انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منگل کے روز الفلاح یونیورسٹی کے بانی، جواد احمد صدیقی، کو دہشت گردی کی مالی معاونت سے جڑے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کر لیا۔
ایجنسی کی یہ کارروائی دہلی پولیس کرائم برانچ کی جانب سے یونیورسٹی کے خلاف درج کی گئی دو ایف آئی آرز کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں دھوکہ دہی اور ایکریڈیٹیشن دستاویزات میں مبینہ جعل سازی کے معاملات شامل ہیں۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
فرید آباد کے دھوج علاقے میں قائم الفلاح یونیورسٹی اس وقت سخت نگرانی میں ہے، کیونکہ 10 نومبر کو دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکے میں ملوث کئی ڈاکٹروں کی گرفتاری کے بعد اس ادارے کا نام سامنے آیا۔ اس خودکش حملے میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ خودکش بمبار، ڈاکٹر عمر ان نبی، کشمیر کا رہائشی اور یونیورسٹی سے وابستہ تھا۔
ای ڈی کے مطابق صدیقی کی گرفتاری جامع تحقیقات اور ان شواہد کے تجزیے کے بعد عمل میں آئی جو الفلاح گروپ کے دفاتر اور یونیورسٹی کیمپس پر کی گئی تلاشی کارروائی کے دوران حاصل کیے گئے۔ مرکزی ایجنسی نے دہلی میں 19 مقامات پر چھاپے مارے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !