nadwi

مولانا سیدابوالحسن علی ندوی ؒ نے عرب و عجم کو متاثر کیا تھا

عالمِ اسلام میں کبھی بھی علماءِ ربانیین کی کوئی کمی نہیں رہی ہے، ایک گیا دس آ گئے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ پہلا جیسا دوبارہ نہیں آیا۔ حضرت امام جعفر صادقؒ، امام اعظم ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام بخاریؒ، امام مسلمؒ، امام ترمذیؒ، امام ابو داؤدؒ، امام ابن تیمیہؒ، امام ابن کثیرؒ، مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ میں سے کسی نے بھی کسی دوسرے سے دین کا کام کم نہیں کیا، مگر جو پہلے آیا، جو کام اس نے کیا وہ انہی کا حصہ بن کر رہ گیا اور اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ ”خیر القرون“ سے جس کسی کو بھی جتنی قربت رہی ہے، اس سے جو ملا وہ بعد والوں کو نصیب نہ ہوا۔ شاید ”خیر القرون قرنی“ میں یہ بھی شامل ہو۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

خود ہم اپنے دور یا اس سے پہلے جن بزرگ ہستیوں سے واقف ہیں مثال کے طور پر سید احمد شہیدؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا سید علی مونگیریؒ، علامہ شبلی نعمانیؒ، امام حسن البنّا شہیدؒ، علامہ انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، علامہ سید سلیمان ندویؒ، سید قطب شہیدؒ، علامہ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور مولانا امین احسن اصلاحیؒ کے کارناموں پر نظر ڈالئے تو پتہ چلے گا کہ ایک سے بڑھ کر ایک، مگر جو پہلے آیا، جو علمی اور عملی طور پر وہ کر سکا بعد والے اصحاب ایسا نہ کر سکے۔

ایسا ہونا کوئی انہونی اور اچھنبہ بھی نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے کہ قیامت سے قبل علم اُٹھا لیا جائے گا اور (ان ایام میں) جہالت اترے گی اور قتلِ عام ہوگا۔ حضور اکرم ﷺ نے خود ہی بعض صحابہ کے پوچھنے پر اس کی وضاحت یوں فرمائی کہ علم کتابوں سے غائب تو نہیں ہوگا، البتہ اس علم کے حقیقی علماء کو اُٹھا لیا جائے گا اور پیچھے جُہلا رہ جائیں گے، لوگ ان سے دینی مسائل پوچھیں گے، وہ چونکہ خود بھی نہ جاننے کے سبب گمراہ ہوں گے لہٰذا غلط ملط جواب دے کر اُنھیں بھی گمراہ کریں گے۔

علماءِ حق میں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی الندویؒ ایک ایسا نام ہے جن کا انتقال عیسوی صدی کے آخری روز ۱۳ دسمبر ۱۹۹۹ء بروز جمعۃ المبارک ٹھیک گیارہ بج کر پچاس منٹ پر ہوا اور اس طرح عیسوی صدی کے آخری روز ”ایک صدی کے علماءِ ربانیین“ کے قافلے کے آخری مردِ مجاہد، عالمِ بے بدل اور اسلاف کی جیتی جاگتی نشانی اس عالمِ فانی سے کوچ کر گئے۔
اِنّا للّٰہ و اِنّا اِلَیہِ راجِعون۔

مولانا برصغیر میں ”علی میاں“ جبکہ عرب میں ”شیخ ندوہ“ کے نام سے مشہور تھے۔ آپ نے علمی، دینی اور روحانی خاندان میں آنکھ کھولی۔ آپ نے اولین دینی تعلیم و تربیت والدہ ماجدہ ”خیر النساء“ سے پائی ہے، جو خود بھی کم و بیش پچیس کتابوں کی مصنفہ تھیں۔ آپ کے والدِ محترم سید عبدالحئی حسنی ندویؒ بلند پایہ مصنف اور داعیِ حق تھے، آپ کی کتاب ”نزہۃ الخواطر“ اس بات کی گواہ ہے۔

آپ عرصۂ دراز تک ”ندوۃ العلماء لکھنؤ“ کے ناظم رہے ہیں۔ مولانا علی میاں کی اصل تربیت ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر سید عبد العلی حسنی ندویؒ نے کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ خود ہی جدید و قدیم علوم سے بہرہ ور تھے، لہٰذا انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی مولانا علی میاں ندویؒ کو بھی عرب سے لے کر عجم تک ہر صاحبِ فن و علم کی خدمت میں بھیج کر اپنے سے بھی بڑا عالم اور ماہرِ دین بنا دیا۔

مولانا ابو الحسن علی ندویؒ نے اپنی والدہ کے بعد باضابطہ عربی تعلیم علامہ خلیل عربؒ سے حاصل کی ہے، ان کے بعد ندوہ کے اساتذہ سے بھرپور استفادہ حاصل کیا۔ ندوہ کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے کم سنی میں ہی فاضلِ ادب کی ڈگری حاصل کی۔ حدیث کی اکثر کتابیں حرفاً حرفاً علامہ حیدر حسن خانؒ (جو ندوۃ العلماء لکھنؤ کے اس وقت شیخ الحدیث تھے) سے پڑھی ہیں۔ ان کے بعد آپ کو ڈاکٹر صاحب نے علومِ تفسیر کے لیے مولانا احمد علی لاہوریؒ صاحب کے پاس بھیج دیا، جہاں آپ نے قرآن پاک کی مکمل تفسیر پڑھی۔

اس کے بعد آپ دارالعلوم دیوبند چلے گئے، جہاں آپ نے شیخ الاسلام حسین احمد مدنیؒ اور علامہ انور شاہ کشمیریؒ سے بھرپور استفادہ کیا، اور واپسی پر آپ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں مدرس تعینات کیے گئے اور آپ نے تفسیر، حدیث، عربی ادب، تاریخ اور منطق کا درس دینا شروع کیا۔

لیکن انہیں یہ احساس چند سالوں کی محنت کے بعد ستانے لگا کہ طلبہ اور نوجوانوں کی تربیت محض مدرسہ کی چار دیواری میں محدود رہ کر تدریسی مشغلہ کے ذریعہ نہیں کی جا سکتی ہے، ان کی ذہنی و فکری تربیت اور عملی اصلاح کے لیے کسی صالح تحریک و دعوت کی ضرورت ہے۔ اس تجسس و جستجو کا نتیجہ یہ تھا کہ مولانا سید مودودیؒ سے ملاقات کی، ان کے مضامین کا تاثر اور نقش دماغ پر قائم تھا، اور جن بنیادی مقاصد کے لیے جماعت قائم کی گئی تھی اس کے لیے جو فکری سانچہ بنایا تھا، مولانا اس سلسلہ میں پائے جانے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے اس سے منسلک ہو گئے، اور ۱۹۴۱ء میں اس کے باقاعدہ رکن بن گئے۔
(ماہنامہ بانگِ درا لکھنؤ، اپریل ۲۰۰۰ء)

اُمتِ اسلامیہ ہندیہ کے مایہ ناز عالمِ دین اور بلند پایہ دانشور علامہ سید سلمان ندوی صاحب حضرت مولانا علی میاںؒ کے جماعت اسلامی کے ساتھ وابستگی اور پھر برادرانہ انقطاع کے بارے فرماتے ہیں کہ جماعت سے وابستگی کا مقصد یہ تھا کہ مسلم نوجوان احساسِ کمتری سے آزاد ہوں، انگریزوں کی ذہنی اور فکری غلامی کا طوق اتار کر پھینک دیں اور عالم میں اسلام کی بالادستی کے لیے کوشاں ہو جائیں، لیکن مولانا ابو الحسن علی ندویؒ اس دوران یہ محسوس کرتے تھے کہ اس نظام کو عملاً برپا کرنے اور اسلام کی سچی نمائندگی کرنے کے لیے جو صفاتِ ایمانی، اخلاقِ ربانی، روحانیت و تزکیۂ نفس ضروری ہیں، وہ اس ماحول میں فراہم نہیں ہیں۔

اس سے ان کے اندر ایک بے چینی پیدا ہوئی اور یہ خیال غالب آیا کہ فکری تربیت جو محض نظری ہو، وہ اسلام کی بالادستی پر منتج ہو سکتی ہے، لیکن اسلام کی پُرکشش نمائندگی اور اصلاحِ قلوب کے مطلوبہ عمل کی طرف نہیں لے جا سکتی۔ اس لیے مولانا کشاں کشاں تزکیہ کے لیے مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ اور دعوت و تحریک کے لیے مولانا الیاس کاندھلویؒ کے یہاں پہنچے۔

مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ نے اپنی تصنیفات کی ابتدا ایک ایسی کتاب سے کی جو خود مولانا کے اندرونی جذبے کی اپنی ترجمانی کرتی ہے، اور وہ ہے ایک عظیم سالار، شہیدِ اسلام حضرت سید احمد شہیدؒ کی سیرت۔ یہ کتاب مولاناؒ کی پہلی کتاب ہے۔ گو جہاد و قتال کے لیے اگرچہ مولانا کے لیے میدان ہموار نہ تھا، مگر اس کتاب کی تصنیف اور اس میں جگہ جگہ اپنی بے تابی اور تحریکِ شہیداں کے بارے میں تشنگی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کے خواہشمند تو ہیں مگر میدان میسر نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب انہیں اسلام کے لیے ان کی خدماتِ جلیلہ کے اعتراف میں شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ سامنے آیا تو مولاناؒ نے اس ایوارڈ سے ملنے والی بیشتر رقم ”سویت یونین کے خلاف برسرِ پیکار مجاہدینِ افغانستان“ کے نام کر دی۔

انہوں نے اپنی بیشتر کتابیں عربی زبان میں لکھی ہیں، اور ان میں سب سے مشہور ”ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر“ عرب و عجم میں برابر مقبول ہے، حتیٰ کہ اس کتاب کو بعض عرب ممالک میں یونیورسٹی کے نصاب میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔ اسلامی تحریکات میں ”اخوان المسلمین“ کے ہاں یہ کتاب بے حد مقبول ہے۔ اس کتاب پر اخوان المسلمین کے ایک عظیم رہنما اور مفسرِ قرآن سید قطب شہیدؒ نے انتہائی جاندار مقدمہ لکھا ہے، جس نے کتاب کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔ مولانا نے اسلام کے مختلف موضوعات پر کم و بیش دو سو کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں کئی ایک چار پانچ جلدوں پر مشتمل ہیں۔

مولاناؒ کے کارہائے نمایاں میں سب سے اہم ان کا اُمت کو ایک ہی لڑی میں پرونے کی ان کی کوشش تھی، جس میں مولاناؒ بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ انہی کوششوں کا ایک نتیجہ تھا، جس میں اُمتِ اسلامیہ ہندیہ کے کم و بیش تمام مکاتبِ فکر (شیعہ، دیوبندی، بریلوی، سلفی، جماعتِ اسلامی) کے لوگ شامل تھے اور اب بھی ہیں۔ اگرچہ ان کے انتقال کے کئی برس بعد اس اتحاد کو بھی بعض مسلمان رہنماؤں نے حکومتی اشاروں پر ختم کرنے کی کوششیں کی ہیں اور آج بھی جاری ہیں۔

اس کے علاوہ آپ نے ہندوستان کے ماحول کے موافق اور ہندو مسلم فسادات کو روکنے کے لیے تحریکِ پیامِ انسانیت کی بنیاد ۱۹۵۱ء میں ڈالی، جس میں مسلمانوں کے علاوہ ہندوؤں اور عیسائیوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد شامل تھی۔ ۱۹۵۹ء میں مجلسِ تحقیقات و نشریات کی بھی بنیاد ڈالی۔ آپ رابطۃ العالم الاسلامی کے بنیادی رکن بھی تھے۔ مدینہ یونیورسٹی (جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ) کی تاسیس اور قیام کے وقت آپ اس کی مجلسِ شوریٰ کے رکن طے پائے۔ ۱۹۸۰ء میں مولانا سید مودودیؒ کے بعد اسلام کی خدمات میں آپ کو شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ۱۹۸۱ء میں کشمیر یونیورسٹی نے آپ کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے نوازا، اس کے بعد آخر تک کئی یونیورسٹیوں نے اس اعزازی ڈگری کی پیشکش کی مگر آپ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ۱۹۸۳ء میں آکسفورڈ کے مرکزِ دراساتِ اسلامیہ کے آپ صدر منتخب ہوئے۔ ۱۹۸۴ء میں ”رابطۃ الادب الاسلامی العالمیۃ“ کے قیام کے ساتھ ہی اس کے صدر قرار پائے۔ جنوری ۱۹۹۹ء میں عالمی حسنِ قرأت کے مقابلے کے موقع پر ”عظیم اسلامی شخصیت“ کے وقیع ایوارڈ سے سرفراز کیے گئے، جس کی قیمت سوا کروڑ روپے بنتی تھی، اور آپ نے اسی موقع پر اس سے ”مدارسِ اسلامیہ“ میں تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اور ۱۹۹۹ء میں ہی آکسفورڈ اسلامک سنٹر کی طرف سے ”تاریخِ دعوت و عزیمت“ کے سلسلے میں سلطان برونائی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

عالمِ عربی کے ساتھ ان کے تعلقات بہت گہرے تھے۔ عرب علماء سے لے کر حکمرانوں اور عوام میں وہ برابر کے مقبول تھے۔ مولاناؒ بھی کسی لگی لپٹی کے بغیر وہاں کے حکمرانوں کو ان کی غلطیوں پر متنبہ کرتے اور ٹوکتے تھے، جبکہ آج بھی بہت سارے لوگ ہیں جو عربوں کے ٹکوں پر اپنے بڑے بڑے محلات تعمیر تو کرتے ہیں، البتہ ان کی غلط پالیسیوں پر تنقید تو درکنار، ان کی جبینوں پر شکن بھی نہیں دیکھے جاتے ہیں۔

مشہور سعودی عالمِ دین نعمان سمرقندی کے حوالے سے اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی کا کہنا ہے کہ جب مولانا ابو الحسن علی ندویؒ سعودی بادشاہ شاہ فیصل مرحوم سے ملنے تشریف لے گئے تو مولانا شاہی محل کے کمرۂ ملاقات میں داخل ہوئے تو بہت دیر تک اس کی چھت اور در و دیوار کی طرف حیرت اور استعجاب کے ساتھ دیکھتے رہے۔ شاہ فیصل نے اس کا سبب پوچھا تو مولانا گویا ہوئے: ”میں نے بادشاہوں کے دربار کبھی نہیں دیکھے، آج پہلا تجربہ ہے، اس لیے محوِ حیرت ہوں۔ میں جس سرزمین سے تعلق رکھتا ہوں وہاں اب بادشاہ نہیں ہوتے، لیکن تاریخ کا ایک دور ایسا بھی تھا جب وہاں بھی بادشاہ حکومت کرتے تھے۔ میں نے تاریخ میں ایسے لوگوں کا بارہا تذکرہ پڑھا ہے، آج اس دربار میں آیا ہوں تو ایک تقابل میں کھو گیا ہوں۔۔۔“

مولانا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ”میں سوچ رہا ہوں کہ ہمارے ہاں بھی ایک بادشاہ گزرا ہے۔ آج کا بھارت، پاکستان، مالدیپ، سری لنکا، برما اور نیپال دور دور تک اس کی حکومت تھی۔ اس نے اپنے باون سالہ عہدِ اقتدار میں بیس برس گھوڑے کی پیٹھ پر گزارے۔ اس کے دور میں مسلمان آزاد تھے، خوشحال تھے، ان کے لیے آسانیاں تھیں، لیکن بادشاہ کا حال یہ تھا کہ وہ پیوند لگے کپڑے پہنتا تھا۔ وہ قرآنِ مجید کی کتابت کر کے اور ٹوپیاں بنا کر گزر اوقات کرتا تھا۔ رات بھر اپنے پروردگار کے حضور کھڑا رہتا اور اس کے حضور اپنے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتا۔ اس وقت مسلمان حکمران غریب اور سادہ تھے، اور عوام خوشحال اور آسودہ۔ آج کا محل دیکھا تو خیال آیا کہ سب کچھ کتنا بدل گیا ہے۔ آج ہمارے بادشاہ خوشحال ہیں اور بڑے بڑے محلات میں رہتے ہیں، اور دوسری طرف مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ فلسطین میں بے گھر ہیں، کشمیر میں ان کا لہو ارزاں ہے، وسطی ایشیا میں وہ اپنی شناخت سے محروم ہیں۔ آج میں نے آپ کے محل میں قدم رکھا تو اس تقابل میں کھو گیا۔۔۔“

راوی کا بیان ہے کہ جب شیخِ ندوہؒ خاموش ہوئے تو شاہ فیصل کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔ پہلے ان کے آنسو نکلے، پھر ہچکی بندھ گئی، اس کے بعد وہ زار و قطار رونے لگے۔ وہ اتنی بلند آواز سے روئے کہ ان کے محافظوں کو تشویش ہوئی اور وہ بھاگتے ہوئے اندر آ گئے۔ شاہ فیصل نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے باہر جانے کو کہا، پھر مولاناؒ سے مخاطب ہو کر بولے: ”وہ بادشاہ اس لیے ایسے تھے کہ انہیں آپ جیسے ناصح میسر تھے۔ آپ تشریف لاتے رہیں اور ہم جیسے کمزور انسانوں کو نصیحت کرتے رہیں۔“

اس ملاقات میں شاہ فیصل نے ”ندوۃ العلماء“ کے لیے ایک خطیر رقم پیش کرنا چاہی، لیکن مولانا نے انکار کر دیا اور کہا کہ ندوۃ العلماء کے معاملات اللہ تعالیٰ کی عنایت سے بہتر طور پر چل رہے ہیں۔

مولاناؒ کو عربوں کی مغربیت اور دین بیزاری سے انتہائی شدید اور سخت رنج رہتا تھا۔ ان کا یقین تھا کہ اگر عالمِ عرب اپنی پرانی ہیئتِ دینی کی طرف لوٹ آئے تو تمام مسلم دنیا کے سارے مسائل آپ سے آپ حل ہو جائیں گے۔ مولانا کو سانحۂ فلسطین نے کافی رنجیدہ کر دیا تھا۔ انہیں عربوں کی اس مسئلے کے تئیں غفلت سے بے چینی ہو جاتی تھی۔ عالمِ عرب و عجم میں انہیں اسی وجہ سے ”اخوان المسلمین“ کے ساتھ کافی لگاؤ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوان ایک ہمہ گیر اسلامی تحریک ہے۔

مصر کے صدر جمال عبد الناصر کے ساتھ انہیں شدید اختلاف تھا، اور وہ اس کا برملا اظہار بھی کرتے تھے، اور اس کی وجہ یہ بیان کرتے تھے کہ اخوان کے خلاف جس جبر و تشدد کا مظاہرہ مصری حکومت نے کیا وہ ہر طرح سے ناقابلِ برداشت ہے، اس لیے کہ یہ تحریک مکمل اسلامی تحریک ہے اور اس میں عربوں کو دین پر چلانے اور نئے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ۱۹۹۹ء دسمبر تک شاید ہی کوئی قابلِ ذکر عرب حکمران ہو گا جس نے مولاناؒ کے ساتھ ملاقات کی خواہش نہ کی ہو، مگر ہر ایسے موقعے کو غنیمت جانتے ہوئے مولانا نے انہیں اُمت کو بھلانے کے مہلک مرض سے خبردار کیا۔

مولاناؒ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ دنیا اور مالِ دنیا کی انہیں کوئی خواہش نہیں تھی۔ سب کچھ اُمت پر لٹا دیا اور اپنی قابلِ فخر یادگار ”ندوۃ العلماء“ کو اپنا سب کچھ دے دیا۔ ساری عمر ندوہ میں گزاری۔ ان کا مکان آج کی تاریخ میں بھی کچا ہی ہے۔ انہیں اپنے اس کچے مکان سے بڑی محبت تھی، اس لیے کہ یہ ان کے آبا و اجداد کی یادگار ہے۔ بھارت کی مشہور خاتون وزیرِ اعظم اندرا گاندھی مولاناؒ سے اسی گھر میں ملی تھیں، اور باہر نکل کر صحافیوں کو مولاناؒ اور گھر کی خواتین سے ملاقات کے تاثرات میں کہا تھا کہ میں نے آج دیوتا کو دیکھا ہے۔

مولانا جیسے خالی ہاتھ آئے، خالی ہاتھ چلے گئے۔ ان کے خادموں کا بیان ہے کہ ۱۹۹۹ء کا رمضان شروع ہوا تو اپنے گاؤں رائے بریلی جانے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ اس مرتبہ معمول کے خلاف رمضان کے پہلے دو عشرے ندوہ میں ہی گزارے، اور ڈاکٹروں کے اصرار کے باوجود رائے بریلی جانے پر بضد رہے۔ پہلا روزہ شروع ہوا تو فرمایا: ”معلوم نہیں پورا رمضان ملتا ہے کہ نہیں۔ اے اللہ! تو پورے رمضان کی برکتوں سے نواز دے۔“ بائیس رمضان کو جمعۃ المبارک کے روز نماز سے قبل سورۂ یٰسین کی تلاوت کرتے ہوئے راہِ حق کا مسافر اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچ گیا۔

میں خود بھی اس جنازے میں شریک تھا۔ عام اندازہ یہی تھا کہ جنازے میں تین لاکھ لوگ شریک ہوئے، حالانکہ حکومت کی خواہش تھی کہ جنازہ ایک رات کے لیے مؤخر کر کے دوسرے دن لکھنؤ شہر میں پڑھایا جائے، مگر یہ تجویز قبول نہیں کی گئی۔

امام و خطیبِ مکہ مکرمہ محمد عبداللہ بن السبیل صاحب نے اپنے تعزیتی پیغام میں اہلِ ندوہ کو لکھا:
”شدید قلبی رنج اور غم و اندوہ کے ساتھ عالمِ جلیل اور داعیِ عظیم حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی وفات کی خبر ملی۔ اللہ اس عظیم سانحے کو جھیلنے کی سکت آپ اور ہم سب کو عطا فرمائے۔ ہم آپ سے تعزیت کرتے وقت خود بھی تعزیت کے مستحق ہیں، بلکہ ساری اُمتِ اسلامیہ سے تعزیت کی جانی چاہیے۔“

آگے لکھتے ہیں: ”ہم اس موقعے پر یہ اطلاع بھی دینا چاہیں گے کہ خادم الحرمین الشریفین فہد بن عبدالعزیز فرماں رواۓ مملکتِ سعودی عرب نے حرمِ مکی و حرمِ مدنی دونوں جگہ ۲۶ رمضان المبارک ۱۴۲۰ھ بروز دوشنبہ بعد نمازِ عشاء (یعنی ستائیسویں شب) حضرتِ مرحوم کے لیے غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔“

بعد میں معلوم ہوا کہ ان دونوں جنازوں میں تقریباً تیس لاکھ فرزندانِ توحید نے شرکت کی تھی۔

( الطاف حسین ندوی کا یہ مضمون اگر چہ بہت پہلے کئی جرائد اور اخبارات میں شائع ہو چکا ہے مگر مضمون کی تروتازگی اور حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی 31 دسمبر کی وفات کے روز سے مناسبت کی وجہ سے ادارے نے اس کو دوبارہ شائع کرنے کا فیصلہ لیا ہے )

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے