جہیز اُمت مسلمہ میں تیزی کے ساتھ پھیلتی وبا

جہیز

الحمد للہ مذہب اسلام کی تعلیمات اتنی واضح اور شفاف ہیں کہ کوئی بھی شخص جو حق کا متلاشی ہو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی وادی میں خود کو مطمئن اور پرسکون محسوس کرے گا ،
جبکہ دیگر ادیان و مذاھب ان تمام خوبیوں اور خصوصیات سے خال خال نظر آتے ہیں ،

لیکن یہ امت مسلمہ کی کوتاہی ہے کہ وہ مذہب اسلام اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو صحیح معنوں میں نہیں سمجھ پارہی ہے

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

جس کا شاخسانہ یہ ہے کہ صدیاں بیت گئیں مگر امت مسلمہ مسلسل ذلت و رسوائی کے تھپیڑوں سے خود کو نجات نہیں دے پارہی ہے

اسی لئے رب العالمین نے فرمایا

ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ,
کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وه خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے۔( الرعد 11)

لہذا صرف دعووں اور زبانی جمع خرچی سے بہتر ہے کہ ہم خود کا محاسبہ کریں ، اور اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کی اصلاح کریں،

موجودہ دور میں امت مسلمہ کے اندر عقائد اور اخلاق و کردار سمیت کئی برائیاں ہیں جن سے امت مسلمہ کے ہر فرد بشر کو بچنا ضروری ہے

ان معاشرتی اخلاقی برائیوں میں ایک بہت بڑی اور دائمی مرض جو ہماری امت مسلمہ کو لاحق ہے وہ ہے

شادی بیاہ میں جہیز جیسی مہلک وبا کا پنپنا ،

حالانکہ شریعت اسلامیہ کا جہیز جیسی ناسور وبا سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے

مگر یہ ستم ظریفی ہے کہ امت مسلمہ میں پائے جانے والے جتنے مسلک اور ادیان و فرقے ہیں ان تمام میں یہ جہیز رس بس گئی ہے کوئی ڈنکے کی چوٹ پر جہیز کی مالا اپنے گلے میں ڈالتا ہے تو کوئی راز افشا نا کرنے کی شرط کے ساتھ جہیز کا مطالبہ کرتا ہے

الا ماشاء اللہ ، شاید انگلیوں کی کوروں پر گنے جانے والے چند اللہ والے ہیں جو اس رسم بد سے بچے ہوئے ہیں ،

لہذا آئیں شریعت اسلامیہ کی تعلیمات بر ایک طائرانہ نظر ڈالیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ
جہیز جیسی مہلک وبا اسلام کی دین ہے یا غیروں کی تقلید کا شاخسانہ ،

فرمان نبوی ہے کہ

تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ”.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی (یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی)۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5090]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»


پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے کہ

کسی عورت سے عموماً چار چیزوں کے پیش نظر نکاح کیا جاتا ہے
عورت کی خوبصورتی یا مال کی وجہ سے یا اس کے خاندانی شرف یا دینداری کو دیکھ کر ،

لہذا تم دیندار عورت سے نکاح کرنے کو ترجیح دیا کرو، ااور ساتھ ہی رسول خدا نے اس حکم عدولی کا انجام بھی بتادیا کہ اگر بالفرض تم نے ایسا نا کیا تو تم ایک سنگین فتنے کو جنم دو گے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات موجودہ دور میں صدفید سچ ثابت ہورہی ہے

کہ آج اپنے ملک میں یہ دور بھی چل پڑا ہے کہ ہماری مسلم بچیاں اغیار کے لڑکوں کے ساتھ فرار ہورہی ہیں حتٰی کہ کئی لڑکیوں نے تو ارتداد کا لبادہ اوڑھ لیا ہے

کیا امت مسلمہ کے راہنماؤں کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اس وبا کا سد باب کریں اور کیا ہر نوجوان کا اخلاقی فریضہ نہیں ہے کہ وہ امت مسلمہ کی بہن بیٹیوں کی خیر خواہی کرے ،

سب سے پہلے ہم پر واجب ہے کہ ہم سب سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے نکاح کو آسان اور سہل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے
آپ نے فرمایا

«خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ»

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین نکاح وہ ہے جو آسان تر ہو۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1226]

یعنی سب سے بہترین نکاح وہ ہے جو سب سے آسان اور کم خرچ والا ہو

یہی سبب تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے جب سادگی اور قناعت پسندی سے شادی کی تو رب العالمین نے ان کو دنیا اور آخرت میں بہترین سعادتیں عطا فرمائی ،‌حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آپ دیکھ لیں بڑی سادگی اور راست بازی کے ساتھ تصنع اور تکلفات سے بچتے ہوئے اپ نے شادی کی تو اللہ تبارک و تعالی نے آپ کو دنیا اور آخرت میں اونچا مقام عطا کیا

جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:” قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ , فَعَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلَّنِي عَلَى السُّوقِ , فَرَبِحَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ , فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ”، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ:” فَمَا سُقْتَ فِيهَا؟” فَقَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ”.

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ کرایا تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ان کے اہل و مال میں سے آدھا وہ قبول کر لیں لیکن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و مال میں برکت دے۔ آپ تو مجھے بازار کا راستہ بتا دیں۔ چنانچہ انہوں نے تجارت شروع کر دی اور پہلے دن انہیں کچھ پنیر اور گھی میں نفع ملا۔ چند دنوں کے بعد انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان کے کپڑوں پر (خوشبو کی) زردی کا نشان ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمٰن یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں مہر میں تم نے کیا دیا؟ انہوں نے بتایا کہ ایک گھٹلی برابر سونا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ولیمہ کرو خواہ ایک ہی بکری کا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3937]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»


شریعت اسلامیہ میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے

موجودہ دور میں اغیار کی صحبت اور سنگت نے نہ صرف امت مسلمہ کے اخلاق و کردار پر برا اثر ڈالا ہے بلکہ عقائد و نظریات بھی بدل دیے ہیں حتی کہ آج امت مسلمہ بھی ان کی شانہ بشانہ تنزلی اور قدامت پسندی کی شاہراہ پر قدم بقدم بڑھتی چلی جا رہی ہے انہی چیزوں میں سے ایک چیز جہیز ہے ہم میں سے بہت سے سادہ لوح انسان اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں کہ جہیز کوئی غیر شرعی چیز نہیں ہے بلکہ یہ تو سنت نبوی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لخت جگر اور نور نظر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو شادی کے موقع پر کچھ ساز و سامان عطا کیے تھے جبکہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پرورش خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی لہذا آپ نے ذاتی زندگی کی کچھ ضروری چیزیں ان کو فراہم کی تھیں

اسے جہیز کے جواز پر دلیل لینا اور غریب و مسکین لوگوں کو پریشان کرنا صحیح نہیں ہے اگر بالفرض جہیز کا کوئی رشتہ یا ناطہ مذہب اسلام سے ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صریح الفاظ میں اس کا ذکر فرماتے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی صحابی رسول کو جہیز لینے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس آپ نے لڑکے کو حکم دیا کہ وہ اس نعمت عظمی کی خوشی میں مہر ادا کرے اور ولیمہ کریے،
حدیث مبارکہ میں مذکور ہے

جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: جِئْتُ أَهَبُ نَفْسِي، فَقَامَتْ طَوِيلًا فَنَظَرَ وَصَوَّبَ، فَلَمَّا طَالَ مُقَامُهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، قَالَ:” عِنْدَكَ شَيْءٌ تُصْدِقُهَا؟” قَالَ: لَا، قَالَ: انْظُرْ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنْ وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ:” اذْهَبْ فَالْتَمِسْ، وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ”، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، قَالَ: لَا، وَاللَّهِ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَعَلَيْهِ إِزَارٌ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَقَالَ: أُصْدِقُهَا إِزَارِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” إِزَارُكَ إِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ” فَتَنَحَّى الرَّجُلُ فَجَلَسَ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَقَالَ:” مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟” قَالَ: سُورَةُ كَذَا وَكَذَا لِسُوَرٍ عَدَّدَهَا، قَالَ:” قَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ”.

حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے آئی ہوں، دیر تک وہ عورت کھڑی رہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور پھر سر جھکا لیا جب دیر تک وہ وہیں کھڑی رہیں تو ایک صاحب نے اٹھ کر عرض کیا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو ان کا نکاح مجھ سے کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو مہر میں انہیں دے سکو، انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھ لو۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ واللہ! مجھے کچھ نہیں ملا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ تلاش کرو، لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ وہ مجھے لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ وہ ایک تہمد پہنے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر (کرتے کی جگہ) چادر بھی نہیں تھی۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں انہیں اپنا تہمد مہر میں دے دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارا تہمد یہ پہن لیں گی تو تمہارے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اور اگر تم اسے پہن لو گے تو ان کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ وہ صاحب اس کے بعد ایک طرف بیٹھ گئے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جاتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور فرمایا تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں۔ انہوں نے سورتوں کو شمار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا میں نے اس عورت کو تمہارے نکاح میں اس قرآن کے عوض میں دے دیا جو تمہیں یاد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5871]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

آخر میں اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ رب العالمین ہم کو صحیح معنوں میں قرآن و حدیث کی تعلیمات کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے