شاعر مشرق علامہ اقبال کسی تعریف و تعارف کے محتاج نہیں ہیں، مسند درس پر بیٹھ کر اپنی علمی کرنوں سے دنیا کو منور کرنے والے علمائے کرام ہوں، یا قوم و ملت کی رہبری کرنے والے عصری علوم کی مایاناز شخصیات،غرض امتِ محمدیہ کے ہر خاص وہ عام اور ہر کس وناکس آپ کی شخصیت سے بخوبی واقف ہیں،یوں تو بہت سے لوگ علامہ اقبال کو اردو زبان کے بہت بڑے شاعر سمجھتے ہیں تو وہیں پر بعض لوگ آپ کو فارسی زبان کا شاعر تصور کرتے ہیں، ممکن ہے کہ جن احباب کو علامہ اقبال کی شاعری کا معنی و مطلب اور اس کی گہرائی وگیرائی، دور اندیشی سمجھ میں آگئی انہوں نے علامہ اقبال کو اردو زبان کا شاعر سمجھا ہو اور جس اردو داں طبقے کو علامہ اقبال کی شاعری ان کی سمجھ سے پرے گزری اس نے علامہ اقبال کو فارسی زبان کا شاعر سمجھا ہو، جبکہ دیکھا جائے تو علامہ اقبال کے بہت سے اشعار ایسے عام فہم اور سادہ سلیس ہیں کہ ان کو سمجھنے کے لیے کسی بڑی محنت و مشقت اور اعلی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیسے علامہ اقبال کا یہ شعر ہے ـ
تعلیم سے آتی ہے اقوام میں بیداری
ہے علم کے پنجے میں شمشیر جہاں داری
علامہ اقبال کا یہ شعر ایک عام فہم اور سادہ لوح معنی پر مشتمل ہے جس کو سمجھنے کے لیے نہ کسی زبان و ادب میں مہارت کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی لغت وڈکشنری كي ضرورت ہے، مگر کیا کیا جائے علامہ اقبال کے کہے ہوئے اس شعر کو کئی سال گزر گئے مگر پھر بھی آج تک یہ شعر امتِ محمدیہ کی سمجھ سے پرے ہے، یہ شعر نہ امتِ محمدیہ کے اردو داں طبقے کو سمجھ آرہا ہے اور نہ ہی فارسی زباں و ادب میں یدِ طولیٰ رکھنے والے ماہرین کو یہ بات کسی عجوبے سے کم نہیں کہ دین اسلام جس کا اغاز ہی لفظ إقرأ سے ہوا ہو، اور جو مرنے کے بعد بھی انسان کی علمی کدو کاوشوں اور سرمایہ کو
١ – إِذا ماتَ الإنْسانُ انْقَطَعَ عنْه عَمَلُهُ إِلّا مِن ثَلاثَةٍ: إِلّا مِن صَدَقَةٍ جارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صالِحٍ يَدْعُو له ﴿مسلم: كتاب الوصية: باب ما يلحق الانسان من الثواب بعد وفاته: ٤٢٢٣﴾ (انسان جب مرجاتا ہے تو اس کا عمل موقوف ہو جاتا ہے مگر تین چیزوں کا ثواب جاری رہتا ہے- ایک صدقہ جاریہ کا- دوسرے علم کا جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں- تیسرے نیک بخت بچے کا جو دعا کرے اس کے لیے) فرما کر صدقۂ جاریہ قرار دیتا ہو، اس مذہب اور قوم کو آج دنیا میں سب سے پچھڑی اور پھسڈی قوم تصور کیا جاتا ہے، درحقیقت امتِ مسلمہ کے تعلیمی میدان میں پچھڑنے کے کئی اسباب ہیں جن میں دو بنیادی اسباب کو ذکر کرنا میں مناسب سمجھتا ہوں:
1-پہلا سبب یہ ہے کہ امت مسلمہ میں دولت، حکومت اور جاہ و منصب کے حریص ولالچی لوگوں نے قوم و ملت کے نو نہالوں کو تعلیمی میدان میں کبھی آگے بڑھنے ہی نہیں دیا اور اگر تعلیم دی بھی کئی تو صرف دینیات کی تعلیم دی جاتی اور حکومتی وظائف پر سرکاری محکموں میں خدمت کے لیے رکھ لیا جاتا، بس انہیں اس بات کا خدشہ تھا کہ امت مسلمہ کے مستقبل کے چراغ تعلیم حاصل کریں گے تو یہ خلافت و حکومت میں حصہ داری کا مطالبہ کریں گے، عدل و انصاف کا تقاضہ کریں گے، ظلم و زیادتی پر سوال کریں گے امت کی پائی پائی کا حساب لیں گے اس بات کی تائید ہمیں اس پہلو سے بھی ہوتی ہے کہ جامع اظہر جو کہ امتِ مسلمہ کے علمی قلعؤں میں سے ایک مضبوط اور پائدار قلعہ ہے اس کے متعلق بعض انگریزوں کا ماننا تھا کہ ان کے یہاں تعلیم کا مقصد صرف آبائی علوم کو سینہ در سینہ منتقل کرنا ہوتا تھا، تعلیم کا مقصد سائنس وٹکنالوجی میں آگے بڑھنا اور عصری علوم میں نت نئے تجربات کرنا بالکل نہیں تھا، ورنہ مجھے بتائیں کہ جو قوم 1400 سالوں سے مسلسل تعلیم اور تعلم میں لگی ہو وہ علمی میدان بالخصوص عصری علوم میں تمام قوموں میں سب سے پچھڑی قوم شمار کی جائے، حیرت ہے اب تو حال یہ ہے کہ اسلامی ممالک جو کبھی افق عالم پر چھائے تھے آج ان کا سورج مدہم روشنی میں ٹمٹما رہا ہے، جس کی روشنی میں یہود و نصاری کے بنائے ہوئے قندیلوں اور اب حیات پر منحصر ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کا مسئلہ ہو یا ملک کی دفاع کی بات ہو، معاشی مسائل ہوں یا طبی ادویات، ہر میدان عمل میں آج امت محمدیہ یہود و نصاری کے آگے جھولی پھیلائے کھڑی نظر اتی ہے-
2-دلچسپ بات یہ ہے کہ دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کو علمی میدان میں پیچھے کرنے کے لیے دینی ہتھیار کا سہارا لیتے ہوئے امتِ مسلمہ کے درمیان یہ عجیب و غریب شوشہ چھوڑا کہ اسلام کی نظر میں علم کی دو قسمیں ہیں: ا- دینی علوم- ب- عصری علوم- اور شریعت مطہرہ میں جو فضیلت علم سے متعلق وارد ہوئی ہے وہ صرف اور صرف دینی علوم سے متعلق وارد ہوئی ہے، عصری علوم اس میں بالکل شامل نہیں ہیں حالاں کے کلام پاک کی سب سے پہلی جو وحی نازل ہوئی:
اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِىۡ خَلَقَۚ ۞ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ۞
اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ۞ الَّذِىۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ ۞ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡؕ ۞ العلق: ١-٥) پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑا کرم والا ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا- اس آیت کریمہ میں مفعول بہ بھی کا ذکر ہی نہیں ہے جس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ شریعت مطہرہ نے کسی علم کو پڑھنے کی ممانعت نہیں فرمائی ہے، البتہ یہ بات یقینی ہے کہ شرعی علوم ہوں یا عصری علوم ان کا حقیقی فائدہ اسی وقت ہوگا جب بندہ ان علوم کی روشنی میں رب دو جہاں کی حقیقی معرفت حاصل کرے اور کتاب و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں اخلاق حسنہ کا پیکر بن کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری کر سکے، ورنہ ہ شریعت نے ان لوگوں کی اوصاف بھی بیان کئے ہیں جو شرعی اور دینی علوم حاصل کرنے کے باوجود صحیح معنوں میں کتاب و سنت پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے اور دنیا کی جاہ منصب کی لالچ نے جہنم کے دہانے پہنچا دیا، اللهم احفظنا منه، لہذا معلوم ہوا کہ: اِنَّ اَكرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰه اَتْقٰكُم ﴿الحشرات:١٣﴾ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے- دین اسلام میں اسی انسان کا مقام و مرتبہ ہے جو سب سے زیادہ متقی و پرہیزگار ہو، چاہے وہ عالم دین ہو یا جاہل، بادشاہ وقت ہو یا گدا گر زمانہ۔
اب آئیں ایک طائرانہ نظر ان دلائل پر ڈالتے ہیں جن میں دین اسلام نے شرعی اور عصری علوم کی کوئی تفریق نہیں کی مثلًا- رب العالمین کا ارشاد ہے:القرآن – وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمۡ عَلَى الۡمَلٰٓئِكَةِ فَقَالَ اَنۡۢبِـئُوۡنِىۡ بِاَسۡمَآءِ هٰٓؤُلَآءِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۞ قَالُوۡا سُبۡحٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ ۞(البقره:٣١-٣٢) اور اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا، اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ، ان سب نے کہا اے اللہ! تیری ذات پاک ہے, ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم و حکمت والا تو تو ہی ہے- تمام مفسرین نے اس آیت کریمہ کی جو تفسیر بیان کی ہے اس میں دینی اور عصری علوم دونوں شامل ہیں، دوسری جگہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے: وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡـكِتٰبَ تِبۡيَانًا لِّـكُلِّ شَىۡءٍ وَّ هُدًى وَّرَحۡمَةً وَّبُشۡرٰى لِلۡمُسۡلِمِيۡنَ۞ (النحل:٨٩) اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لیے۔
جب ہر چیز واضح کی گئی تو بھلا عصری علوم کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ غزوہ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ کے قیدیوں کو رہائی کے لیے دس دس مسلمانوں کو علم سکھلانے کی شرط رکھی تھی، جبکہ شرعی علوم و فنون کے ممبع و مرکز آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مشرکین مکہ سے کس علم کو حاصل کرنے کی تعلیم دی؟ پتہ چلا کہ امت مسلمہ پر عصری علوم کا حاصل کرنا بھی لازمی ہے، لہذا انجینیرنگ، وکالت، ڈاکٹری، بزنس، مینجمنٹ، اور مختلف جدید علوم کا حاصل کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے، مثلًا جو عالم دین حساب کتاب (Maths) ریاضی سے ناواقف ہو وہ بھلا فرائض، میراث اور زکوۃ کے مسائل کو کیسے حل کر پائے گا، اسی طرح جو عالم دین جغرافیہ اور تاریخ (History) سے نہ بلد ہو وہ قصص الانبیاء کی تفسیر کیسے کر پائے گا، ایسے ہی جو مسلمان سائنس وہ ٹیکنالوجی سے نا آشنا ہوں وہ دشمنانِ اسلام سے امتِ مسلمہ اور اسلامی مملکت کی کیسے حفاظت کر پائیں گے، وہ وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ۚ (الانفال:٦٠) تم ان کے مقابلے کے لیے اپنی طاقت بھر تیاری کرو اور گھوڑوں کو تیار رکھو تاکہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو۔ کی تفسیر کا کیا جواب دیں گے؟ حالانکہ زمانے کے قدم بقدم چلنے کے لیے صحابہ کرام کو تیر اندازی سیکھنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص حکم دیا تھا، حدیث پاک میں مذکور ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: اِرْمِ فِدَاكَ أبي واُمِّ ﴿صحيح البخاري:كتاب المغازي:باب:إذ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أنْ تَفْشَلَا وَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ المُؤمِنُوْن :٤٠٥٥﴾ (اے سعد!) خوب تیر برسائے جا- میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں- لہذا ان تمام دلائل سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ دین اسلام میں دینی اور عصری علوم کا حاصل کرنا لازمی امر ہے- البتہ ان علوم کے ساتھ انسان کے اندر تقوی، پرہیزگاری بھی ضروری ہے اور بالخصوص امت مسلمہ کے نوجوان جن کی اہمیت خود رب العالمین نے بیان فرمائی ہے: اِنَّهُمۡ فِتۡيَةٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّهِمۡ وَزِدۡنٰهُمۡ هُدًىۖ ﴿الكهف:١٣﴾ کہ کفر و ضلالت کی دنیا میں توحید کی شمع روشن کرنے والے نوجوان ہی تھے، اللہ کے دشمن شیاطین کی نگری میں اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر کلمہ شہادت کا پرچم لہرانے والے یہ نوجوان ہی تھے، نازک اور مشکل ترین حالات میں انبیاء علیہم السلام کی صدائیں من انصاری الا اللہ کا بے خوفی اور نڈر ہو کر ببانگ دہل خم ٹھونک کر نعرہ تکبیر کے ساتھ نحن انصار اللہ کی صدائیں بلند کرنے والے یہی گبرو نوجوان تھے، رحمت للعالمین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کی اہمیت اور انفوان شباب پر خاص توجہ دی ہے فرمایا: اغتنِمْ خمسًا قبلَ خمسٍ شبابَك قبلَ هرمِك وصحتَك قبل سقَمِك وغناك قبلَ فقرِك وفراغَك قبل شغلِك وحياتَك قبل موتِك ﴿رواه البيهقي في شعب الايمان: ١٠٢٤٨، صحيح الترغيب الالباني: ٣٣٥٥﴾ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو فقر و فاقہ سے پہلے، فرصت کو مضبولیت سے پہلے، اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔
علم اور انفوان شاب کی اہمیت کو بتلاتے ہوئے انگریزی زبان و ادب کے ماہر کسی شخص نے کیا ہی بہترین بات کہی ہے student life is golden life کہ انسان کا تعلیمی دور ایک بہترین دور ہوتا ہے جس کو سمجھانے کے لیے اردو زبان کے ماہر کسی اللہ کے بندے نے یوں کہا ہے: ´پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب کھیلو گے کودو گے تو ہو گے خراب` مگر ماتم منائیں ہم امت مسلمہ کے نوجوانوں کی عقل پر جنہوں نے student life is golden life کو student life is sleeping life اور حیات مستعار کو ´بابربہ عیش کوش کے عالم دوبارہ نیست` (اے بابر! اپنی زندگی کا بھرپور لطف اٹھاؤ کیونکہ زندگی دوبارہ نہیں ملے گی) سمجھ لیا ہے حالانکہ حیات مستعار، جوانی اور علم یہ ایسی بیش بہا قیمتی سرمایہ ہیں کہ بروز قیامت ہر انسان کو رب العالمین کے آگے جواب دہ ہونا ہے، فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: لا تزولُ قدما ابنِ آدمَ يومَ القيامةِ حتّى يسألَ عن خمسةٍ عن عُمرِه فيمَ أفْناه وعن شبابِه فيما أبلاه وعن مالِه من أين اكتسبَه وفيما أنفَقه وما عَمِلَ فيما عَلِمَ (سنن ترمذي: كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه: باب في القيامه: ٢٤١٦) آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے سلسلے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا۔
اور جہاں تک دین اسلام میں علم کی اہمیت اور فضیلت کی بات کی جائے تو قربان جاؤ میں رب العالمین کے اس احسان وکرم پر کہ رب دو جہاں نے اہل علم کا مقام و مرتبہ بتلانے کے لیے قران مجید میں اپنے اور فرشتوں کے ساتھ اہل علم کا ذکر کیا ہے فرمایا: شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ وَاُولُوا الۡعِلۡمِ قَآئِمًا ۢ بِالۡقِسۡطِؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُؕ ۞ ﴿آل عمران:١٨﴾ اللہ تعالی نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں اور عالموں نے انصاف قائم کرنے کے ساتھ کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور وہ عزت والا اور حکمت والا ہے- اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل علم کو انبیاء کے وارثین بتلا کر ان کی عظمت شان میں چار چاند لگا دیے فرمان نبوی ہے کہ: وَإنَّ العلماءَ ورثةُ الأنبياءِ وإنَّ الأنبياءَ لم يُورِّثوا دينارًا ولا دِرهمًا وإنما ورّثوا العلمَ فمن أخذهُ أخذَ بحظٍّ وافرٍ ﴿سنن ابي داود:كتاب العلم:باب الحث على طلب العلم: ٣٦٤١﴾ علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور نبیوں نے اپنا وارث درہم ودینار کا نہیں بنایا بلکہ علم کا وارث بنایا تو جس نے علم حاصل کیا اس نے ایک وافر حصہ لیا۔
امتِ مسلمہ کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ہماری فلاح و بہبودی اور کامیابی و کامرانی کا راز اسی میں منحصر ہے کہ ہم علم حاصل کریں اور علم کی روشنی میں کتاب و سنت کی صحیح معنوں میں پیروی کر کے دنیا و آخرت بے سرخرو ہوں، کیونکہ رب العالمین کا ارشاد ہے: يَرۡفَعِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ ۙ وَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ؕ (المجادله: ١١) اللہ تعالی تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور علم دیے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا،
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
ڈی محمد خالد جامعی سلفی ندوی
ہری ہر ، کرناٹک
استاذ جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !