قرآن مجيد ميں "القاء"

فقہ و قانون: ایک ہم آہنگ علمی و عملی سفر

سوال:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، امید ہے مزاج عالی بخیر ہونگے۔ میرا نام محمد جمیل ندوی ہے، میں نے ندوہ سے فقہ میں اختصاص کیا ہے اور تدریب افتاء بھی، فی الحال میں علی گڑھ
مسلم یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے پانچ سالہ کورس بی اے ایل ایل بی کے آخری سال میں ہوں۔
تقریبا گذشتہ چار سالوں سے آپ کا واٹساپ نمبر میرے پاس ہے، آپ کی تحریروں اور تقریروں سے استفادہ کرتا رہتا ہوں، اسی وقت سے میں مناسب وقت کا انتظار کر رہا تھا کہ کچھ معاملات میں آپ سے رہنمائی حاصل کروں مگر چونکہ میں اپنے تعلیمی مرحلہ میں تھا اس لئے میں نے رابطہ نہیں کیا کہ شاید یہ قبل از وقت ہو، لیکن اب جب کہ میں میدان عمل کے بہت قریب ہوں اور میرا لاء کا کورس بھی ختم ہوا چاہتا ہے، میں بحیثیت طالب فقہ و قانون آپ سے مودبانہ التماس کرتا ہوں کہ آپ میری درج ذیل معاملات میں رہنمائی فرمائیں !
۱۔ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں Adversarial Legal system ہے وکالت کا پیشہ اختیار کرنا کیسا ہے، ایک مسلمان یا عالم دین کے لئے اس پیشہ سے منسلک رہتے ہوئے دین کی خدمت کے مواقع کیا کیا ہو سکتے ہیں۔
۲- ندوہ سے ہی میرے اندر یہ خیال جاگزیں ہو چکا تھا کہ قانونی طور پر اسلامی احکامات کی بالادستی سے متعلق خدمات انجام دینی ہیں، سو آپ میری رہنمائی کریں کہ کس طرح میں اس میدان میں کام کر سکتا ہوں۔
۳۔ آپ ما شاء اللہ فقیہ بھی ہیں اور زمانہ کے نبض شناس عالم دین بھی، اور اوکسفورڈ میں مقیم ہیں، آپ نے یورپی اور مغربی افکار کو قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے، اپنے تجربے کی روشنی میں بحیثیت طالب فقہ و قانون مجھے اس سلسلہ میں کچھ اور مشورہ دینا چاہیں تو میں ممنون ہوں گا-
اللہ آپ کو جزائے خیر دے، ہمارے اعمال کو قبول فرمائے، ہم سے راضی ہو جائے اور اپنے دین کی خدمت کے لئے منتخب فرمائے۔
محمد جمیل ندوی
متعلم بی اے ایل ایل بی سال پنجم
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

جواب:
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
محترم و مکرم محمد جمیل ندوی صاحب زادکم اللہ علماً و فقهاً و بصیرۃً و توفیقاً
آپ کا مکتوب پڑھ کر دل کو مسرت، ذہن کو طمانیت اور فکر کو ایک خوشگوار سنجیدگی نصیب ہوئی۔ ندوۃ العلماء جیسے باوقار اور علمی روایت کے حامل ادارے سے فقہ میں اختصاص اور تدریبِ افتاء کی تکمیل، اور اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی اعلیٰ تعلیم، یہ محض تعلیمی مراحل نہیں، بلکہ ایک ایسے فکری اور عملی سفر کی علامت ہیں جس میں علمِ دین اور عصری شعور ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھتے ہیں۔ عالمیت وفضيلت کے بعد جدید اور سیکولر تعلیمی نظام میں داخل ہونا کسی تذبذب یا فکری کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آپ نے علم کو زندگی کے عملی تقاضوں سے جوڑنے کا شعوری فیصلہ کیا ہے۔ درحقیقت ایک سنجیدہ اور بالغ نظر عالم کی پہچان یہی ہے کہ وہ مسلسل سیکھتا رہے، زمانے کے تجربات سے فائدہ اٹھائے اور اپنے علم کو محض روایت نہیں بلکہ زندہ رہنمائی بنائے۔
اسلامی علمی روایت پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارے اکابر فقہاء اور علماء نے کبھی اپنے عہد کے سماجی، قانونی اور فکری نظام سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے اپنے زمانے کے عرف، قوانین، عدالتی ڈھانچوں اور سماجی رویّوں کو سمجھا، پرکھا اور اسی فہم کی بنیاد پر دین کی تعبیر اور تطبیق پیش کی۔ اس پس منظر میں آپ کا فقہ اور قانون کو یکجا کرنا نہ صرف درست سمت کی طرف قدم ہے بلکہ عصرِ حاضر کی ایک اہم علمی اور عملی ضرورت بھی ہے، خصوصاً ایسے ملک میں جہاں مسلمان ایک پیچیدہ قانونی اور سماجی تناظر میں اپنی شناخت اور حقوق کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
ہندوستان میں رائج Adversarial Legal System كے بارے میں یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اس نظام اور اسلامی قانونی نظام کے درمیان جو فرق بیان کیا جاتا ہے، وہ بنیادی طور پر طریقۂ کار اور ساخت کا فرق ہے، نہ کہ مقصد اور روح کا۔ دونوں نظاموں کی غایت انصاف کا قیام، حق کی حفاظت، مظلوم کی داد رسی اور ظلم کی روک تھام ہے۔ اسلامی قانون اپنے الٰہی ماخذ اور اخلاقی بنیاد کے سبب ایک منفرد شان رکھتا ہے، لیکن عدل و انصاف کا جو تصور وہ پیش کرتا ہے، وہ کسی بھی مہذب اور سنجیدہ قانونی نظام سے متصادم نہیں۔ اسی لیے محض اس بنا پر کہ کوئی نظام غیر اسلامی معاشرے میں رائج ہے، اس سے وابستہ ہر پیشے کو ناجائز یا نا پسندیدہ سمجھ لینا ایک سطحی اور غیر متوازن رویّہ ہے۔
ایک مسلمان، اور بالخصوص ایک عالمِ دین کے لیے وکالت یا کسی بھی قانونی منصب پر فائز ہونا اصولی طور پر جائز ہے، بلکہ بعض حالات میں یہ ایک اہم دینی، سماجی اور اخلاقی خدمت بن جاتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ایک بنیادی شرط ہے جو ہر حال میں مقدم رہنی چاہیے، اور وہ شرط دیانت، راست بازی اور اخلاقی جرأت ہے۔ اگر وکیل حق کے ساتھ کھڑا ہو، جھوٹ، فریب، موشگافی اور نا انصافی سے اجتناب کرے، اور قانون کو ظلم یا ذاتی مفاد کے آلے کے بجائے انصاف کے قیام کا ذریعہ بنائے، تو وہ اپنے پیشے کے ذریعے نہ صرف معاشرے کے لیے نافع ہو سکتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اجر و قبولیت کا مستحق بن سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ شرط صرف وکالت تک محدود نہیں، بلکہ دنیا کے ہر پیشے اور ہر ذمہ داری کے لیے یکساں طور پر لازم ہے۔
جہاں تک اسلامی احکامات کی بالادستی اور نفاذِ شریعت سے متعلق فکری و تحقیقی کاوشوں کا تعلق ہے، تو اس سلسلے میں ایک نہایت اہم توازن ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ محض اس نیت سے تحقیق کرنا کہ ایک قانونی نظام کو دوسرے پر کلی اور حتمی طور پر برتر ثابت کیا جائے، عموماً نہ علمی گہرائی پیدا کرتا ہے اور نہ عملی دنیا میں کوئی مثبت اور دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ اس نوعیت کے تقابلی مباحث اکثر علمی مکالمے کے بجائے ذہنی کشمکش اور غیر ضروری تصادم کو جنم دیتے ہیں، جبکہ اصل مسئلہ، یعنی انصاف کا قیام، پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
زیادہ بامعنی، مفید اور تعمیری راستہ یہ ہے کہ اسلامی فقہ اور جدید قانونی نظام کے درمیان موجود مشترک اخلاقی اور قانونی اصولوں کو نمایاں کیا جائے، اور یہ دکھایا جائے کہ دونوں کس طرح ایک دوسرے سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ عدل، انصاف، انسانی وقار، بنیادی حقوق، ذمہ داری اور احتساب، یہ وہ اقدار ہیں جو اسلامی قانون کا بھی جوہر ہیں اور جدید قانونی فکر کی بھی بنیاد۔ اگر ان مشترک قدروں کو مرکز بنا کر علمی اور عملی کام کیا جائے تو نہ صرف مکالمہ ممکن ہے بلکہ ایسے حل بھی سامنے آ سکتے ہیں جو حقیقی معنوں میں انسان کو انصاف کے قریب لے جائیں۔
مغربی اور یورپی معاشروں کے قانونی اور فکری تجربات کا سنجیدہ مطالعہ بھی یہی بتاتا ہے کہ جدید قوانین اپنی اعلیٰ اور مثالی صورت میں محض طاقت، غلبے یا مفاد کے مظہر نہیں ہوتے، بلکہ اخلاقی قدروں اور انسانی فلاح کے تصورات کے گرد تشکیل پاتے ہیں۔ ایک طالبِ فقہ و قانون کے طور پر آپ کے سامنے ایک نادر موقع ہے کہ آپ دونوں روایتوں کے درمیان ایک فکری اور عملی پل بنیں۔ تصادم کے بجائے مکالمہ، نفی کے بجائے افادیت، اور جذبات کے بجائے علم، حکمت اور تجربے کو بنیاد بنائیں۔ عدالت ہو، درس گاہ ہو، تحقیق کا میدان ہو یا تحریر و تقریر، ہر جگہ آپ کا علم عدل و انصاف کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے، اگر نیت خالص اور راستہ متوازن ہو۔
آخر میں یہی عرض کرنا چاہوں گا کہ اصل کامیابی کسی ایک نظام کی برتری ثابت کرنے میں نہیں، بلکہ انسان کو انصاف دلانے، مظلوم کا سہارا بننے اور معاشرے میں توازن، اعتماد اور خیر کو فروغ دینے میں ہے۔ اگر یہ مقصد پیشِ نظر رہے تو وکالت بھی عبادت بن سکتی ہے اور قانون بھی دین کی خدمت کا مؤثر وسیلہ۔
اللہ تعالیٰ آپ کے علم کو نافع بنائے، آپ کے عمل میں اخلاص اور توازن عطا فرمائے، آپ کے قدموں کو استقامت بخشے، اور آپ کو دین و انسانیت کی ایسی خدمت کے لیے قبول فرمائے جو دنیا اور آخرت دونوں میں سرخروئی کا سبب بنے۔
والسلام، واللہ ولیّ التوفیق

Dr Akram Nadwi

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے