ہم لوگ ادھر ایک ہفتے سے کیرالا کے سفر پر تھے آج 22/اگست کی شام ٹروینڈرم ائیرپورٹ سے لکھنؤ کے لئے روانہ ہونا تھا کہ جمعہ کی صبح ایک پروگرام اٹینڈ کرنے سے پہلے یہ غمناک خبر موصول ہوئی کہ مولانا مطلب حسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ اس دارفانی سے عالم جاودانی کی طرف منتقل ہوگئے سن کر بڑا افسوس ہوا ۔
اسلئے کہ مولانا کی بیماری اور مینگلورو کے ہسپتال میں ایڈمیٹ ہونے کی خبر ادھر کافی دنوں سے معلوم تھی چند دن پہلے مولانا کے صاحب زادے سے بھی خیریت وعافیت معلوم کی تھی انہوں نے بھی دعا کے لیے کہا تھا لیکن کسے معلوم تھا کہ اتنی جلدی یہ حادثہ پیش آئے گا
مولانا مرحوم سے میری ملاقات غالباً 1985ء سے ہے جب ہم لوگوں کا داخلہ جامعہ اسلامیہ جامعہ آباد میں پنجم مکتب میں ہوا تھا اس وقت جامعہ آباد میں پنجم مکتب سے تعلیم شروع ہوتی تھی اور اطفال سے چہارم مکتب تک کی تعلیم مکتب جامعہ چوک بازار میں ہوتی تھی
مولانا رحمۃ اللہ علیہ اس وقت عالیہ رابعہ (ہشتم عربی) میں پڑھتے تھے وہ جامعہ کا آخری درجہ تھا اسی درجے کے طلباء جامعہ کے طلبہ کے تمام امور اللجنۃ العربیۃ وغیرہ کے ذمہ دار ہوتے تھے۔
مولانا کے درجے کے اہم ساتھیوں میں اس وقت کے مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین کے چیف قاضی و خلیفہ جامع مسجد کے امام و خطیب و استاد حدیث و فقہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل جناب مولانا خواجہ معین الدین صاحب اکرمی ندوی مدنی زید مجدہ، مولانا شاھین قمر ندوی سابق استاد انجمن حامئ مسلمین بھٹکل، مولانا سید سلیم علی اکبرا ندوی، مولانا شمس الدین صاحب ،مولانا سراج اکرمی مرحوم وغیرہ تھے
یہ حضرات اس وقت امتحان کے قریب حدیث کی بڑی بڑی کتابیں لےکر مسجد میں جب مذاکرہ کے لئے آتے تھے تو ہم طلبہ ان حضرات کو بڑی رشک کی نگاہوں سے دیکھتے تھے کہ پتا نہیں کب ہمیں ان بڑی بڑی کتابوں کو پڑھنے کا موقع ملے گا بہرحال اللہ کا شکر اور اس کا فضل کے پڑھنے اور اس کے بعد اس کو پڑھانے کی بھی توفیق عطا فرمائی۔
مولانا مطلب صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس وقت بھی بڑے نفیس صاف ستھرے اور عام طور پر سفید کپڑے پہننے کے عادی تھے
جامعہ اسلامیہ سے عالمیت کے بعد آپ نے دار العلوم ندوۃ العلماء سے فضیلت کی تعلیم مکمل کی تو پھر آپ جامعہ میں استاد کی حیثیت سے تشریف لائے اس وقت آپ کے گھنٹے ہم لوگوں سے ایک کلاس نیچے تک تھے۔
مولانا سے درجہ میں باقاعدہ پڑھنے کا تو موقع نہیں ملا لیکن آپ کی نفاست صاف ستھرے لباس میں مسکراتے ہوئے سب سے ملنے کا انداز تواضع و انکساری اور سلیقے سے گفتگو کرنے کا مزاج ،اس سے ہم لوگ بڑے متاثر تھے
پھر مولانا اپنے بعض خانگی مسائل کی بناء پر سعودیہ کسب حلال کے لئے تشریف لے گئے تو آپ کے مزاج کے مطابق ہی آپ کو خوشبو بکھیرنے بلکہ لٹانے کا کام ملا اس کے بعد ایک عرصے تک نہ آپ سے ملاقات ہوسکی ناھی کسی طرح کی زیارت ،تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس عاجز بندے کو پہلی مرتبہ اپنے گھر کی زیارت کی توفیق عطا فرمائی تو جانے کے بعد پتہ نہیں مولانا کو کیسے پتہ چلا کہ یہ عاجز بھی حرمین شریفین کی مبارک سرزمین پر موجود ہے فوراً رابطہ کرکے جدہ اپنے گھر بلایا بڑی اچھی دعوت کی عطر اور فقہ شافعی سے متعلق کئی اہم اور مراجع کی کتابیں عنایت کیں اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو خوب خوب جزائے خیر عطا فرمائے۔
پھر تو اس کے بعد خیر خیریت معلوم کرنے کا، گاہ گاہ خوشبو بکھیرنے اور اپنی محبتوں سے نوازنے کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر جب آپ کے اکلوتے اور شریف و خاموش مزاج طبیعت کے حامل صاحب زادے ندوۃ العلماء پڑھنے کے لئے آگئے تو اپنے والد صاحب کی طرف سے ارسال کردہ عطر کو پیش کرنا اور صرف بھٹکلی اساتذہ کے لیے نہیں بلکہ ان سے جان پہچان رکھنے والے دوسرے اساتذہ کرام کی خدمت میں بھی پیش کرنے کا موقع ان کو ملتا رہا
ادھر اپنی بیماری کی وجہ سے مولانا کا قیام بھٹکل میں ہونے لگا تو جب بھی چھٹی وغیرہ کے موقع پر بھٹکل حاضر ہونے پر آپ سے ملاقات ہوتی تو آپ خیر خیریت دریافت کرنے اور اپنی محبت اور حسن ظن کے اظہار کے بعد ندوۃ حاضری کی خواہش کا ضرور تذکرہ کرتے
بہرحال اس وقت ائیر پورٹ پر فلائیٹ کا انتظار کرتے ہوئے یہ چند یادیں ٹائپ کردیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے آپ کے درجات بلند فرمائے آپ کے حسنات کو قبول فرمائے اور آپ کے تمام پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
تحریر: مولانا عبدالسلام خطیب ندوی
استاد ندوةالعلماء لکھنؤ
مزید خبریں:
اہلِ بیت رضی اللہ عنھم ایک ماڈل خانوادہ
مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال
ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام
عاقل نذیر افغان بزرگ نے دعویٰ کیا کہ میں آج 140 سال کا ہوں اور 1880 میں پیدا ہواہوں
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں