الطاف حسین ندوی

ہمارے اخلاقی بگاڑ کے بعد اب نوبت مزاجی بگاڑ تک آچکی ہے !

یہ جملہ آج کے معاشرے کی ایک تلخ مگر سچی تصویر ہے۔ ہم اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ لوگ بدل گئے ہیں، لہجے سخت ہو گئے ہیں، برداشت ختم ہو گئی ہے۔ مگر کم ہی یہ سوچتے ہیں کہ اس تبدیلی کی جڑ کہاں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مزاج کی یہ خرابی اچانک پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اس سے پہلے اخلاق کا چراغ بجھا ہے۔

اخلاق انسان کے اندر توازن پیدا کرتے ہیں۔ سچ، صبر، احترام اور انصاف وہ ستون ہیں جن پر فرد اور معاشرہ کھڑا ہوتا ہے۔ جب یہ ستون کمزور پڑتے ہیں تو انسان کے رویّے بھی لڑکھڑا جاتے ہیں۔ پھر بات بات پر غصہ، اختلاف پر نفرت، اور تنقید پر اشتعال معمول بن جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اخلاقی بگاڑ، مزاجی بگاڑ میں بدل جاتا ہے۔

Image Source Social Media

انسانی معاشرے کی بنیاد اخلاق پر ہوتی ہے۔ اخلاق ہی وہ پیمانہ ہے جو انسان کو حیوانیت سے ممتاز کرتا ہے۔ جب اخلاق مضبوط ہوں تو معاشرہ توازن، برداشت اور حسنِ سلوک کا نمونہ بنتا ہے، لیکن جب اخلاق زوال کا شکار ہوں تو اس کے اثرات صرف اعمال تک محدود نہیں رہتے بلکہ انسان کے مزاج، سوچ اور رویّے تک سرایت کر جاتے ہیں۔ آج ہم اسی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اخلاقی بگاڑ کے بعد مزاجی بگاڑ نمایاں طور پر سامنے آ رہا ہے۔

اخلاقی بگاڑ کیا ہے؟

اخلاقی بگاڑ سے مراد سچائی، امانت، حیا، صبر، احترام اور انصاف جیسی اقدار کا کمزور یا ختم ہو جانا ہے۔ جب جھوٹ معمول بن جائے، دھوکہ چالاکی سمجھا جائے، اور خود غرضی کو ذہانت کا نام دیا جائے تو یہ اخلاقی زوال کی واضح علامتیں ہیں۔ایسے ماحول میں فرد صرف اپنے فائدے کو دیکھتا ہے، اسے نہ معاشرے کی فکر ہوتی ہے اور نہ دوسروں کے جذبات کی۔


اخلاق سے مزاج تک کا سفر

اخلاق انسان کے باطن کو سنوارتے ہیں جبکہ مزاج اس باطن کا ظاہری اظہار ہوتا ہے۔
جب اخلاق کمزور پڑتے ہیں تو انسان کے مزاج میں بھی تلخی، جلد بازی، عدم برداشت اور غصہ پیدا ہو جاتا ہے۔
آج معمولی بات پر لڑ پڑنا، اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنا، اور تنقید کو ذاتی حملہ مان لینا عام ہو چکا ہے۔ یہ سب مزاجی بگاڑ کی نشانیاں ہیں جو اخلاقی کمزوری سے جنم لیتی ہیں۔

موجودہ معاشرتی منظرنامہ

ہمارے اردگرد نظر دوڑائیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ

  • برداشت کم ہو چکی ہے
  • لہجہ سخت ہو گیا ہے
  • احترام کی جگہ طنز نے لے لی ہے
  • اور مکالمے کی جگہ الزام تراشی نے

گھروں میں سکون کم، دفاتر میں تناؤ زیادہ، اور سڑکوں پر غصہ عام نظر آتا ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ مسئلہ صرف قانون یا نظام کا نہیں بلکہ انسان کے اندرونی توازن کے بگڑنے کا ہے۔


مزاجی بگاڑ کے اثرات

مزاجی بگاڑ فرد کو تنہائی، بے چینی اور ذہنی دباؤ کی طرف لے جاتا ہے۔
ایسا شخص نہ خود مطمئن رہتا ہے اور نہ دوسروں کو سکون دیتا ہے۔
معاشرتی سطح پر یہ بگاڑ نفرت، انتشار اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے، جس سے پورا سماج عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔


اس بگاڑ کی بنیادی وجوہات

  1. اخلاقی تربیت کا فقدان
  2. مادّہ پرستی اور خود غرضی
  3. مثبت اقدار سے دوری
  4. برداشت اور صبر کی کمی
  5. اچھے نمونوں (Role Models) کا فقدان

جب انسان صرف کامیابی کو مقصد بنا لے اور کردار کو نظرانداز کر دے تو یہی انجام ہوتا ہے۔


اصلاح کی ضرورت اور راستہ

اگر ہم واقعی اس زوال کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں واپس اخلاق کی طرف لوٹنا ہوگا۔
اخلاق کی بحالی ہی مزاج کی درستگی کا واحد راستہ ہے۔
گھروں میں تربیت، معاشرے میں برداشت، اور فرد کے اندر خود احتسابی پیدا کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔


نتیجہ

یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ
اخلاقی بگاڑ نے ہمیں مزاجی بگاڑ تک پہنچا دیا ہے۔
لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ اگر ہم آج بھی سنجیدگی سے اپنے رویّوں، لہجوں اور اقدار کا جائزہ لیں تو اس سفر کو پلٹا جا سکتا ہے۔
اخلاق سنور جائیں تو مزاج خود بخود سنور جاتا ہے، اور مزاج سنور جائے تو معاشرہ پھر سے انسانیت کا آئینہ بن سکتا ہے۔

قرآنِ مجید نبی کریم ﷺ کے اخلاق کو انسانیت کے لیے نمونہ قرار دیتا ہے:
“وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ” (القلم: 4)
یعنی آپ ﷺ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاق محض ذاتی خوبی نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کی بنیاد ہیں۔ جب یہی بنیاد کمزور پڑتی ہے تو انسان کے مزاج میں سختی، بے صبری اور عدم برداشت پیدا ہو جاتی ہے۔

قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ سخت مزاجی لوگوں کو قریب نہیں بلکہ دور کر دیتی ہے:
“وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ” (آلِ عمران: 159)
اگر آپ سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد جمع نہ رہتے۔ یہ آیت آج کے معاشرتی رویّوں پر گہرا تبصرہ ہے، جہاں تلخی کو حق گوئی اور بدتمیزی کو صاف گوئی سمجھ لیا گیا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے اخلاق کو انسان کی اصل قدر قرار دیا۔
حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں” (صحیح بخاری)۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ انسان کی بھلائی کا معیار نہ دولت ہے، نہ طاقت، بلکہ اخلاق ہیں۔ جب اخلاق گر جاتے ہیں تو مزاج بگڑ جاتا ہے، اور پھر بہترین صلاحیتیں بھی منفی رخ اختیار کر لیتی ہیں۔

مزاجی بگاڑ کی سب سے نمایاں علامت غصہ ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے مختصر مگر جامع نصیحت فرمائی:
“غصہ نہ کیا کرو” (صحیح بخاری)۔
قرآن بھی غصے پر قابو پانے والوں کو پسندیدہ قرار دیتا ہے:
“وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ” (آلِ عمران: 134)۔

حضرت علیؓ کا قول ہے:
“انسان کا اخلاق اس کا اصل تعارف ہوتا ہے۔”
امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں:
“بد اخلاقی ایسی بیماری ہے جو عبادت کی روح کو بھی ختم کر دیتی ہے۔”
یہ اقوال اس حقیقت کو مضبوط کرتے ہیں کہ اخلاقی خرابی صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ روحانی زوال بھی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مزاج کی خرابی کا الزام صرف حالات یا دوسروں پر نہ ڈالیں، بلکہ اخلاقی تربیت کی طرف واپسی کو سنجیدگی سے اختیار کریں۔ قرآن، حدیث اور اکابرین سب ایک ہی سمت رہنمائی کرتے ہیں کہ اخلاق سنور جائیں تو مزاج خود بخود اعتدال میں آ جاتا ہے۔

اگر ہم نے اس پہلو کو نظرانداز کیے رکھا تو معاشرہ ظاہری ترقی کے باوجود اندر سے مزید کھوکھلا ہو جائے گا۔ اور اگر ہم نے اخلاق کو دوبارہ مرکز بنا لیا تو یہی معاشرہ نرمی، برداشت اور وقار کی مثال بن سکتا ہے۔

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے