علامہ زمخشریؒ
ابو القاسم جار اللہ محمود بن عمر الزمخشری الخوارزمی پیدائش 467ھ وفات 538 ھ نحو اوربلاغت کے امام اور لغت کی مہارت میں اپنی مثال آپ
اہم ترین تصنیفات میں
الکشاف( تفسیر)
الفائق (غریب الحدیث)
اساس البلاغہ( لغت و بلاغت )
المفصل (نحو کی مشہور کتاب)
اپنی تفسیر جسے انہوں نے اتنے ہی دنوں میں پوری کر لی جو حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت ہے یعنی دوسال تین مہینے دس دن میں
اور اسکےبقول ایسی عمر میں لکھی ہے جسے ” دقاقة الرقاب ” گردن توڑ کہا گیا ہے یعنی ساٹھ اور ستر سال کے درمیان کی عمر ایسی ہے جس میں کسی بھی وقت آدمی موت کا شکار ہو سکتا ہے
حضور کا ارشاد بھی ہے کہ ” اعمار امتی مابین ستین الی سبعین” میری امت کی اوسط عمر ساٹھ اور ستر کےد ر میان ہے
کچھ ہی لوگوں کی عمر اس سے زیادہ زندہ رہتے ہیں
لغت و بلاغت کے لحاظ سے کشاف کو تمام تفسیروں پر فوقیت حاصل ہے البتہ اسکی خامی یہ ہے کہ کہ انہوں نے معتزلہ کے عقیدہ کے مطابق تفسیر لکھی ہے اور قرآن کریم کی آیات کو جمھور امت سےالگ ایک خاص فرقہ کے عقیدے کی ترویج کا ذریعہ بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے اسی لئے متعدد علماء نے اس کا تعاقب کیا ہے اور زمخشری کےعقیدہ کی تردید کی ہے
اپنی تفسیر کی تعریف اوردوسری تفسیروں پرفوقیت کےبارے میں وہ کہتے ہیں :
ان التفاسير. في الدنيا بلا عدد
وليس فيه لعمري مثل كشافي
ان كنت تبغي الهدي فالزم قرائته
فالجهل كالداء والكشاف كالشافي
( دنیا میں تفسیریں تو بے شمار ہیں
لیکن یقین جانو میری کشا ف جیسی کوئی بھی تفسیر نہیں ہے اگر ہدایت چاہتے ہو تو اسے پابندی سے پڑھا کرو
جہالت ایک بیماری ہےاور تفسیر کشاف اسکے لئے دوائے شفا کی حیثیت رکھتی ہے
امام نحو ولغت ابو مضر ضبي اصفهاني کی صحبت نے انہیں ایک طرف امام لغت وبلاغت بنا یا تو دوسری طرف معتزلہ کے عقیدہ کا نمائندہ اور ترجمان بھی بنادیا
اسکے مرثیہ میں استاذ کے ساتھ اپنی عقیدت کا زمخشری نے اس طرح اظہار کیا ہے :
وقائلة ما هذه الدرر التي
تسا قطها سمطين سمطين
فقلت هو الدر الذي قد حشابه
ابو مضر اذني تساقط من عيني
زمخشری بلند پایہ شاعر بھی تھا چنانچہ اس کا مستقل دیوان بھی ہے
زمخشری نے کئی سال مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کی مجاورت کی نیت سے گزارے اسی لئے اسے جاراللہ کے لقب سے بھی یاد کیاجاتا ہے
علم وکتاب سے اپنی محبت اور شغف کااظہار انہوں نےان اشعار میں کیا ہے:
سهري لتنقيح العلوم ألذ لي
من وصل غانية وطيب عناق
وتمايلي طربا بحل عويصة
اشهي واحلي من مدامة ساق
وصرير اقلا مي علي اوراقها
احلي من الدو كاء والعشاق
یہ دعائیہ اشعار بھی اسی کی طرف منسوب ہیں :
یا من یری مد البعوض جناحہا
فی ظلمة الليل البهيم الاليل
ويري عروق نيا طها في نحرها
والمخ في تلك العظام النحل
اغفر لعبد تاب من فر طاته
ما كان منه في الزمان الأول
وہ مذہبی اختلافات پر طنز کرتے ہوئے کہتا ہیکہ میں اپنے آپکو کسی بھی فقہی مذ ھب سے وابستہ کرتے ہوئے ڈرتاہوں کیونکہ :
اذا سألوا عن مذهبي لم ابح به
وا كتمه و كتمانه لي اسلم
فان حنفيا قلت قالوا : بانني
ابيح الطلا وهو الشراب المحرم
وان مالكيا قلت قالوا : بانني
ابيح اكل الكلاب وهم هم
وان شافعيا قلت قالوا : بانني
ابيح نكاح البنت والبنت محرم
وان حنبلیا قلت قالوا: بانني
ثقيل حلولي بغيض مجسم
لیکن یہ ایک شاعرانہ بنکار سے زیادہ کچھ نہیں ہے جو محض لوگوں کو ہنسانے کیلئے مزاحیہ انداز سے کہے ہیں شاعروں کا یہی وطیرہ ہے
(الم تر انهم في كل واد يهيمون )
ورنہ تو وہ خود بھی مذھب کا پابند تھا
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
امام اعمش کی جر ات و حق گوئی
اموی خلیفہ ھشام بن عبد الملک نے ایک پیغام لیکر ایک شخص کو ا مام کے پاس بھیجا کہ حضرت عثمان بن عفان کے مناقب اورحضرت علی کے مثالب یعنی قابل مذمت اوصا ف لکھ کر بھیجیں
امام اعمش نے خلیفہ کا خط لیکر بکری کے منہ میں ڈال دیا جو اسے چبا کر نگل گئی
یہ منظر دیکھ کر بادشاہ کے قاصد کا خوف سے برا حال ہوگیا
کہنے لگا کہ خلیفہ نے قسم کھائی ہے کہ اگر امام اعمش کا جواب لیکر نہیں آیا تو تجھے قتل کردونگا
چنانچہ لوگوں نےاسکی جان بخشی کی خاطر امام اعمش سے جواب لکھنے کی در خواست کی تو انہوں نے لوگوں کے شدید اصرار پر یہ الفاظ لکھے :
بسم الله الرحمن الرحيم اما بعد : يا امير المؤمنين فلو كانت لعثمان رضي الله عنه مناقب اهل الأرض ما نفعتك ولو كان لعلي رضي الله عنه مساوئ اهل الارض ما ضرتك
فعليك بخويصة نفسك والسلام
(عزت مآب جناب امیر المؤمنين !
اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ میں سارے روئے زمین کی منقبتیں ہوں تو اس سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا
اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ میں ساری دنیا کی برائیاں بھی ہوں تو ان سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اس لئے انکو جمع کرنے کی کوشش میں مت پڑئیے اور اپنی ذات کی فکر کیجئے۔
علامہ جلال الدین سیوطیؒ:
علامہ جلال الدین السیوطی نے آب زمزم کئی مقصد کے حصول کی نیت سے پیا تھا ان میں سے ایک یہ تھاکہ انہیں فقہ میں سراج الدین بلقینی اور حدیث میں حافظ ابن حجر عسقلانی کا در جہ حاصل ہوجائے
وہ اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ :
رزقت التبحر في سبعة علوم ووصلت فيها ما لم يصل اليه اشياخي فضلا عمن دونهم
اما الفقه فلا اقول ذلك فيه بل شيخي فيه اوسع نظرا واطول باعا
اما الحساب فهو اعسر شئ علي وابعده عن ذهني
وان نظرت في مسألة تتعلق به كأنما أحاول جبلا أحمله
ويقول : احفظ مائتي الف حديث ولو وجدت اكثر لحفظته ولعله
لا يوجد علي وجه الارض اكثر من ذلك
( مجھے سات علوم میں کامل تبحر حاصل ہے ان علوم میں ،میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں کہ میرے اساتذہ بھی وہاں تک نہیں پہنچے تھے اوروں کی تو کیا بات ہے
ہاں میں فقہ کے بارے میں یہ نہیں کہتا بلکہ میرے شیخ کی نظر اس میں مجھ سے زیادہ وسیع ہے اور وہ اس میں مجھ سے زیادہ درک رکھتے ہیں
اور جہاں تک علم حساب کا تعلق ہے تو وہ میرے لئے سب سے زیادہ مشکل ترین فن ہے اور میرے ذہن سے اسکو بالکل مناسبت نہیں ہے
میرا حال یہ ہے کہ اگر میں علم حساب کے کسی مسئلہ کو سمجھنا چاہتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہیکہ میں پہاڑ کو اٹھانے کی کوشش کر رہا ہوں
وہ مزید فرماتے ہیں کہ مجھے دولاکھ حدیثیں یاد ہیں اگر اس سے زیادہ حدیثیں ملتیں تو میں انہیں بھی یاد کرلیتا
اور غالبا روئے زمین پر اس سے زیادہ حدیثیں پائی ہی نہیں جاتیں ۔
علامہ جلال الدین سیوطی نے چالیس سال کی عمر تک افتاء اور تدریس کا مشغلہ جاری رکھا
اور چالیس پورے ہونے پر ان تمام کاموں سے کنارہ کش ہوکر عبادت کیلئے یکسو ہوگئے اور اپنی تصنیفات کی تنقیح اور ان پر نظرثانی کا کام کرنے کیلئے خود کو بالکل فارغ کرلیا
اس سلسلہ میں ایک رسالہ بھی لکھا
جس کا نام ” التنفيس في الاعتذار عن الافتاء والتدريس ” ہے
انکے بارے میں مزید معلومات کیلئے دیکھیے انکی خود نوشت سوانح "التحدث بالنعمة ” ودیگر کتابیں **
مولانا محمد یونس جونپور ی صاحب کے یہاں علامہ سید سلیمان ندوی کا ذکر
محدث جلیل مولانا محمد یونس صاحب کی زندگی کا بڑا حصہ صحیح بخاری کی تدریس اسکے اسرار و رموز کی تحقیق ، تراجم ابواب کی تشریح امام بخاری کا عقیدہ اور فقہ میں مسلک حدیث سے مسائل کے ا ستنبا ط کا ان کا طریقہ اور ان پر واقع ہونے والے اعتراضات کے جوابات وغیرہ میں گزرا ہے اس سلسلہ کے انکے درسی افادات ا نکے لائق شاگرد مولانا محمد ایوب سورتی کی غیر معمولی محنت اورمولانا مفتی شبیر احمد کی معاونت سے "نبرا س الساری” اور "الفیض الجاری” کے نام سے عربی اور اردو دونوں زبانوں میں انکے امالی شرح بخاری کی شکل میں محفوظ ہوگئے ہیں
علامہ محمد انور شاہ کشمیری کے بارے میں فرماتے ہیں :
فخر المتاخرین حافظ حدیث حضرت مولانا السید محمد انور شاہ صاحب انکے دور میں اتنا بڑا محدث پیدا نہیں ہوا”
حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کی کتاب” الابواب والتراجم ” کا مواد اکٹھا کرنے میں مولانا یونس صاحب بھی شریک رہے ہیں بیشتر ابواب میں علامہ انور شاہ صاحب کی تحقیقات کا ذکر بڑے اہتمام سے کیا گیا ہے کیونکہ حدیث میں حجت وہی تھے انہیں کے اقوال نقل کرتے ہیں اور انہیں افضل المتاخرین کہتے ہیں بعض مسائل میں دوسرے شارحین کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن علم وتحقیق میں انکے بلند مقام کا اعتراف کرتے ہیں
علامہ سید سلیمان ندوی اور علامہ شبلی نعمانی سیرت نگاری میں دونوں کے اخلاص کے قائل تھے اور انکے کارنامہ کی بے حد قدر کرتے تھے
علامہ شبلی کی قبر پر بھی انہوں نے حاضری دی تھی اور لوح قبر پر لکھے انکے اشعار کو بھی انکے اخلاص کی دلیل کے طور پر پیش کیاہے :
عجم کی مدح کی عباسیوں کی داستاں لکھی
مجھے چندے مقیم آستان غیر ہونا تھا
مگر اب لکھ رہا ہوں سیرت پیغمبر خاتمﷺ
خدا کا شکر ہے یوں خاتمہ با لخیر ہونا تھا
بلکہ انہوں نے تو علامہ شبلی نعمانی کے بارے میں مولانا سید عبد الحی الحسنی کی” نزھة الخواطر ” کی اس عبارت سے بھی سخت وحشت کا اظہار کیا ہے جس میں علامہ شبلی کے بارے میں "متصلب معتزلی” ہونے کا ذکر کیا گیا ہے
لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ انکو علامہ سید سلیمان ندوی یا انکے استاذ علامہ شبلی نعمانی کی ہر تحقیق سے اتفاق ہے
” الفیض الجاری” میں ہے :
مولانا سید سلیمان ندوی نے سیرت النبی جو معراج کے قصہ کی شرح و تفصیل فر مائی ہے اس سے کچھ وہم ہوتا ہے کہ مولانا اسکو خواب کا واقعہ تسلیم کرتے ہیں
اندازہ ہے کہ سید صاحب صاحب اس مسئلہ میں علامہ ابن قیم اور حافظ ابن کثیر سے متاثر ہوئے ہیں
اور حافظ ابن کثیر نے معراج روحانی کو راجح قرار دیا ہے
یعنی جو کچھ مکالمہ ہوا اور معراج کے سفر میں باتیں پیش آئیں وہ حقیقة روح کے ساتھ پیش آئی ہیں
اور روح ہی براق پر سوار ہوئی اور روح ہی ملأ اعلی کی طرف جانے والی تھی
تو سید صاحب چونکہ علوم ابن تیمیہ وعلوم ابن قیم سے بہت زیادہ مرعوب ہیں اس لئے انہوں نے تقریر کا یہی انداز رکھا ہے لیکن یہ جمہور کے مسلک کے خلاف ہے
میں بیان کرچکا ہوں کہ معراج کا واقعہ ایک رات میں بیداری میں پیش آیا ہے
امام ابن جریر طبری ابو حاتم ابن حبان بستی امام ابو بکر بیہقی
ابو محمد ابن حزم ظاہری قاضی عیاض وغیرہ نے بیداری میں ہونے کی تصریح فرمائی ہے "
( الفيض الجاري آخری جلد)
ص 500
_ علامہ شبلی نعمانی کی بار بار تعریف کرنے کے باوجود امام بخاری رح نے استسقا ء کے ذیل میں حضرت ابن عمررض کے حوالہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ابوطالب کا جہاں یہ شعر نقل کیا ہے
وابيض يستسقي الغمام بوجهه
ثمال اليتامي عصمة للأرامل
وہاں مولانا محمد یونس جونپوری صاحب فرماتے ہیں :
مولانا شبلی نعمانی نے سیرت النبی میں اس واقعہ پر بے اعتمادی کا اظہار کیا ہے ان کا خیال ہیکہ یہ سارا قصیدہ موضوع ہے
مولانا شبلی کو اپنی سیرت میں اس طرح کے کئی اوہام واقع ہوگئے اگر انکی بات مان لی جائے تو بخاری کی اس روایت کا کیا ہوگا ؟
بات یہ ہیکہ اول تو مولانا شبلی کا یہ میدان نہیں ،دوسری بات یہ ہے کہ مولانا نے اپنی اخیر عمر میں سیرت لکھنے کا ارادہ فرمایا اور پھر عمر نے انکو اتنا موقع نہیں دیا کہ وہ اپنی کتاب کو منقح اور مھذب کرسکیں
آدمی بعض وقت کسی اور رو اورکسی خیال میں ہوتاہے اور ایک دم سے کوئی فیصلہ کردیتا ہے اور بعد میں جب غور و تامل کرتا ہے تو اسے اپنی بات سے رجوع کرنا پڑتا ہے یا اپنی بات میں قیود کا اضافہ کرنا پڑتا ہے
مولانا شبلی سے انکی سیرت میں غلطیاں ضرور ہوئی ہیں لیکن انکی نیت صحیح ہے وہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کےسچے محب ہیں
پھر ان سے اپنی عقیدت کے اظہار کے بعد فرماتے ہیں کہ :
انکی غلطیاں اسلئے بیان کر دی جا تی ہیں کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے اسلئے نہیں بیان کی جاتیں کہ انکی تنقیص کی جائے "
(الفیض الجاری ج5_ص 334 )
قلمکار:بدر الحسن القاسمی
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !