نہ جان سکے کہ ان کے پیچھے کیا راز تھا۔
فسادات کے دوران جب ہندو مسلم کشیدگی بڑھتی، ہم نے انہیں اکیلے ان لوگوں کے سامنے جاتے دیکھا جو مسلم بستیوں پر حملہ آور ہو رہے ہوتے۔ کبھی ہم نے چھت سے دیکھا کہ وہ مسلمانوں کے غصے کو روکنے کے لیے انہیں سمجھا رہے ہیں کہ غیر مسلم ہمسایوں کی جان بخش دی جائے۔ ہمیں ان کے اقدامات تو نظر آئے، مگر مقصد کا ادراک نہ ہو سکا۔
بعض اوقات وہ کئی دن، مہینے یا سال گھر نہ آتے۔ بعد میں پتہ چلتا کہ کسی تحریر پر اعتراض کیا گیا تھا اور وہ قید میں تھے۔
بڑے بھائی جب ان پر ناراض ہوتے کہ گھر کے مالی حالات کیوں نہ بتائے، تو وہ خاموش رہتے، مسکراتے اور کسی مالی امداد سے معذرت کر لیتے۔
ہم نے دیکھا کہ صدرِ ہند شنکر دیال شرما رات کی خاموشی میں ہمارے چھوٹے سے ایک کمرے والے گھر (اولڈ دہلی) میں تعزیت کے لیے آئے۔ اندر کمار گجرال، جو اُس وقت اندرا گاندھی کے وزراء میں شامل تھے، ایمرجنسی کے دوران ان کی قید کے وقت ہمارے گھر آئے۔ ہمیں یاد ہے کلدیپ نائر اور دوسرے صحافی فون کرتے اور کمرے میں ان سے بات کرتے جبکہ ہم کھیل کود میں مصروف رہتے۔ کئی مسلم رہنما اور علماء طویل بحثوں کے دوران جو کچھ بھی ہمارے پاس ہوتا وہی کھاتے۔
ہم ان سب مناظر میں پلے بڑھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے، ایک سرد رات میں ننگے پیر اور بغیر قمیص گھر آیا، ماں نے سوالات کیے، والد بہت غور سے سن رہے تھے۔ جب میں نے کہا کہ راستے میں ایک نیم برہنہ شخص کو دیکھ کر اپنی قمیص اور جوتے دے دیے، تو ان کا چہرہ چمک اٹھا۔ وہ مسکرائے اور بولے:
“یہ اسلام اور قرآن کو سمجھنے کی شروعات ہے۔”
تب سمجھ نہ آیا۔ مگر جب قرآن کو ترجمے کے ساتھ اور پھر عربی میں پڑھا، تب سمجھ آیا کہ وہ کیا کہنا چاہتے تھے۔
ہم نے اسلام اُن سے سیکھا۔ انہوں نے کبھی لمبے لیکچر نہیں دیے، کسی کتاب کی سفارش نہیں کی۔ ان کی جماعت کی شائع کردہ کتابیں بھی ہم خرید نہ سکتے تھے، اور وہ مفت نسخہ بھی نہ مانگتے۔ مگر انہوں نے ہمیں عمل سے قرآن سکھایا، نماز سکھائی۔ ہم نے ان سے تقلید کر کے دین سیکھا۔
بعد میں جب ہم نے ان کی تحریریں “دعوت” اور “ندیم” (جو بھوپال سے نکلتی تھی) میں پڑھیں، تو احساس ہوا کہ وہ اپنے سفرِ ایمان کو تحریر کر رہے تھے، کیونکہ ہم نے انہیں اُس پر چلتے دیکھا تھا۔
ان کے نزدیک دین کا جو تصور تھا، اُس میں انسانی وقار کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، چاہے کوئی بھی پس منظر ہو۔ اُن کے مطابق قرآن کا اصل پیغام ایک ایسی امت بنانا ہے جو سب سے کمزور اور مجبور کو ذلت کا شکار نہ ہونے دے۔
جب ان کے بھائی کہتے کہ دنیا کو بدلنا ممکن نہیں، تو وہ جواب دیتے:
“انسان خود کو تو بدل سکتا ہے۔”
ان کی تحریروں میں انسانوں کی برابری، مرد و زن اور مذہبی اختلافات سے بالا تر ہو کر، واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق ہر انسان باوقار زندگی کا حق دار ہے۔
وہ اختلاف رائے کو تسلیم کرتے تھے، سوائے ان امور کے جو نص سے طے ہو چکے ہوں۔ لوگ ان سے اختلاف کرتے، وہ مسکرا کر جواب دیتے:
“امید ہے آپ درست ہوں گے۔”
میں نے کبھی انہیں مخالفین کے لیے نازیبا الفاظ کہتے نہیں سنا۔
ہم نے دیکھا کہ وہ اہلِ تشیع اور بوہرا برادری کی مساجد میں گئے، اور انہیں وسیع تر مسلم مسائل پر ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دی۔
ان کی تحریروں میں جدید تعلیم کی اہمیت پر زور تھا تاکہ اصل وحی کو بہتر سمجھا جا سکے۔
وہ چاہتے تھے کہ مسلمان بھارتی معاشرے میں مکمل شرکت کریں، جہاں اسلام اجازت دیتا ہو۔ سیاسی شرکت، فلاحی کام، تعلیمی برتری، اور مقصد میں اتحاد ان کا مشن تھا۔
ہم نے انہیں مختلف مسلم تنظیموں کے مابین اختلافات دور کرنے میں دن رات کام کرتے دیکھا۔ لوگ دوسروں کی شکایت لے کر آتے، وہ سنتے اور نرمی سے مثبت انداز میں جواب دیتے، مگر کبھی کسی کی بات کو آگے نہیں پھیلاتے۔
ہم نے انہیں کبھی کام سے چھٹی لیتے نہیں دیکھا، حتیٰ کہ بیماری میں بھی نہیں۔ انہیں تپِ دق تھا، پھر بھی “دعوت” میں کالم لکھتے رہے۔
جب انہوں نے مسلم مجلسِ مشاورت کو فعال کیا، تو ان کے دوستوں نے الزام لگایا کہ وہ جماعت کی پوزیشن سے ہٹ گئے ہیں، مگر وہ ان کے تعلقات میں فرق نہ آنے دیتے۔
وہ عالم نہ تھے۔ نہ کوئی بڑی ڈگری، نہ دینی مدرسہ، نہ مکمل قرآن حفظ، نہ احادیث کی کتابوں پر عبور۔ مگر علم کا احترام خوب جانتے تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے بغیر، محدود تعلیمی قابلیت کے باوجود، انہوں نے قرآن اور سنت سے حاصل فہم کو مؤثر انداز میں امت کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔ وہ سچ بولنے سے کبھی نہ ہچکچائے، چاہے وزیراعظم کے سامنے ہوں۔
ان کا وژن سادہ تھا:
“قرآن اور نبی ﷺ کی ذات وہ سرچشمے ہیں، جہاں سے ہم اپنی شخصیت کی تشکیل کر سکتے ہیں۔”
وہ کہتے:
“کسی کامل ہونے کا انتظار نہ کرو، کام شروع کرو، اخلاص کے ساتھ، اور یہی تمہیں کامیاب کرے گا۔”
وہ جماعت اسلامی کے اخبار “دعوت” کے تنخواہ دار ملازم تھے۔ اُن کی زندگی بھر کی کمائی واپس جماعت کو دینے کی وصیت کی۔ ان کی وفات کے بعد ہمارے ایک بھائی نے یہ فریضہ انجام دیا، اور ہماری ماں کتنی خوش تھیں جب وہ جماعت کے صدر کو یہ رقم واپس کر کے آئے۔
میں اُس وقت انگلینڈ میں تھا، جب ان کے ایک دوست نے ان کی وفات کی اطلاع دی۔ میں کبھی سوچ نہ سکتا تھا کہ اُس دن ان کے ساتھ نہ ہوں گا۔ ہمیشہ ان کی خدمت کرتا رہا، گھر یا اسپتال میں۔ ماں نے بتایا کہ کفن اور قبر خریدنے کے پیسے بھی نہیں تھے۔ ہم نے قرض لے کر کفن خریدا۔ پرانی دہلی کے باہر واقع درگاہ شاہ ولی اللہ کے متولی نے قبر کی جگہ مفت دی۔
وہ اپنے جائے نماز پر تھے، جہاں فجر کی نماز پڑھ چکے تھے، وہیں انہوں نے آخری سانس لی۔ اُس دن ان کے گھر میں ایک پیسہ بھی نہ تھا۔ مگر آج ہمیں معلوم ہے، وہ کس قدر مالا مال اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
انہوں نے اپنی بیوی اور 11 بچوں کے ساتھ 10×10 کے ایک کرائے کے کمرے میں 35 سال گزارے۔ کبھی بڑا گھر نہ خریدا، نہ جماعت کی طرف سے ملنے والے گھر کو قبول کیا۔ آج بھی ہم وہی گھر کرائے پر لے کر رہتے ہیں۔
بھوپال کی زمین بیچ کر دہلی میں جو رقم ملی، اس سے ایک ضرورت مند کے لیے زمین خریدی۔ جامع مسجد دہلی کے مہنگے ترین علاقے میں انہیں ایک دکان ملی تھی تاکہ کتابیں بیچیں، مگر انہوں نے وہ دکان جماعت کو دے دی تاکہ دینی لٹریچر تقسیم ہو۔
انہوں نے کبھی شکایت نہ کی، کسی سے مالی حالات کا ذکر نہ کیا۔ صرف ہماری ماں سے اکثر معذرت کرتے کہ انہیں مشقت بھری زندگی دی۔ گھر میں کبھی بلند آواز نہ نکالی، نہ کبھی کسی کو برا کہا۔
صرف ایک بار ناراض ہوئے، جب میں نے ان سے کہا کہ کسی دوست کی سفارش سے مجھے آل انڈیا ریڈیو میں نوکری دلا دیں۔ وہ کہنے لگے:
“اپنی روزی خود کماؤ، دوسروں پر انحصار نہ کرو۔”
تو، 3 جولائی کو، ان کی برسی پر، میں سب کچھ چھوڑ کر تنہا ہو جاتا ہوں، ان کی یاد میں گم، خاموشی سے کام کرتا ہوں، اور خود کو یاد دلاتا ہوں کہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ سے ان کی وابستگی کتنی گہری تھی۔
وہ آج بھی ہمیں ہمارے تخیل میں مخاطب کرتے ہیں:
“افراد کی زندگیاں اور موتیں قرآن اور نبی کے پیغام کو نہیں بدل سکتیں۔ جو کچھ بھی کر سکو، اخلاص سے، محنت سے، بغیر کسی صلے کی تمنا کے، کرتے رہو، اور دنیا سے مالدار اور مطمئن رخصت ہو گے۔”
ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب سے رابط کیجیئے
مزید خبریں:
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
مشہور معلمہ اور داعیہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا شوہر کے ظلم اور علٰحیدگی سے متعلق اہم ترین سوال
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں