تعلیم یافتہ داعیہ کا تقدیر سے متعلق اہم ترین سوال ؟

muslim women crowed

ایک نیک طینت معلمہ اور تعلیم یافتہ داعیہ نے استفسار کیا ہے
السلام علیکم، محترم شیخ صاحب
قرآن مجید کی آیت ” یمحوا اللہ ما یشاء و یثبت و عندہ أم الکتاب ” کی وضاحت کر دیجئیے۔
جب تقدیریں لکھ دی گئیں، قلم خشک ہو گئے، صحیفے لپیٹ دیے گئے تو یہ محو اور اثبات سے کس معنی میں ہے۔ اسی طرح یہ ذکر بھی ہے کہ اللہ کے کلمات بدلے نہیں جا سکتے۔ نیز اگر ہر انسان کی تقدیر اس کی پیدائش سے پچاس ہزار سال قبل لکھ دیے جانے کا ذکر ہے تو دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے اور صلہ رحمی سے عمر بڑھتی ہے، یہ کیسے تطبیق ہو گی؟
کیا دعا اور صلہ رحمی سے اور اوپر ذکر کردہ آیت مبارکہ کی روشنی میں انسان کی عمر میں کوئی تبدیلی آ سکتی ہے اور موت کا مقررہ وقت بدل سکتا ہے؟

جواب:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ کے استفسار کا شکریہ۔ یہ سوال سورۃ الرعد کی اس مبارکہ آیت کے تناظر میں ہے:
"وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ، يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ” (سورۃ الرعد: 38-39)

یہ آیت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ کوئی بھی نبی یا رسول اپنی ذات کی مرضی یا اختیاری قوت کے تحت کوئی آیت یا معجزہ نہیں لاتا، بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی اجازت، حکمت اور مقررہ وقت کے مطابق وقوع پذیر ہوتی ہے۔ آیات اللہ کی حکمت اور مقررہ وقت کے مطابق نازل ہوتی ہیں، اور اللہ احکام میں مخلوقات کے مصالح اور حالات کی مناسبت سے تبدیلی کرتا رہتا ہے۔ یہ تبدیلی ہرگز اللہ کے علم میں کمی یا نقص کی وجہ سے نہیں ہوتی، بلکہ مخلوقات کی حالتوں، اعمال اور حالات کی مناسبت سے واقع ہوتی ہے، جیسا کہ نسخ کے مسئلے کی تشریح میں بیان کیا گیا ہے۔

تقدیر کے بارے میں بعض لوگوں میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ اسلام سے قبل اور بعد میں مختلف مذاہب اور فلسفی مکاتب نے تقدیر کے بارے میں مختلف آراء بیان کیں۔ بعض نے اسے مکمل طور پر رد کیا اور بعض نے انسان کے اختیار اور ارادے کو مکمل طور پر محدود سمجھا۔ اسلام نے اس مسئلے میں اعتدال اختیار کیا ہے۔

بنیادی بات:
اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ذہن میں ایک بنیادی بات کا واضح ہونا ضروری ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بنانے والا ہے اور وہی ہمیں احکام دینے والا ہے۔ مخلوقات میں وہ تمام افراد جو دوسروں کو احکام دیتے ہیں انہوں نے انہیں بنایا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تنہا ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، اور وہی اپنے علم، قدرت اور حکمت کے ذریعہ ہمارے تمام مصالح کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ اسے ہم اس کی صفتِ ربوبیت سے تعبیر کرتے ہیں، اور اللہ ہی تعالیٰ ہے جو احکام دینے والا ہے، اور اسے ہم اس کی صفتِ الوہیت سے تعبیر کرتے ہیں۔ ذیل میں ربوبیت اور الوہیت کی تشریح کے ذریعہ مسئلۂ تقدیر کو آسان فہم بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

ربوبیت:
اللہ رب ہے، اور اللہ کے سوا کوئی رب نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ انسان کے ظاہری وجود کا سبب اس کے ماں باپ ہیں، یہ بھی صحیح ہے کہ بادشاہ اور حکمران اپنی رعایا کا خیال کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ساری مخلوقات مل کر بھی آپ کے لیے جو کچھ کرتی ہے اسے ربوبیت سے کوئی مناسبت نہیں۔
ماں باپ آپ کی تخلیق نہیں کرتے، وہ آپ کو آنکھ، کان، ناک نہیں دیتے، وہ نہ دل دیتے ہیں اور نہ عقل۔ حکومتیں نہ زمین بناتی ہیں، نہ سورج، نہ چاند، نہ ہوا۔ یہ سارے لوگ جو کچھ بھی آپ کو دیتے ہیں وہ سب، ان کے اسباب اور ان کے مسببات سب کا بنانے والا اور ہر لمحہ ان کا خیال رکھنے والا صرف اللہ ہے۔ بلکہ ماں، باپ، بادشاہ اور حکمران ان سب کو پیدا کرنے والا اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا بھی تنہا اللہ ہے۔

یہ سب کچھ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی غیر محدود صفات علم، قدرت اور حکمت استعمال کی ہیں۔ ہمارے بس میں نہیں ہے کہ ہم اس کے علم یا قدرت اور یا حکمت کی وسعتوں اور گہرائیوں کو سمجھ سکیں۔

ہم جو کچھ کرتے ہیں ان کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم کچھ نہیں کرتے۔ آپ اپنی چھوٹی بچی سے کہتے ہیں کہ چائے بنا دو، وہ کہتی ہے کہ یہ بہت آسان ہے، میں ابھی بناتی ہوں، اور تھوڑی دیر میں وہ چائے بنا دیتی ہے۔ اب آپ ذرا سوچیں کہ کیا اس نے چائے کی پتی بنائی ہے؟ کیا اس نے پانی بنایا ہے؟ کیا اس نے دودھ بنایا ہے؟ کیا اس نے شکر بنائی ہے؟ کیا اس نے وہ ہاتھ بنائے ہیں جو چائے بنانے کے لئے استعمال ہوئے ہیں؟ کیا اس نے وہ عقل بنائی ہے جو چائے بنانے کی ترکیب سوچتی ہے؟ کیا اس نے وہ ارادہ بنایا ہے جو اسے عمل پر آمادہ کرتا ہے؟ کیا اس نے وہ زمین بنائی ہے جہاں وہ کھڑی ہے؟ کیا اس نے آگ بنائی ہے؟ کیا اس نے روشنی بنائی ہے؟ اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں، اور ان سب کا جواب یہی ہے کہ اس بچی نے اس میں سے کوئی چیز نہیں بنائی ہے۔

ان میں سے ہر چیز، اور ان کے درمیان نسبتوں اور تعلقات کا پیدا کرنے والا صرف اللہ ہے۔
ماضی میں جو کچھ ہوا ہے، حال میں جو ہو رہا ہے اور مستقبل میں جو کچھ ہوگا وہ سب اس کے علم، قدرت اور حکمت کا نتیجہ ہے۔
تقدیر نام ہے ربوبیت کی اس حقیقت کا، اور بندوں پر فرض ہے کہ اسے سمجھیں اور اس پر ایمان لائیں۔

الوہیت:
اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو بنایا، اور ان کے لیے قوانین بھی اسی نے بنائے ہیں۔ ہم ساری مخلوقات کو چھوڑ کر اس وقت صرف انسانوں کے متعلق گفتگو کرتے ہیں۔ انسانوں کو بنانے کے بعد اس نے انہیں ارادہ، علم اور قدرت کی نعمت سے نوازا، انہی کے توسط سے ہم کوئی کام انجام دیتے ہیں۔
ربوبیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر سارے احسانات کیے ہیں، الوہیت کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کو مزید انعامات سے نوازنا چاہتا ہے۔ ان مزید انعامات کے لیے اس نے شرط رکھی ہے کہ اپنے ارادہ اور عمل کو میرے حکم کے تابع کرو۔
جو میری بات مانے گا اسے میں جنت انعام میں دوں گا، اور جو میری بات نہیں مانے گا اسے جہنم کا عذاب دوں گا۔

اس نے جو احکام دیے ہیں ان کو بجا لانے کے لیے ضروری علم و قدرت سے ہمیں نوازا ہے۔ ہم چاہیں تو اس کی بات مانیں اور چاہیں تو اس کی بات نہ مانیں۔ اس نے ہمیں کوئی ایسا حکم نہیں دیا ہے جسے پورا کرنے کی اہلیت ہمارے اندر نہ ہو۔

یہ احکام عبادت اور معیشت دونوں سے متعلق ہیں۔
ہمیں ایمان لانے، ایمان نہ لانے، نماز پڑھنے، نہ پڑھنے، نیک بننے اور نہ بننے کی آزادی ہے۔
اسی طرح ہمیں حلال کمائی کرنے اور حرام کمائی کرنے کی آزادی ہے۔
مال بڑھانے کی کوشش کرنے یا نہ کرنے کی بھی آزادی ہے۔

عمل:
جب اللہ کوئی حکم کرتا ہے تو ہماری ذمہ داری ہے کہ اسے بجا لائیں۔
ہمارے اعمال ہمارے ارادہ اور قدرت سے وجود میں آتے ہیں، جن کی تشریح اوپر الوہیت کے تحت آ چکی ہے۔ اس لیے جہاں اس نے کوئی حکم دیا وہاں فوراً یہ سمجھیں کہ اب اس چیز کی تکمیل ہمارے عمل پر منحصر ہے۔
ہم عمل کریں گے تو کامیاب ہوں گے، عمل نہیں کریں گے تو ناکام ہوں گے۔
ہماری اطاعت سے ہمارا فائدہ ہے، اللہ کا کوئی فائدہ نہیں۔
اور ہماری نافرمانی سے ہمارا نقصان ہے، اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں۔

جس طرح اس کی ربوبیت کو مخلوقات پر قیاس نہیں کر سکتے، اسی طرح الوہیت کو بھی انسانوں کی حاکمیت پر قیاس نہیں کر سکتے۔

اللہ تعالیٰ کے سارے اوامر و نواہی حقیقتاً الوہیت کے تابع ہیں، لیکن چونکہ ہم اس کی تقدیر کے تابع بھی ہیں جو ربوبیت کا حصہ ہے، اس لیے اس نے عمل میں ربوبیت کو شامل کرنے کے لیے دو اور چیزوں کا حکم دیا ہے، تاکہ ہماری عبودیت مکمل ہوجائے۔
وہ دو چیزیں ہیں: توکل اور دعا

توکل:
یہ بالکل ظاہر ہے کہ ہمارا ارادہ و عمل اس کی ربوبیت کے زیرِ فرمان ہے، یعنی ہمارے ہر عمل اور ارادہ کی تکمیل کا انحصار خود اس کی مشیئت پر منحصر ہے۔ اسی لیے اس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس کی بات یہ یقین کرتے ہوئے مانیں کہ جو کچھ ہوگا اسی کے کرنے پر ہوگا۔ اسی پر توکل اور بھروسا کریں۔
اسی لیے آئندہ کے کسی کام کے لیے "إن شاء اللہ” کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کلمۂ توکل ہے، اس کا تعلق مستقبل سے ہے۔
اور "ما شاء اللہ” بھی کلمۂ توکل ہے، جس کا تعلق ماضی سے ہے، یعنی ماضی میں ہم نے جو کچھ کیا ہے وہ صرف اللہ کی مشیئت سے ہوا ہے، اور مستقبل میں بھی جو ہوگا وہ اسی کی مشیئت سے ہوگا۔

دعا:
توکل کی طرح دعا بھی ہمارا عمل ہے۔
دعا کا مطلب ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی کا اعتراف کرتے ہیں،
اور اس بات کا دل اور زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ کسی بھی چیز کو وجود میں لانے کے لیے ہم جو کچھ کرتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں۔
تنہا ہمارے ارادہ اور عمل سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں، اس کی توفیق طلب کرتے ہیں، اور ہر چیز کا اسی سے سوال کرتے ہیں۔

خلاصہ:
حاصلِ کلام یہ ہے کہ تقدیر پر ایمان کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیتِ کاملہ پر ایمان۔
اور اختیار اور عمل کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر ایمان، یعنی وہ الٰہ ہے، معبود ہے، اور حاکم ہے۔
جب اس نے ہمیں حکم دیا ہے تو ہمیں اس کی بات ماننے کی پوری کوشش کرنی ہے،
اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی حتی الامکان فکر کرنی ہے۔

توکل اور دعا بھی اس عمل کا حصہ ہیں جس کا اس نے حکم دیا ہے۔

خلاصۃ الخلاصہ:
اس نے ہمیں اختیار دیا ہے تو اس اختیار کو ہمیں اس کی عبادت اور اطاعت کے لیے استعمال کرنا ہے،
اور اس نے تقدیر بنائی ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ ہم اس پر توکل کریں، اور اسی سے مدد مانگیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

تعليمى اداروں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے