Dr Akram Nadwi

ندوہ کے ایک طالبِ علم کے لیے عصرِ حاضر میں دینی تیاری، فتنوں کی پہچان اور علمِ نبوی کی روشنی میں رہنمائی

سوال:
مکرم و محترم جناب ڈاکٹر محمد اکرم صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے
میں دار العلوم ندوۃ العلماء ‘علیا اولی’ میں زیر تعلیم ہوں۔ آپ کی حیرت انگیز تحریری کاوشیں دیکھ کر نہایت خوش گوار حیرت ہوتی ہے۔ بالخصوص ‘الوفا بأسماء النساء’ اور آپ کی آنے والی نئی کاوشیں ‘مسلم شریف’ کی شرح و تفسیر القرآن۔
آپ کی ان نہایت عمدہ و عظیم کاوشوں کو دیکھ بلا شبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ عظیم اسلاف کی یادگار ہیں!
اللہ تعالیٰ آپ کو ان کاوشوں کا بھرپور اجر عطا فرمائے! وقت و صحت میں خوب برکت عطا فرمائے۔
ایک سوال ہے ۔
ہمیں موجودہ وقت میں ملکی و عالمی سطح پر کن سنگین مسائل و فتن کا سامنا ہے یا ایسے مسائل کہ مستقبل میں ان کے وقوع کے امکانات ہوں اور اس حوالے سے ہماری ذمے داری بنتی ہو۔ ہمیں کس طرح بھرپور تیاری کرنی چاہیے تاکہ دین کا کچھ نہ کچھ کام کرنے کے ہم بھی اہل ہوسکیں کہ آخرت میں اجر کے مستحق ہوں۔
براہ کرم اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں!
وقار احمد
21/12/2025

جواب:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا مکتوب دل کو چھو لینے والا ہے، یہ چند سطور نہیں، بلکہ ایک باشعور طالبِ علم کے باطن کی آواز ہے جو اپنے زمانے کے ہنگاموں میں کھڑا ہو کر یہ جاننا چاہتا ہے کہ دین کی خدمت کا درست راستہ کون سا ہے اور میں اپنے آپ کو اس کے لیے کس طرح تیار کروں۔ یہ سوال خود اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں خیر، درد اور ذمہ داری کا احساس رکھا ہے۔ چونکہ آپ نے اخلاص کے ساتھ رہنمائی طلب کی ہے، اس لیے میری ذمہ داری ہے کہ میں آپ سے وہی بات عرض کروں جو میں اپنی اولاد اور اپنے خاص طلبہ سے کرتا ہوں۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
سب سے پہلی بات یہ اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ آپ جس علم کے حصول میں مصروف ہیں، وہ کوئی عام علم نہیں، بلکہ انبیائے کرام علیہم السلام کی میراث ہے۔ یہ کتاب و سنت کا علم ہے۔ انبیاء علیہم السلام نے امت کو مال و دولت نہیں دی، بلکہ علم دیا، اور جس نے یہ علم لے لیا، اس نے سب سے قیمتی دولت حاصل کر لی۔ یہی علم ہدایت کا سرچشمہ ہے، اور اسی علم کے حاملين امت کی رہنمائی اور امامت کے اہل بنتے ہیں۔
اس راہ کا سب سے پہلا اور سب سے خطرناک فتنہ نیت کا ہے۔ طالبِ علم کے دل میں اگر یہ خیال آ جائے کہ مجھے شہرت حاصل کرنی ہے، لوگوں میں مقبول ہونا ہے، یا ایسا کام کرنا ہے جس سے عوام متاثر ہوں، تو سمجھ لیجیے کہ علم کی روح کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ شہرت اور وجاہت کی طلب زہرِ ہلاہل ہے؛ یہ دین کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، علم کی سنجیدگی کو ختم کر دیتی ہے، اور انسان کو حق کی تلاش کے بجائے لوگوں کی پسند کا غلام بنا دیتی ہے۔ اس لیے ہر وقت اپنی نیت کی حفاظت کیجیے اور علم کو صرف اللہ کی رضا کے لیے حاصل کیجیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ عظیم علم یکسوئی، قربانی اور مسلسل محنت کا تقاضا کرتا ہے۔ آپ نے ملکی اور عالمی مسائل اور فتنوں کے بارے میں سوال کیا ہے، مگر اس مرحلے پر میری مخلصانہ رائے یہ ہے کہ آپ کچھ عرصے کے لیے ان مسائل سے خود کو الگ رکھیے۔ یہ زمانہ مباحثہ، شور اور ردِ عمل کا زمانہ ہے، جبکہ علم سکون، خاموشی اور گہرے غور و فکر میں پروان چڑھتا ہے۔ اس لیے چند سال کے لیے دل جمعی کے ساتھ علم کی بنیاد مضبوط کرنے میں لگ جائیے اور سیاسی و عالمی ہنگاموں کو وقتی طور پر نظر انداز کر دیجیے۔
تیسری بات زبان کی مضبوطی ہے۔ عربی کو اتنا پختہ کیجیے کہ قرآن و حدیث کو براہِ راست سمجھ سکیں۔ زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ فکر کا آئینہ ہوتی ہے۔ ادبی ذوق پیدا کرنے کے لیے عربی اور اردو ادب کا سنجیدہ مطالعہ کیجیے، کیونکہ جو شخص زبان کی نزاکتوں سے ناواقف ہو، وہ معانی کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتا۔
فکر و نظر کی وسعت اور ذہنی توازن کے لیے اہلِ فكر ونظر علماء کی کتابیں نہایت مفید ہیں۔ خاص طور پر علامہ شبلی نعمانیؒ، علامہ سید سلیمان ندویؒ، مولانا ابو الكلام آزاد، مولانا ابو الاعلى مودودى، مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ، شيخ على طنطاوى، شيخ محمد الغزالى، اور علامه يوسف القرضاوى کی تحریروں کا مطالعہ کیجیے۔ یہ حضرات سوال کرنے کا سلیقہ، تحقیق کی سنجیدگی اور امت کے درد سے وابستہ فکر عطا کرتے ہیں۔
ان سب کے باوجود اصل توجہ قرآن اور حدیث پر مرکوز رہنی چاہیے۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اور حدیث رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کا محفوظ ذخیرہ۔ ہدایت انہی دو سرچشموں میں محدود ہے؛ ان کے باہر صرف گمان، قیاس اور تاریکیاں ہیں۔
قرآن و سنت کے مطالعے میں ایک اہم اصول یہ ہے کہ تحقیق کا آغاز شک سے کیا جائے۔ یہاں شک سے مراد انکار نہیں، بلکہ غور و فکر اور تحقیق کا دروازہ کھولنا ہے۔ یہی طریقہ تمام انبیاء علیہم السلام کا رہا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ فلاسفہ بھی شک کو اختیار کرتے ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ انبیاء شک کو علم اور یقین تک پہنچنے کا ذریعہ بناتے ہیں، جبکہ اکثر فلاسفہ شک ہی کو منزل سمجھ لیتے ہیں۔
جب آپ قرآنِ کریم کی کوئی آیت پڑھیں تو اس پر سرسری نگاہ ڈال کر آگے نہ بڑھ جائیں، بلکہ ٹھہر کر اس کے مفہوم میں غور و فکر کریں۔ اپنے آپ سے سوال کریں کہ آیا اس آیت کا یہی ایک مفہوم ہے یا اس کے دائرے میں کوئی اور معنی بھی آ سکتے ہیں؟ اگر ایک سے زیادہ مفاہیم کا احتمال ہو تو یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ان میں سے کون سا مفہوم دلائل کے اعتبار سے زیادہ مضبوط، سیاق و سباق کے زیادہ مطابق اور قرآن کے مجموعی مزاج سے زیادہ ہم آہنگ ہے، اور کیوں ایک مفہوم دوسرے پر ترجیح کا مستحق بنتا ہے۔
جب تک دل اور عقل دونوں کسی ایک نتیجے پر اطمینان کے ساتھ نہ ٹھہر جائیں، تحقیق اور جستجو کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اسی مقصد کے لیے تفسیر اور اصولِ فہمِ قرآن کے باب میں علامہ ابن تیمیہؒ کی تصانیف کا گہرا اور سنجیدہ مطالعہ کریں، کیونکہ وہ نصوص کے فہم میں توازن، استدلال اور اعتدال سکھاتی ہیں۔ اسی طرح مولانا حمید الدین فراہیؒ کی کتابوں کا خصوصی مطالعہ کریں، جو قرآن کے نظم، ربطِ آیات اور داخلی وحدت کو سمجھنے میں غیر معمولی بصیرت عطا کرتی ہیں۔ ان دونوں حضرات کے طریقِ فکر سے آپ میں یہ صلاحیت پیدا ہوگی کہ آپ قرآن کو نہ صرف پڑھیں، بلکہ اس کے معانی تک رسائی حاصل کریں اور اس کے پیغام کو مضبوط بنیادوں پر سمجھ سکیں۔
اسی طرح حدیث کے مطالعے میں صرف متن پر اکتفا نہ کریں، بلکہ یہ بھی دیکھیے کہ صحتِ حدیث کی جو بنیادی شرطیں محدثین نے مقرر کی ہیں، ان کی حکمت کیا ہے۔ یہ سوال کیجیے کہ یہ شرطیں کیوں رکھی گئیں؟ کیا ان میں کمی یا اضافہ ممکن ہے؟ امام بخاری اور امام مسلمؒ نے ان شرطوں کی پابندی میں کس درجہ کی محنت اور کامیابی دکھائی؟ اسناد کا مطالعہ کیجیے، رواۃ کے حالات جانیے، اور عللِ حدیث پر غور کیجیے، کیونکہ حدیث کی صحت کا اصل دار و مدار انہی علوم پر ہے۔
اس کے بعد متنِ حدیث پر گہرا تدبر کیجیے اور اسے محض الفاظ کے مجموعے کے طور پر نہ دیکھیے، بلکہ ایک زندہ اور عملی رہنمائی کے طور پر سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ ہر حدیث کے بارے میں یہ سوال اپنے ذہن میں رکھیے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد کس موقع پر فرمایا، یہ حکم یا ہدایت کن حالات کے پس منظر میں دی گئی، اور اس کا مخاطب کون تھا۔ بہت سے احکام اور ارشادات کا صحیح مفہوم اسی وقت کھلتا ہے جب ان کے زمانی، معاشرتی اور عملی سیاق کو سامنے رکھا جائے۔
احادیث کے اس پس منظر اور سیاق و سباق کو سمجھنا صحیح فہمِ حدیث کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ اسی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حدیث کا اطلاق عام ہے یا خاص، دائمی ہے یا کسی خاص حالت سے متعلق۔ اس مقصد کے لیے ائمۂ حدیث کی مستند شروح اور کتب کا خصوصی مطالعہ کیجیے۔ خصوصاً امام نوویؒ کی شرح صحیح مسلم، حافظ ابن حجرؒ کی فتح الباری، امام ابن حزمؒ کی المحلی اور علامہ شوکانیؒ کی نیل الاوطار کو اپنا مستقل سرمایۂ مطالعہ بنائیے۔ یہ کتابیں آپ کو حدیث کے الفاظ، اس کے مفہوم، اس کے فقهی نتائج اور اہلِ علم کے اختلافات کی بنیادیں سمجھنے میں مدد دیں گی، اور یوں آپ حدیثِ نبوی ﷺ کو زیادہ گہرائی، توازن اور بصیرت کے ساتھ سمجھنے کے قابل ہو سکیں گے۔
جب آپ قرآن و سنت کے ان اصولوں میں مضبوطی حاصل کر لیں گے، تو انہی کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کیجیے۔ پھر حالات پر نظر ڈالیں اور یہ دیکھیں کہ ان حالات میں قرآن و سنت کے علم کو پھیلانے اور دین کی خدمت کرنے کی کون سی صورت ممکن ہے۔ جب وہ وقت آئے گا تو ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ خود آپ کی رہنمائی فرمائے گا اور آپ سے وہ کام لے گا جس کے لیے آپ کو تیار کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو علمِ نافع، عملِ صالح، فکرِ درست اور اخلاصِ کامل عطا فرمائے، اور آپ کو دین کے سچے خادموں میں شامل فرمائے۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے