سوشل میڈیا پر دار الافتاء ندوۃ العلماء کی طرف سے سوال و جواب کی صورت میں ایک فتویٰ ” مفتی کون ہیں ” کے عنوان سے نظر سے گزرا ، جو مجھے بہت پسند آیا ، اور مضمون کی افادیت کے پیش نظر میں اسے یہاں پر اپنے اسلوبٍ ترتیب کے ساتھ شئیر کرتا ہوں ، امید کہ آپ کو بھی پسند آئے گا ۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں
سوال
1 ۔ مفتی کے شرائط کیا ہیں ؟ کیا عالم ہونا کافی ہے یا دار الافتاء سے فراغت بھی ضروری ہے ؟
2 ۔ دینی ادارے سے فارغ کو عالم کہتے ہیں یا عربی ادب سے واقفیت کی بناء پر بھی عالم کہتے ہیں ؟
3 ۔ کیا عربی ادیب خاندانی تجربہ کی بنیاد پر فتویٰ دے سکتا ہے ؟
جواب
1- کتاب وسنت ، آثار صحابہ ، اصول فقہ ، قواعد فقہ اور فقہی جزئیات کے ذخیرہ پر نظر رکھتے ہوئے پیش آمدہ مسائل کو مذکورہ علوم کی روشنی میں حل کرنے کی جو عالم اہلیت رکھتا ہو اسے مفتی کہتے ہیں ۔
2 ۔ کسی ادارہ یا دارالافتاء سے فارغ ہونا ضروری نہیں ، اسی طرح علوم دینیہ کا جو شخص حامل ہو ، وہ عالم دین ہے ، خواہ ادب عربی کا ماہر ہو یا نہ ہو ، چونکہ دینی ادارہ یا دار الافتاء میں افتاء کی اہلیت کے اشخاص پیدا کئے جاتے ہیں ، اس دور میں گھریلو تعلیم میں بظاہر یہ اہلیت ممکن نہیں ، اس لئے یہ قید لگائی جاتی ہے ۔
3 ۔ محض عربی کے ادیب ہونے کی حیثیت سے فتویٰ دینے کا حق نہیں ، بلکہ مفتی کی اہلیت کا ہونا بھی ضروری ہے ، اسی طرح مفتی کی اہلیت کا ہونا کافی نہیں ہے ، بلکہ فتویٰ دینے کے لئے تقوی کا پایا جا نا ضروری ہے ۔
تحریر : محمد ظفر عالم ندوی
تصویب : مفتی ناصر علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ
قلمکار: غلام نبی کشافی سرینگر
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !