سالِ نو جشن یا گناہوں کی ابتدا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک فکری جائزہ
سال نو کی آمد پر نا صرف ہمارے ملک میں بلکہ پوری دنیا میں جشن منایا جاتا ہے ، کیا اپنا کیا غیر ، کیا مسلمان کیا غیر مسلم ، کیا عیسائی کیا یہودی ہر کوئی ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتا ہے ، ناچ گانا، ڈھول باجا، آتش بازی کے ساتھ خوشیاں منائی جاتی ہیں
دیکھا جاۓ تو یہ دنیا کا واحد منفرد تہوار ہے جسے پوری دنیا میں بڑے ہی جوش وخروش کے ساتھ منایا جاتا ہے
بظاھر یہ ایک اچھا تہوار نظر آتا ہے لکین درحقیقت اس کے درپردہ
جو اخلاقی برائیاں انجام دی جاتی ہیں اس کی اجازت کوئی بھی سماج نہیں دے سکتا ،
گانا بجانا، رقص و سرود، شراب نوشی، جوا بازی سے لیکر زنا و بدکاری کی تمام سمائیں پار کی جاتی ہیں ، اجنبی مردوں عورتوں کے اختلاط کے ساتھ بے حیائی اور فحاشی کا ننگا ناچ ہوتا ہے اور فضول خرچی ایسی کہ خدا کی پناہ ،
ایک طرف جہاں لوگ بھوک اور غریبی سے پریشان ہیں ، بنا چھت کے فٹ پاتھ پر سونے پر مجبور ہیں تو وہیں پر خواہش نفسانی کے پیروکار صرف ایک رات میں کروڑوں روپیہ محض چند گھنٹوں کی لذت اور خوشی کے لیے پھونک دیتے ہیں
حتٰی کہ شراب اور میخانوں کے ٹھیکیداروں کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف ایک رات میں پورے سال کی کمائی حاصل کرلیتے ہیں ،
خوشی اور دھوم اس بات کی ہے کہ حیات مستعار میں ابھی ہمارا نام باقی ہے جبکہ کئ لوگ زندگی کے اس رجسٹر میں اپنا نام کٹواچکے ہیں
جبکہ ہر شخص جانتا ہے کہ موت گھات لگائے بیٹھی ہے کب کہاں اور کس موڑ پر آدبوچلے کوئی نہیں جانتا
ایک عربی شاعر عمرو بن معدي كرب نے کیا ہی خوب کہا ہے
كم من أخٍ ليَ صالحٍ
بَوّأتُهُ بيدَيَّ لَحدا
ذَهَبَ الذين أُحِبُّهم
وبقيتُ مثلَ السيفِ فَردا
( میرے کتنے ہی بھائی ایسے ہیں جنکی قبر میں نے اپنے ہاتھوں سے تیار کی ہے
وہ لوگ چلے گے جن سے میں محبت کرتا تھا اور میں تلوار کی مانند تنہا رہ گیا ہوں)
اور وہیں پر یہ بات بھی جگ ظاہر ہے کہ لمبی عمر کبھی کبھی انسان کے لیے باعث عذاب بن جاتی ہے
جیسا کہ ایک عربی شاعر نابغہ ذبیانی نے اس کی ترجمانی کی ہے
المَرءُ يَأمُلُ أَن يَعيشَ
وَطولُ عَيشٍ قَد يَضُرُّه
( آدمی چاہتا ہے کہ وہ ایک طویل زندگی گزارے مگر کبھی کبھار لمبی زندگی آدمی کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے )
البتہ اگر کوئی شخص سال نو کو اپنی زندگی کی نشاة ثانیہ کے آغاز کے لیے ایک Turning point کے طور پر لیتا ہے اور ایک اچھی اور بہتر زندگی گزارنے کا عزم مصمم کرتا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور نا ہونا چاہیے
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی
ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی
( فیض لدھیانوی)
حتٰی کہ کیا ہی بہتر ہو کہ اگر کوئی انسان نئے سال کے آغاز میں اس بات کا بھی عہد کرے کہ اس کی زندگی میں جو کچھ سابقہ غلطیاں اور گناہ ہوئے ہیں ان تمام معاصی اور گناہوں سے وہ رب کے حضور توبہ کرتا ہے اور ایک مؤمنانہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ نور علی نور ہوگا
خود رب العالمین نے اس چیز کا مطالبہ کیا ہے فرمایا
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ تَوۡبَۃً نَّصُوۡحًا ؕ عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّکَفِّرَ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ یُدۡخِلَکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۙ
اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناه دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ [8]
اور تو اور رب العالمین نے اپنی زندگی کو غنیمت جانتے ہویے کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا
وَ اَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ فَیَقُوۡلَ رَبِّ لَوۡ لَاۤ اَخَّرۡتَنِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَکُنۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰﴾وَ لَنۡ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفۡسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُہَا ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ
اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں[10]اور جب کسی کا مقرره وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے[المنافقون ،11]
نئے
لیکن یہ عجب طرفہ تماشا ہے کہ دنیا کے لوگ سال نو سے اپنی زندگی کی ایک نئ شروعات کرنا چاہتے ہیں اور اس کا آغاز رقص و سرود ، ناچ گانا اور شراب نوشی جوا بازی کے ساتھ ساتھ زنا اور بدکاری کے ساتھ کرتے ہیں جبکہ یہ تمام چیزیں ہر مذہب و ملت میں حرام ہیں، اور مذہب اسلام میں تو انتہائی کبیرہ گناہ ہیں جو کہ رب العالمین کو باکل سخت ناپسندیدہ ہیں
اگر یقین نا ہو تو قرآن مجید کی یہ آیت ملاحظہ فرمالیں
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾
اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر، یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو[90]شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آجاؤ
[المائدة،91]
ایک بات میری سمجھ سے پرے ہے وہ یہ کہ دنیا کے بہت سے لوگ سال نو کی خوشی میں نت نئے برائیاں انجام دیتے ہوئے یہ بد عقیدہ رکھتے ہیں کہ
اگر وہ سال نو کے آغاز میں خوش و خرم رہیں گے تو پورا سال خوشیاں ان کے دامن سے چمٹی رہیں گیئں
جبکہ یہی لوگ ہر سال زندگی کے مد و جزر سے دوچار ہوتے ہیں ، بھلا دنیا کا ایسا کون شخص ہے جو Happy New year منانے کی وجہ سے تمام مشکلات اور پریشانیوں سے محفوظ رہا ہو یا اس کو دنیا کی تمام سعادتیں نصیب ہوگئی ہوں ،
کیا سال نو کا جشن منانے والے کبھی بیمار نہیں ہوتے ،؟
کیا سال نو کا جشن منانے والوں کو مصائب و مشکلات کا سامنا نہیں ہوتا ؟
کیا سال نو کا جشن منانے والوں کو کبھی موت نہیں آتی ؟
کسی کو سال نو کی کیا مبارک باد دی جائے !
کلینڈر کے بدلنے سے مقدر کب بدلتا ہے
( اعتبار ساجد )
یہی وجہ ہے کہ انکی زندگیوں میں کوئی سدھار نہیں ہوتا بلکہ وہی مصائب و مشکلات اور پریشانیاں جو سال گذشتہ میں درپیش تھیں سال نو میں بھی گھات لگائے بیٹھی نظر آتی ہیں ظاہر ہے کہ آدمی جب ببول کا درخت بوئے کا تو اس کو آم یا میٹھے پھل تو نہیں ملیں گے
اسی لیے رب العالمین نے گناہوں اور معاصی سے اور شیطان کی پیروی کرنے سے سخت منع فرمایا ہے
فرمایا
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّبِعۡ خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ فَاِنَّہٗ یَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ ؕ
ایمان والو! شیطان کے قدم بقدم نہ چلو۔ جو شخص شیطانی قدموں کی پیروی کرے تو وه تو بےحیائی اور برے کاموں کا ہی حکم کرے گا۔
[النور 21]
بالخصوص مسلمانوں کو اس سے دوری ہی بنانی چاہیے کیونکہ اس تہوار میں ایک نہیں بلکہ کئ قباحتیں اور برائیاں ہیں، شرک اکبر سے لیکر تمام گناہ کبیرہ اس ایک رات میں سرزد ہوتے ہیں ،
اور اس تہوار سے ایک قباحت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ اس سے غیر مسلموں سے مشابہت لازم آتی ہے جس سے اسلام نے منع فرمایا ہے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ”.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4031]
اسی طرح ایک مؤمن کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات بر عمل پیرا ہوتا ہے اور ان تمام لغو اور فضول چیزوں سے دوری بناے رکھتا ہے جن سے اس کے ایمان و کردار پر کوئی آنچ آئے
جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ "
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑ دے“
لہذا اس تہوار میں شرکت کرنا کسی مؤمن کے شایانِ شان نہیں ہے
دعا ہے کہ رب العالمین ہم تمام مسلمانوں کو صحیح معنوں میں قرآن و حدیث کی روشنی میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
✒️ ڈی محمد خالد جامعی سلفی ندوی , ہری ہر کرناٹک