اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً” سورة يونس آيت 92، "آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے پیچھے والوں کے لیے نشانی بن جائے۔”
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے انجام کو اُس کے پیروکاروں کے لیے ایک کھلی ہوئی نشانی بنایا، تاکہ وہ جو مصر میں اُس پر ایمان لائے اور اُسے معبود سمجھ بیٹھے تھے، اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ جسے وہ خدائی کا درجہ دے رہے تھے، وہ دراصل ایک بے بس انسان ہے، جو اپنے آپ کو موت کی موجوں سے بھی نہیں بچا سکا۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
جب فرعون نے سرکشی اور دعوائے الوہیت میں حد سے تجاوز کیا اور کہا: "أنا ربكم الأعلى”، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت سے اُس کے باطل دعوے کو خاک میں ملا دیا۔ جب وہ اپنے لشکر سمیت غرق ہوا، تو ربّ العالمین نے سمندر کو حکم دیا کہ اُس کا مردہ بدن کنارے پر ڈال دے، تاکہ اُس کے پیچھے رہ جانے والے لوگ، جو اُس کی خدائی پر یقین رکھتے تھے، اُس کی بے بسی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، اور جان جائیں کہ الوہیت کا دعویٰ محض جھوٹ اور فریب تھا۔
قرآنِ کریم کا ظاہر یہ نہیں بتاتا کہ اُس کا جسم تا قیامت محفوظ رہے گا، بلکہ مفہوم یہ ہے کہ اُسی دن اللہ نے اُس کے بدن کو سلامت رکھا تاکہ اُس کے پیروکاروں کے لیے عبرت بن جائے۔ اُس کی روح تو فنا ہو چکی تھی، مگر اُس کے جسم کی ذلت و رسوائی اُس کے دعوائے خدائی کے باطل ہونے کی گواہی دے رہی تھی۔
یہ حقیقت اُس قولِ باری تعالیٰ سے بھی مطابقت رکھتی ہے: "لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ، وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا، وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا”۔ یعنی یہ جھوٹے معبود کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے، بلکہ خود مخلوق ہیں؛ نہ اپنے لیے نفع و نقصان کے مالک ہیں، نہ موت و زندگی کے، نہ دوبارہ اُٹھائے جانے کے۔
یوں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بدن کو سمندر سے نکال کر اُس کے ماننے والوں کے سامنے ڈال دیا، تاکہ وہ جان لیں کہ جسے وہ ربّ سمجھتے تھے، وہ خود اپنے رب کے قہر سے نہیں بچ سکا۔ اور رہا وہ زمانہ جو فرعون کے بعد آیا، تو اُس کے بعد کسی عاقل، خواہ مومن ہو یا کافر، نے کبھی یہ گمان نہیں کیا کہ فرعون کوئی خدا تھا۔ اس کا باطل دعویٰ ہمیشہ کے لیے ختم ہوا، اور اُس کی رسوائی ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئی۔
یہ منظر اُس آیت کی یاد دلاتا ہے جس میں فرمایا گیا: "فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ” یعنی جب حضرت سلیمان علیہ السلام کا جسم گر پڑا تو جنوں پر ظاہر ہو گیا کہ وہ غیب نہیں جانتے۔
اسی طرح جب فرعون غرق ہوا اور اُس کا جسم کنارے پر آیا، تو اُس کے پیچھے رہ جانے والے دیکھنے والوں پر حقیقت کھل گئی کہ وہ جسے الٰہ مانتے تھے، وہ محض ایک عاجز انسان تھا۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اُس کے انجام کے ذریعے اپنی قدرتِ کاملہ کو ظاہر کیا، اپنی ربوبیت کو نمایاں کیا، اور سب کے لیے یہ ابدی سبق قائم کر دیا کہ کسی بشر کے لیے خدائی نہیں، خدائی صرف اُس کے لیے ہے جو سب کا خالق، مالک اور پروردگار ہے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !