کئی سال پہلے کی بات ہے کہ ہمارے یہاں ایک امام صاحب تھا ، جو آج بھی ایک مسجد میں امامت کرتا ہے ، چنانچہ ایک دفعہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ چل رہا تھا کہ اس امام نے مجھ سے راستہ میں پوچھا کہ واقعہ کربلا کا ذکر قرآن کی کس پارہ میں آیا ہے ؟
میں اس کی اس سادہ لوحی اور قرآن کے بارے میں لا علمی پر حیران رہ گیا ، کچھ بول نہیں پا رہا تھا ، لیکن کچھ دیر بعد میں نے اس سے کہا کہ واقعہ کربلا کا ذکر قرآن کی تینتیسویں (33) پارہ میں آیا ہے ۔
اس نے شکریہ کہا ، اور آگے نکل گیا ، لیکن چند قدم کے بعد وہ واپس آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ نے مجھے شاید تینتیسویں (33) کا حوالہ دیا ؟ مگر قرآن تو تیس (30) پاروں پر مشتمل ہے ؟
میں نے کہا کہ آپ کا سوال ہی صریحاً غلط اور لاعلمی پر مبنی تھا ، اس لئے میں نے تینتیسواں (33) ہی پارہ بتا دیا ، چونکہ جو واقعہ قرآن میں نہیں ہے ، تو میں اس کا اس کے علاوہ اور کیا جواب دے سکتا تھا ؟ اور ایک امام ہوکر آپ کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ یہ واقعہ 61 ہجری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کم و بیش پچاس سال بعد پیش آیا تھا ، تو پھر واقعہ کربلا کا ذکر قرآن میں کیسے ہوسکتا ہے ؟ لیکن وہ میرے اس وضاحتی جواب کو سن کر شرمندہ ہوا اور اپنی پشیمانی کے مارے سر جھکائے ہوئے چلا گیا ۔
اسی طرح تقریباً تین دہائی قبل کی بات ہے کہ ایک اور نام نہاد اور خود ساختہ مفتی تھا ، لوگوں کو شرعی فتوے دیکر ان سے بڑی بڑی رقمیں وصول کرتا تھا ، لیکن کشمیر میں اس طرح کے نام نہاد مفتی حضرات بھی آپس میں معاصرانہ چشمک کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف ہوجاتے تھے ، چونکہ میں نے اس مفتی کے سیکڑوں فتوے دیکھتے تھے ، جو پچانوے فیصد غلط ہوتے تھے ، ان میں قرآنی آیات سے چھوٹے چھوٹے فقروں کو نکال کو نئی آیتیں بنا کر پھر ان سے استدلال کرکے اپنی مرضی کے مطابق فتوے تیار کئے جاتے تھے ، تو اس وقت ایک اور مفتی نے اس نقلی مفتی کے بہت سے فتوؤں سے ان قرآنی فقروں سے جوڑ کر بنائی گئی آیات کی تصویریں کھینچ کر ایک تفصیلی مضمون کی صورت میں روز نامہ آفتاب کے ایک فل پیج پر شائع کیا تھا ، یہ مضمون کس نے لکھا تھا ؟ اس کا علم مجھے بھی تھا ، لیکن اس نے فرضی نام کے ساتھ اس مضمون کو شائع کیا تھا ، اس طرح اس فراڈی مفتی کو ایکسپوز کیا گیا تھا ۔
ان دنوں میرا ایک دوست تھا ، جو عمر میں مجھ سے کافی بڑا تھا ، اس کا احترام بھی تھا ، لیکن چند سال پہلے ان کی اچانک موت ہو گئی ، چنانچہ ایک دن میرے گھر آیا اور اس فراڈی مفتی کی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ان کے فتوؤں سے قرآنی آیات کو درست کریں گے تو آپ کی بڑی مہربانی ہوگی ۔
لیکن میں نے اپنے اس سادہ لوح دوست سے کہا کہ اس فراڈی مفتی نے ان جعلی فتوؤں کے ذریعہ لاکھوں کمائیں اور اب آپ مجھ سے ان کے گناہوں میں شامل ہوجانے کو کہتے ہیں ، تاکہ ان کے گناہوں پر پردہ پڑا رہے ۔ مزید یہ کہ میں نے کہا کہ اگر یہ بات کوئی اور کہتا ، تو میں اسے گھر سے نکلنے کے لئے کہتا ۔
اسی طرح ایک اور مفتی تھا ، جو ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا نکاح پڑھ کر ان سے خطیر رقوم بٹور لیتا تھا ، جو گھر سے بھاگے ہوئے ہوتے تھے ، تقریباً 1996ء کے آس پاس کے زمانے کی بات ہے ، ان دنوں میں نے ایک کتاب ” مسئلہ حق ولایت” لکھی تھی ، جسے بزم توحید اہلحدیث کے نائب صدر مرحوم مولوی غلام نبی میر ، جو عمر کالونی میں رہنے کی وجہ سے عمری صاحب کے نام سے جانے جاتے تھے ، نے شائع کرایا تھا ۔
جب ہمارے علاقے میں اس مفتی نے کئی سرے پھرے اور گھر سے بھاگے ہوئے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے نکاح پڑھوا دئے تھے ، تو میرے نانا جی مرحوم خواجہ محمد سلطان گڈو مرحوم ، وہ بھی بزم توحید اہلحدیث کے نائب صدر رہ چکے تھے ، نے میری اس کتاب ” مسئلہ حق ولایت ” کو اپنے ساتھ لیکر اس مفتی سے ملنے اس کے گھر گیا ، اور اس کو تنبیہ کی کہ آپ ان بھاگے ہوئے لڑکوں اور لڑکیوں کو نصیحت کرنے اور ان کے گھر والوں کو بلانے کے بجائے ، ان کا ساتھ دیکر بغیر ولی نکاح پڑھاتے ہیں ، تو کیا ایک مفتی ہوکر آپ کو یہ زیب دیتا ہے ؟ پھر میرے نانا جی نے اس کو میری کتاب دکھا دی تھی ، تو اس کتاب کو دیکھتے ہی مفتی کے چہرے پر غصہ کا پارہ چڑھ گیا ، دراصل وہ مفتی میری اس کتاب کو پہلے ہی پڑھ چکا تھا اور میں نے اس کتاب کے مقدمہ میں اس طرح کے مفتیوں کو مفتن اور دین فروش لکھ تھا ، تو اس مفتی نے میرے نانا جی سے میرے بارے میں سخت الفاظ میں ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا اور میرے خلاف اجلاس بلانے کی دھمکی بھی دی تھی ۔
چند سال پہلے ایک اور مولوی ، جو فتویٰ نویسی بھی کرتا ہے ، اور خود کو بڑا علامہ بھی سمجھتا ہے ، کے ساتھ خط و کتابت ہوئی ، لیکن جب وہ میری تحریروں کا علمی طور پر جواب نہیں دے پا رہا تھا ، تو وہ ذاتیات پر اتر آیا اور کس کر گالیاں دینے لگا ۔
پھر میں نے اس کو لکھا کہ میں آپ کے اور اپنے سارے خطوط کو کتاب کی صورت میں شائع کروں گا ، تو وہ اس پر سخت برہم ہو گیا اور اپنی جوابی تحریر میں یہاں تک دھمکی آمیز لہجہ میں لکھا کہ اگر آپ نے میرے خطوط کو شائع کیا تو میں عدالت میں جاکر آپ کے خلاف مقدمہ دائر کردوں گا ، حالانکہ میں نے یونہی مذاق میں لکھا تھا کہ میں خطوط شائع کروں گا ۔ لیکن اس طرح کے رد عمل سے ان کھوکھلے اور دین فروش مفتیوں کے مبلغ علم کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے ۔
غرض یہ کہ مجھے اپنے عنفوان شباب ہی کے زمانے سے اس طرح کے کئی مفتیوں اور مولویوں سے واسطہ پڑا رہا ، اور یہ سلسلہ ہنوز سوشل میڈیا کی وساطت سے آج بھی جاری ہے۔ لیکن اس طرح کے جاہل اور دین فروش مولوی و مفتی کبھی ادب و احترام کے ساتھ بات نہیں کرتے ، اور ان کی تحریروں میں گالی گلوج اور جہالت و الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے ، اور خود کو ڈگری یافتہ مفتی و علامہ ظاہر کرکے مجھ پر طنز و تعریض کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں ۔
لیکن میں نے اپنے مخالفین کے حوالے سے ہمیشہ یہی محسوس کیا ہے کہ یہ لوگ میرے مضامین کی مخالفت میں کبھی بھی علم اور دلیل کی روشنی میں جواب دینے کی طاقت اور اہلیت نہیں رکھتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ بد تمیزی ، الزام تراشی اور گالی گلوج کی زبان استعمال کرتے ہیں ، لیکن پھر جب میں کسی تحریر میں ان کے بارے میں اپنی طرف سے رد عمل ظاہر کرتا ہوں ، تو ایسا مجھے مجبوراً کرنا پڑتا ہے ۔ اور اس پر میں شاعر کی زبان میں آخر پر یہی کہنا چاہوں گا ؛
الزام و تہمت لگانے والے بہت ہیں
میں بھی مطمئن ہوں کہ خدا دیکھ رہا ہے
نیچے میری یہ اس وقت کی تصویر ہے ، جب میں ان مفتیوں اور مولویوں کے نشانے پر ہوتا تھا ، اور میری کامل بربادی کے درپے ہوتے تھے ۔
لیکن اللہ تعالی کا فضل اور اس کی حفاظت شامل حال تھی کہ ابھی تک ان جیسے شریر لوگوں کے داؤ پیچ اور مختلف حربوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا ، اور آئیندہ بھی وہی حفاظت کرنے والا ہے ۔
قلمکار: غلام نبی کشافی آنچار صورہ سرینگر
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !