Guild Hall

میئر کا وزن: احتساب کی ایک روایت

آکسفورڈ سے لندن کی سمت میں تقریباً بائیس میل کے فاصلے پر واقع ایک قدیم شہر ہے ہائی وِیکومب (High Wycombe)۔ یہ شہر محض اپنی جغرافیائی حیثیت یا تاریخی عمارتوں کے باعث معروف نہیں، بلکہ ایک ایسی روایت کے سبب بھی یاد رکھا جاتا ہے جس میں اقتدار کو محض عزت کے لبادے میں نہیں لپیٹا جاتا تھا، بلکہ ترازو میں رکھ کر پرکھا جاتا تھا، وہاں ایک عہد ایسا بھی گزرا ہے جب احتساب محض قانونی اصطلاح نہ تھا، نہ کسی ضابطے کی مردہ شق، بلکہ عوامی شعور کی زندہ، متحرک اور بولتی ہوئی علامت ہوا کرتا تھا۔
اس شہر میں اقتدار نہ فائلوں کی گرد میں چھپتا تھا، نہ قواعد و قوانین کے بھاری اور خوش نما پردوں میں لپیٹا جاتا تھا، بلکہ صاف سادگی کے ساتھ ایک کرسی پر بٹھایا جاتا، ایک ترازو میں تولا جاتا، اور سب کے سامنے اس کا فیصلہ سنا دیا جاتا تھا۔ اس روایت کو (Weighing the Mayor) يعنی "میئر کو تولنے” کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا پہلا مستند تحریری حوالہ 1678ء سے ملتا ہے، اگرچہ اس کی فکری جڑیں قرونِ وسطیٰ کی عوامی حکمت میں پیوست دکھائی دیتی ہیں۔ گویا یہ وہ زمانہ تھا جب قومیں سبق کہانیوں میں نہیں، حقیقت میں لکھا کرتی تھیں۔
جب شہر میں بلدیہ کا نیا سربراہ (Mayor) منتخب ہوتا، تو اسے اقتدار کی مسند پر بٹھانے سے پہلے احتساب کی کرسی پر بٹھایا جاتا۔ گلڈ ہال (Guild Hall)—جو عام دنوں میں شہر کے اجتماعی فیصلوں کا مرکز ہوتا تھا—اس دن باقاعدہ عوامی عدالت بن جاتا۔ وہاں ایک بڑی، مضبوط لکڑی کی وزنی کرسی (weighing chair) رکھی جاتی، نہ زیادہ آرام دہ، نہ تزئین و آرائش سے آراستہ، کیونکہ وہ آسائش کے لیے نہیں، بلکہ گواہی کے لیے بنائی گئی تھی۔
بلدیہ کا سربراہ اس کرسی پر بیٹھتا، چند معتبر شہری، جنہیں وزن کرنے والے کہا جاتا تھا، پورے وقار اور سنجیدگی کے ساتھ ترازو کو حرکت دیتے، اور اس کے جسم کا وزن ناپ کر باقاعدہ درج کر لیا جاتا۔ گویا اقتدار کے پہلے ہی دن ایک صاف لکیر کھینچ دی جاتی: "جناب! یہاں سے آگے آپ کی حیثیت خدمت کی ہے، منفعت خورى کی نہیں۔”
اس موقع پر شہر کے معززین بھی شریک ہوتے، اہلِ بازار بھی، اور عام لوگ بھی۔ سب ایک ہی نظر سے دیکھتے، سب ایک ہی فیصلے کے گواہ ہوتے۔ کوئی مخصوص نشست، کوئی پردہ، کوئی رعایت نہ ہوتی۔ ان سب کے درمیان ایک شخص کھڑا ہوتا، جسے میس بیئرر (Macebearer) كہا جاتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں اقتدار کی علامت ہوتی، مگر زبان پر صرف سچ کی حکمرانی ہوتی تھی۔ وہ نہ تاویل کرتا، نہ وضاحت، بلکہ ترازو کا فیصلہ جوں کا توں، بلند آواز میں سنا دیتا۔
پھر ایک برس گزرتا، بلدیہ کا سربراہ اقتدار کی کمان سنبھالتا، خزانے کی تمام تدابیر اس کے زیرِ اختیار ہوتی تھیں، ٹیکس وصول ہوتے، منصوبے بنتے، فائلیں گردش میں رہتیں، اور طاقت، اپنی پرانی عادت کے مطابق، انسان کو آزمانے لگتی۔ ایک سال بعد وہی سربراہ دوبارہ بلایا جاتا۔ وہی گلڈ ہال، وہی وزنی کرسی، وہی ترازو، وہی عوام، مگر اب فضا میں ایک خاموش مگر بھاری سوال معلق ہوتا۔
اگر میس بیئرر پکار اٹھتا: "اور کچھ نہیں!” تو شہر مطمئن ہو جاتا۔ اس اعلان کا صاف مطلب یہ ہوتا کہ سربراہ نے اقتدار کو اپنا خادم نہیں بنایا، عوامی خزانے کو اپنا ذاتی دسترخوان نہیں سمجھا۔ تالیاں بجتیں، اعتماد تازہ ہوتا، اور وہ عزت کے ساتھ اٹھ جاتا، یوں سمجھیے کہ وزن نہ بڑھنے پر وقار بڑھ جاتا تھا۔
لیکن اگر آواز بلند ہوتی: "اور کچھ زیادہ!” تو پھر کسی دلیل، کسی وضاحت، کسی رپورٹ یا کسی اعلامیے کی حاجت باقی نہ رہتی۔ سب جان لیتے کہ اقتدار نے صاحبِ اقتدار کو موٹا کر دیا ہے۔ قہقہے گونجتے، آوازیں بلند ہوتیں، اور کبھی کبھى سڑی ہوئی سبزیاں اور پھل فضا میں اڑتے۔ یہ تذلیل ذاتی نہ ہوتی، بلکہ اصولی، ایک عوامی فیصلہ، جو نہ التوا مانگتا تھا اور نہ اپیل کی مہلت۔
ہائی وِیکومب کے لوگ یہ حقیقت خوب جانتے تھے کہ اقتدار اگر عوامی نگاہ سے اوجھل ہو جائے تو خود کو کھانے لگتا ہے، اور اگر عوام کے سامنے رکھا جائے تو دبلا رہتا ہے۔ ان کے نزدیک احتساب کی اصل قوت اس کی سادگی میں تھی، اور یہی سادگی اسے بے رحم مگر مؤثر بنا دیتی تھی۔
اب اگر ہم اپنی آنکھیں حال کی طرف موڑیں تو ایک تلخ مسکراہٹ خود بخود لبوں پر آ جاتی ہے۔ آج کی دنیا میں اقتدار صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہا۔ یہ مساجد کی کمیٹیوں میں بھی موجود ہے، مدارس کے صحنوں میں بھی جلوہ گر ہے، اسکولوں کے دفاتر میں بھی، اور تعلیمی اداروں کے ٹرسٹ کمروں میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ یہاں بھی سربراہ ہیں، ناظم ہیں، مہتمم ہیں، اور ڈائریکٹر ہیں، اور ان سب کے نام پر خدمت، اصلاح اور خیر کے نہایت دل فریب دعوے بھی۔
مدرسہ غریب بچوں کے نام پر قائم ہوتا ہے، مگر چند برسوں میں اس کے منتظم کی رہائش میں وسعت آ جاتی ہے۔ اسکول فلاحی مقصد کے تحت کھلتا ہے، مگر اس کے ناظمِ اعلیٰ کی گاڑیاں بدلتی رہتی ہیں۔ فیسیں بڑھتی ہیں، مگر اس اضافے کا وزن کبھی ناپا نہیں جاتا۔ عطیات دین کے نام پر آتے ہیں، مگر ان کے اثرات زیادہ تر چند مخصوص کمروں اور مخصوص افراد تک محدود رہتے ہیں۔
یہاں کوئی گلڈ ہال نہیں جہاں سوال اٹھے، کوئی وزنی کرسی نہیں جس پر کسی کو بٹھایا جائے، اور کوئی میس بیئرر نہیں جو صاف لفظوں میں اعلان کر سکے: "اور کچھ زیادہ!”
یہاں اگر وزن بڑھتا ہے، چاہے جسمانی ہو یا مالی، تو اس کا نام "انتظامی ضرورت” رکھ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی سادہ لوح سوال اٹھا بیٹھے تو اسے فوراً "ادارے کی بدنامی” قرار دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔
یہی حال سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں کا بھی ہے۔ اساتذہ مراعات کے لیے ترستے ہیں، طلبہ سہولتوں کے لیے، مگر انتظامیہ کے دفاتر وقت کے ساتھ زیادہ محفوظ، زیادہ آراستہ اور زیادہ آرام دہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ جو کچھ ہائی وِیکومب میں ایک سال میں طے ہو جاتا تھا، یہاں دہائیوں میں بھی طے نہیں ہو پاتا۔
اصل فرق کردار کا نہیں، نظام کا ہے۔ وہاں احتساب عوامی تھا، یہاں بند کمروں میں قید۔ وہاں اقتدار کو تولنے کی جرأت تھی، یہاں صرف بیان دینے کی سہولت ہے، اور بیان بھی اکثر وزن کم کرنے کے لیے نہیں، وقت گزارنے کے لیے دیا جاتا ہے۔
ہمیں نہ لکڑی کی کرسی واپس لانے کی ضرورت ہے، نہ لوہے کے ترازو کی، مگر ہمیں ان کی روح کی اشد ضرورت ہے، وہ روح جو کسی سربراہ، کسی ناظم، کسی مہتمم سے نہایت سادگی، مگر پوری بے رحمی کے ساتھ یہ سوال پوچھ سکے: تم آئے تو کتنے تھے، اور اب کتنے ہو؟
کیونکہ ہائی وِیکومب کے لوگوں نے 1678ء ہی میں یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ: جہاں اقتدار کو کبھی تولا نہ جائے، وہاں وہ ہمیشہ حد سے زیادہ بھاری ہو جاتا ہے۔

Dr Akram Nadwi

قلمکار : ڈاکٹر محمد اکرم ندوی لندن

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے