فضیلۃ الاستاذ الشیخ الدکتور محمد اکرم الندوی حفظہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت ہمیں ایک سوال عرض کرنا ہے ،امید کہ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں گے، ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ وسوانح اور رہنما شخصیات پر مطالعہ کا شوق ہے، الحمدللہ اس سلسلے میں ہم نے بہت سی کتب کا مطالعہ بھی کیا ۔ ہمیں معلوم یہ کرنا ہے کہ اس فن میں مہارت اور کمال پیدا کرنے کا طریقہ کیا ہے اور اس میں رسوخ حاصل ہو اس کے لیے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔
امید کہ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں گے ،اور اس سلسلے میں مزید کچھ مستند کتابوں کی طرف رہنمائی فرمائیں گے ۔ فجزاکم اللہ خیراً ۔
عمر محبوب ندوی نالا سوپارہ ۔
جواب:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عزیزِ گرامی! اللہ تعالیٰ آپ کے شوقِ مطالعہ اور جستجوئے حق میں وہ برکت عطا فرمائے جس سے دلوں کی دنیا روشن ہو جائے اور نگاہوں کو وہ بصیرت نصیب ہو جو واقعات کے ظواہر سے آگے بڑھ کر معانی کی اصل حقیقت تک پہنچاتی ہے۔ آپ نے سیرتِ طیبہ اور عظیم رہنما شخصیات کے مطالعہ میں رسوخ حاصل کرنے کا سوال کیا ہے، اور یہ سوال دراصل ایک ایسے دل کی نشانی ہے جو بلندیاں چاہتا ہے، جسے علم کی پیاس ستاتی ہے، اور جو اس پیاس کے بجھانے کے لیے رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ منورہ کے آبِ شیریں کی تلاش میں ہے۔ میں آپ کے اس شوق کی قدر کرتا ہوں، اس لیے کہ سیرت کا مطالعہ کوئی معمولی مشغلہ نہیں، یہ اپنے اندر ایک کائنات رکھتا ہے، روح کی غذا، عقل کی جلا، دل کی راحت، ایمان کی تازگی، اور عمل کی روشنی سب اسی سے ملتی ہے۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
سیرتِ نبوی دراصل قرآن کے اسرار کی چابی ہے، قرآنِ کریم کا وہ نور جو الفاظ کے پردوں میں چھپا ہوتا ہے، وہ سیرت کے آئینے میں جلوہ گر ہوتا ہے، جب تک حالاتِ نبویؐ اور پس منظرِ نزول کو نہ سمجھا جائے، آیات کی معنوی گہرائیاں پوری طرح آشکار نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے علماء نے کہا کہ قرآن اور سیرت دو نہیں بلکہ ایک ہی نور کی دو شعاعیں ہیں، جو ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، امام ابن حزمؒ نے جو جملہ کہاکہ اگر نبی کریم ﷺ کے پاس کوئی معجزہ نہ ہوتا بجز آپ کی سیرت کے، تب بھی آپ کی صداقت کے لیے یہ بات کافی ہوتی، تو وہ کوئی لفظی مبالغہ نہیں، بلکہ تاریخ کا نچوڑ، عقل کا تقاضا، اور حقیقتِ نبوت کا زندہ ثبوت ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سیرت تاریخ کا ایک شعبہ ہے، لیکن وہ تاریخ سے کچھ زیادہ ہے، تاریخ مردہ واقعات کا نام ہے، سیرت زندہ حقائق کا عنوان ہے، تاریخ ایسا جسم ہے جس میں روح نہیں، سیرت وہ پیکر ہے جس میں نبوت کی روح پھونکی گئی ہے، اسی لیے اس کا مطالعہ بھی عام تاریخ کے مطالعہ کی طرح سطحی نظر کے ساتھ نہیں ہو سکتا؛ اس کے لیے دل کی آنکھ چاہیے، دماغ کا توازن چاہیے، روایت کی صحت چاہیے، اور واقعات کی معنوی گہرائی تک رسائی کی سکت چاہیے۔ امام طبری نے جو یہ اصول بیان کیا کہ ماضی کے حالات تک رسائی صرف معتبر راویوں کے ذریعے ہوتی ہے، وہ دراصل سیرت کے مطالعے کی اولین بنیاد ہے۔ سیرت کی عمارت مرویات، آثار اور قابلِ اعتماد روایات پر قائم ہے، اور جب تک انسان ان سرچشموں کا ذائقہ نہیں چکھتا، اس کے علم کو پختگی نہیں ملتی۔
پہلا مقام وہ ہے جہاں انسان قرآنِ کریم اور حدیثِ صحیح کا رجوع کرے۔ قرآن سیرت کا نور ہے اور حدیث اس نور کا بیان۔ اس کے بعد وہ کتب آتی ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو روایت کے ساتھ نقل کیا، موطأ امام مالک، مسند احمد، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن الدارمی، صحیح ابن حبان، معاجمِ طبرانی، سنن بیہقی، اور اسی طرح سیرتِ ابن ہشام اور طبقاتِ ابن سعد۔ یہ وہ سرچشمے ہیں جن سے سیرت کا خالص پانی بہتا ہے، جو طالبِ علم ان کتب کی فضا میں کچھ عرصہ گزار لے، اس کی طبیعت میں خود بخود روایت کی صلابت، تحقیق کا ذوق، اور واقعات کی صحت کو پرکھنے کا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے۔
پھر وہ دور آتا ہے جب طالب علم تفہیمِ سیرت کی دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں کتبِ شفا، الروض الأنف، زاد المعاد، عیون الأثر اور ابن کثیر کی سیرت سامنے آتی ہے۔ ان کتابوں نے مرویات کو ترتیب دی، واقعات کی حکمتوں پر روشنی ڈالی، لغت، فقہ، تاریخ اور تدبر کے پہلو کھولے، اور سیرت کو محض واقعات کے دھارے سے نکال کر فکر اور فہم کا نظام بنایا۔ یہاں طالب علم واقعات کو صرف ”کیا ہوا“ کے طور پر نہیں پڑھتا، بلکہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ ”کیوں ہوا“، ”کیسے ہوا“، اور ”ہمیں اس سے کیا سیکھنا چاہیے“۔
پھر جدید دور آتا ہے جس میں سیرت کو ایک نئے اسلوب میں بیان کیا گیا، تحلیل کے ساتھ، ترتیب کے ساتھ، عقل کی روشنی میں، قبولیت کے معیار کے ساتھ، اور ان اعتراضات کے جواب کے ساتھ جو مستشرقین نے اٹھائے۔ اسی میدان میں علامه شبلی نعمانی اور علامه سید سلیمان ندوی کی ’’سیرۃ النبی‘‘ وہ آفتاب ہے جس نے اس فن کے افق کو نئے رنگوں سے بھر دیا، اور اس کی شعاعیں آج بھی دنیا بھر میں اہلِ علم کے دلوں کو منور کر رہی ہیں۔ بعد میں مولانا ابو الحسن علی ندویؒ نے سیرت کے اخلاقی، دعوتی اور روحانی پہلوؤں کو جس دلنشین انداز میں پیش کیا، وہ اسی سلسلے کی تکمیل ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس فن میں رسوخ کیسے پیدا ہو؟ میرے عزیز! اس کى پہلى شرط یہ ہے کہ مطالعہ کو سطح سے اٹھا کر گہرائی تک لے جائیں۔ واقعات کو جلدی میں نہ پڑھیں، ہر واقعہ کو اس کے حالات، اسباب، ماحول اور نتائج کے ساتھ دیکھیں۔ دوسری بات یہ کہ روایت اور درایت دونوں کو ساتھ لے کر چلیں؛ سند کی صحت دیکھیں، متن کی معنویت دیکھیں، اور عقل و نقل کا توازن قائم رکھیں۔ تیسری بات یہ کہ تاریخ، لغت اور ادب کے مطالعہ کو نظرانداز نہ کریں؛ یہ تینوں سیرت کی فہم میں مددگار ہوتے ہیں۔ چوتھی بات یہ کہ سیرت کو استاد کی صحبت میں پڑھا جائے، استاد صرف معلومات نہیں دیتا، وہ بصیرت دیتا ہے؛ کتابیں صرف واقعات بتاتی ہیں، استاد واقعات کا مفہوم سمجھاتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سیرت کا مطالعہ محض دماغ کا استعمال نہیں، دل کی پاکیزگی بھی چاہتا ہے۔ یہ علم اُن لوگوں کے سامنے اپنے راز کھولتا ہے جن کے دل میں حضورِ اکرم ﷺ کی محبت کی چنگاری سلگتی ہو۔ جب انسان رسولِ پاک ﷺ کے واقعاتِ زندگی کو پڑھے اور اس کے نتیجے میں اس کا دل بدلے، اس کے اخلاق بہتر ہوں، اس کی زندگی منظم ہو، اس کی آنکھوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو، تب سمجھیں کہ وہ سیرت کا حق ادا کرنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے علم میں وسعت دے، آپ کے شوق میں سچائی پیدا کرے، اور آپ کو اُن لوگوں میں شامل فرمائے جن کے لیے سیرتِ نبوی نہ صرف مطالعہ ہے، بلکہ زندگی کا سرمایہ ہے۔
قلم کار: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ لندن
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !