اسراء و معراج کا سفر حالت بیداری میں پیش آیاتھایا صرف اک خواب تھا؟
پہلی قسط
آج کا جو مضمون آپ پڑھنے جا رہے ہیں ، وہ اسراء و معراج کے واقعہ کے بارے میں ہے ، اور یہ مضمون خاصہ طویل ہوگیا ہے ، اس لئے یہ مضمون کئی قسطوں پر مشتمل ہوگا ۔
لہذا جو نوجوان بد قسمتی سے جاوید احمد غامدی اور دوسرے منکرین حدیث کے خرافات کے شکار ہیں ، یا ہو رہے ہیں ، وہ میرے اس قسط وار مضمون کو ایک بار ضرور غور سے پڑھیں ، شاید کہ حق بات سمجھنے میں مدد مل جائے ، اور وہ فتنہ انکار حدیث میں گرفتار ہونے سے بچ جائیں ۔ اللہ کرے ۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے تازہ خبر ملے
_____________________
میرے ایک مستقل قاری نے معراج نبوی کے حوالے سے ایک سوال اس طرح کیا ہے ۔
” آپ سے ایک سوال ہے کہ سورہ بنی اسرائیل آیت 60 میں لفظ ” الرُّؤْيَا ” آیا ہے ، جس کے معنی سمجھنے میں مجھے سخت کنفیوژن ہو رہا ہے کہ آیا اس کے معنی خواب ہیں یا حالت بیداری میں دیکھا ہوا کوئی نظارہ ہے ؟
کیا اسراء و معراج کا واقعہ حالت بیداری میں مشاہدہ چشم تھا یا حالت خواب میں تھا ؟ اگر آپ اس کے بارے میں کچھ رہنمائی اور اپنے جواب سے ممنون فرمائیں گے ، تو آپ کی بڑی مہربانی ہوگی ؟ "
سجاد احمد بٹ / سرینگر
برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ میں فتنہ قادیانیت کے بعد سب سے بڑا فتنہ انکار حدیث کا ہے ، اول الذکر فتنہ کے ذریعہ ختم نبوت کے اجماعی عقیدہ میں رخنہ ڈالنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے ، تو ثانی الذکر فتنہ کے ذریعہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی گئی ہے ۔
فتنہ انکار حدیث کے سرغنوں میں غلام احمد پرویز ، عبداللہ چکڑالوی ، اور اسلم جیراج پوری وغیرہ جیسے لوگوں کے نام نمایاں رہے ہیں ، لیکن آج کی تاریخ میں اس کار ابلیس کی ریاست کے علمبرداروں میں سے جاوید احمد غامدی ، راشد شاز اور عنایت اللہ سبحانی وغیرہ جیسے لوگ آگے آگے ہیں ۔
یہ لوگ احادیث کی ضرورت اور حجت سے انکار کے دلائل ان جگہوں سے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جہاں ان کو بزعم خویش لگتا ہے کہ وہ یہاں سے اپنا مقصد حاصل کرنے کی خاطر غیر متعلق یا غیر واضح دلائل سے استدلال کرکے لوگوں کو گمراہ کر سکتے ہیں ، اور ان کے ان کمزور استدلالات کی بھر مار ان کی کتابوں اور ان کے بیانات میں کسی ابہام کے بغیر صاف طور پر نظر آتی ہے ۔
موجودہ دور کے ان منکرین حدیث کے عزائم صرف انکار حدیث تک ہی محدود نہیں ہیں ، بلکہ وہ انکار معجزات میں بھی بہت دور تلک نکل گئے ہیں ۔ جن میں ایک سب سے بڑا معجزہ اسراء و معراج بھی ہے ، جسے منکرین حدیث کمزور دلائل اور بیجا تاویلات کا سہارا لیکر خواب کا واقعہ قرار دینے میں ہر طرح کے ہتھکنڈے آزماتے رہتے ہیں ۔
مولانا وحید الدین خان نے اسراء و معراج کے واقعہ کے حوالے سے اپنے سفرنامہ غیر ملکی اسفار کے جلد اول میں ایک جگہ پر ایک بہت ہی غور طلب بات ان سطور میں لکھی ہے ۔
” ہزاروں کیلو میٹر کا فاصلہ ” راتوں رات ” طے ہونے کا واقعہ بظاہر اتناہی عجیب ہے جتنا چودہ سوسال پہلے "سُبْحَانَ الَّـذِىٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى” کا واقعہ لوگوں کو عجیب معلوم ہوا تھا ۔ مگر آج کا انسان چوں کہ تیز رفتار کاروں اور ہوائی جہازوں کے زمانہ میں ہے اس لئے ایسی خبر سن کر آدمی کے اوپر حیرانگی طاری نہیں ہوتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے ” اسراء ” کا واقعہ بھی اتنا ہی غیر عجیب تھا ، جتنا موجودہ زمانہ کا واقعہ ۔ آج کا ” اسراء ” جس نظام اسباب کے تحت ہوتا ہے ، وہ چونکہ انسان کے سامنے کھلا ہوا ہے ، اس لئے اس پر انسان کو حیرانی نہیں ہوتی ۔ مگر چودہ سو سال پہلے کا ” اسراء” جس نظام اسباب کے تحت ہوا تھا وہ انسان کی نظروں سے اوجھل تھا ، اس لئے انسان اس کو سمجھ نہ سکا۔ تاہم قیامت میں اس دوسرے نظام (خدائی نظام ) سے پردہ ہٹ جائے گا۔ اس وقت انسان جان لے گا کہ اسراء خدا وندی بھی اسی طرح عین ممکن تھا ، جس طرح آج اسراء مشینی بالکل ممکن نظر آتا ہے "
لیکن معلوم نہیں کہ ان منکرین ِحدیث کو اس بات کی سمجھ کیوں نہیں کہ وہ اسراء و معراج کو حالت بیداری میں خدائی منصوبہ کے مطابق ایک باضابطہ سفر کا انکار کیوں کرتے ہیں ؟ کیا قادر مطلق خدا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء و معراج کرانے کے لئے عرش پر لے جانے سے عاجز ہے ؟ جبکہ اسی قادر مطلق خدا نے عرش سے جبریل امین علیہ السلام کے ذریعہ پورے تئیس سال تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی پہنچاتا رہا ، تو سوال یہ ہے کہ جب عرش سے نیچے تک جبریل امین کے آنے میں انکار نہیں ، تو اگر وہی اللہ تعالی کسی بندہ خاص کو زمین سے عرش تک لے جائے ، تو اس واقعہ کے انکار کے لئے تاویلات باطلہ کا سہارا کیوں لیا جاتا ہے ؟
اسراء و معراج کے واقعہ کا ذکر قرآن میں دو جگہ پر آیا ہے ، اور دونوں جگہوں پر اس واقعہ کا بیان اس طرح آیا ہے کہ قاری اسے حالت بیداری میں قبول کئے بنا نہیں رہ سکتا ہے ۔ جیساکہ اللہ تعالی سفر اسراء کا ذکر سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت اور پھر سفر معراج کا ذکر سورہ نجم کے پہلے رکوع میں کرتا ہے ، اور اس اسراء و معراج کے واقعہ پر بحث آگے آرہی ہے کہ کیا یہ واقعہ خواب میں پیش آیا تھا یا پھر حالت بیداری میں ؟ لیکن پہلے اس واقعہ کے متعلق تمام قرآنی آیات اور ان کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے ۔
سُبْحَانَ الَّـذِىٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى الَّـذِىْ بَارَكْنَا حَوْلَـهٝ لِنُرِيَهٝ مِنْ اٰيَاتِنَا ۚ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْـرُ ۔
( بنی اسرائیل : 1)
پاک ہے وہ اللہ ، جو لے گیا اپنے بندے ( نبی آخرالزماں محمد عربی) کو رات کے ایک حصہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک سیر ، جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے ، تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں ، بیشک وہ سننے والا ، دیکھنے والا ہے ۔
وَالنَّجْـمِ اِذَا هَوٰى ۔
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰى ۔
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْـهَـوٰى ۔
اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوحٰى ۔
عَلَّمَهٝ شَدِيْدُ الْقُوٰى ۔
ذُوْ مِرَّةٍ فَاسْتَوٰى ۔
وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۔
ثُـمَّ دَنَا فَتَدَلّـٰى ۔
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۔
فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى ۔
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى ۔
اَفَتُمَارُوْنَهٝ عَلٰى مَا يَرٰى ۔
وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَـةً اُخْرٰى ۔
عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْـتَهٰى ۔
عِنْدَهَا جَنَّـةُ الْمَاْوٰى ۔
اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى ۔
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى ۔
لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْـرٰى ۔
( النجم : 1 تا 18)
قسم ہے ستارے کی جب وہ ڈوبنے لگے۔
تمہارا ساتھی نہ بھٹکا ہے اور نہ بہکا ہے۔
اور نہ وہ اپنی خواہش سے کچھ کہتا ہے۔
یہ تو وحی ہے جو اس پر آتی ہے۔
بڑے طاقتور (جبرائیل) نے اسو سکھا دیا ہے۔
جو بڑا زور آور ہے ، پھر وہ نمودار ہوا ( اپنی اصلی صورت میں) ۔
اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے پر تھا۔
پھر وہ نزدیک ہوا اور نزدیک ہوا۔
پھر فاصلہ دو کمان کے برابر تھا یا اس سے بھی کم ۔
پھر اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی ۔
جھوٹ نہیں کہا ( پیغمبر اسلام کے) دل نے ، جو اس نے دیکھا ۔
اب جو کچھ اس نے دیکھا تم اس میں جھگڑتے ہو۔
پھر اس نے اس کو ایک بار اور بھی دیکھا ۔
سدرۃ المنتہٰی کے پاس۔
جس کے پاس جنت الماوٰی ہے ۔
جب کہ اس سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا (یعنی نور)۔
نہ تو نگاہ بہکی نہ حد سے بڑھی ۔
بیشک اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔
ان آیات کو بغور پڑھنے کے بعد کیا کوئی سنجیدہ مسلمان علمی اعتبار سے یہ کہنے کی جرئت کرسکتا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک خواب تھا ، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا تھا ، اور اگر یہ واقعہ خواب میں پیش آیا تھا ، تو پھر اس پر اتنی زیادہ اہمیت کیوں ؟ مشرکین مکہ کے لوگوں نے اس اسراء و معراج کے واقعہ کو سن کر جو سوالات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھائے تھے ، تو کیا کوئی عقل رکھنے والا شخص اس واقعہ کو خواب قرار دے سکتا ہے ؟ کیونکہ مشرکین مکہ کو اس وقت خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا دیا تھا کہ آپ کو حالت بیداری میں رات کے ایک حصہ میں اسراء و معراج کرایا گیا تھا ، جیساکہ اس سلسلہ میں ایک روایت اس طرح آئی ہے ۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ ۔
(صحيح البخاري : كِتَابٌ مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ : بَابٌ حَدِيثُ الْإِسْرَاءِ : رقم الحدیث 3886)
سیدناجابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جب قریش نے ( اسراء و معراج کے واقعہ کے حوالے سے) مجھ کو جھٹلایا ، تو میں حجر میں کھڑا ہوا ، پھر اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے ظاہر فرما دیا. چنانچہ میں نے ان کو اس کی نشانیاں بتانی شروع کردیں اور میں اس ( بیت المقدس) کو دیکھتا جاتا تھا ۔
ایک سیرت نگار روح و جسم کے ساتھ حالت بیداری میں پیش آئے اس اسراء و معراج کے واقعہ کے بارے میں لکھتے ہیں ۔
” اگر یہ واقعہ خواب میں پیش آیا ہوتا تو یہ کوئی بڑی چیز نہ ہوتی ، نہ کوئی عظیم واقعہ ہوتا ، اس لئے کہ خواب میں تو انسان نہ جانے کہاں سے کہاں جا پہنچتا ہے اور نہ جانے کیا کیا دیکھ لیتا ہے ۔ اس میں کوئی تعجب کی بات بھی نہیں ہوتی ، کیونکہ وہ محض خواب ہی ہوتا ہے ، کوئی حقیقت تو نہیں ہوتی .
مزید یہ کہ اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو کفار قریش اس کی تکذیب میں جلدی نہ کرتے ، وہ کہہ دیتے کہ چلو کوئی بات نہیں ، بس خواب ہی تو دیکھا ہے ۔ اسی طرح لوگوں کی ایک جماعت جو نئی نئی مسلمان ہوئی تھی ، مرتد نہ ہوتی ۔ پھر درج بالا آیت (یعنی ” سُبْحَانَ الَّـذِىٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى ") میں اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ” نبی ” یا ” رسول ” وغیرہ کے بجائے بطور خاص ” عبد ” کا لفظ استعمال فرمایا ۔ اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ صرف روح نے اس سفر کی سعادت حاصل نہیں کی ، یا یہ سفر خواب کی حالت میں طے نہیں ہوا بلکہ روح اور جسم دونوں نے یہ سارا سفر بحالت بیداری کیا ، اس لئے لفظ ” عبد ” روح اور جسم دونوں کا مجموعہ ہے ، اکیلی روح یا تنہا جسم کے لئے یہ لفظ بولا ہی نہیں جاتا "
( سیرت انسائیکلوپیڈیا : ج 4 ، ص 36 /ایڈیشن 1433ھ دار السلام ریاض )
(جاری)
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !