ٹرمپ کا ایشیا کا دورہ: شی جن پنگ سے چھ سال بعد ملاقات، جو تجارت کی جنگ کا فیصلہ کر سکتی ہے

امریکہ نے ایران پر کیا براہ راست خطرناک حملہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے دورِ صدارت کا پہلا ایشیا کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ دورہ تقریباً ایک ہفتہ لمبا ہے۔ یہ 25 اکتوبر 2025 کو شروع ہوا۔ اس میں ملائیشیا، جاپان اور جنوبی کوریا کے دورے ہیں۔ اس دورے کا سب سے بڑا حصہ جنوبی کوریا میں اے پی ای سی (ایشیا-پیسفک اکنامک کوآپریشن) اجلاس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہے۔ یہ ملاقات 30 اکتوبر کو ہو سکتی ہے۔ یہ دونوں لیڈروں کی چھ سال بعد پہلی ملاقات ہے (2019 کے جی 20 اجلاس کے بعد)۔ اس ملاقات کا فوکس تجارت کے جھگڑوں پر ہے، جو دونوں ملکوں کی معیشتوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اسے "ڈیل بنانے” کا موقع کہا ہے، جہاں وہ چین اور دیگر ایشیائی ملکوں سے تجارت کی نئی شرائط طے کریں گے۔

دورے کا پروگرام

ٹرمپ کا دورہ تین حصوں میں ہے:

  • ملائیشیا (25-27 اکتوبر): ٹرمپ 26 اکتوبر کو کولالمپور پہنچے اور ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے ملے۔ یہاں آسان (ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز) اجلاس ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے کیمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان امن معاہدہ دیکھا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ملائیشیا، کیمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے ساتھ نایاب معدنیات (ریئیر ارتھ) اور تجارت پر معاہدے سائن کیے۔ یہ چین کے اثر کو کم کرنے کی کوشش ہے۔
  • جاپان (27-28 اکتوبر): ٹرمپ جاپان کے نئے وزیر اعظم ساناے تاکائیچی سے ملیں گے۔ وہ امریکی فوجیوں سے بھی ملیں گے۔ یہاں تجارت کی ڈیلز پر بات ہوگی، جیسے جاپان کا دفاعی خرچ بڑھانا اور ٹیرف (درآمد ٹیکس) کے مسائل حل کرنا۔
  • جنوبی کوریا (29-30 اکتوبر): بوسان میں اے پی ای سی اجلاس میں ٹرمپ جنوبی کوریا کے صدر لی جی مونگ سے ملیں گے اور شی جن پنگ سے دو طرفہ بات کریں گے۔ یہ ملاقات تجارت کی جنگ ختم کرنے اور یوکرین میں امن پر ہوگی۔ ٹرمپ 31 اکتوبر کو واپس واشنگٹن جائیں گے۔

شی جن پنگ سے ملاقات کیوں اہم ہے

ٹرمپ اور شی کی یہ ملاقات 2019 کے بعد پہلی ہے، جب اوساکا جی 20 میں انہوں نے تجارت کی جنگ پر ابتدائی معاہدہ کیا تھا۔ اب دونوں ملکوں میں تناؤ واپس آ گیا ہے۔ چین نے نایاب معدنیات کی برآمد پر پابندیاں لگائیں، جبکہ ٹرمپ نے 1 نومبر سے چینی سامان پر 100 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کی دھمکی دی۔ لیکن ٹرمپ نے کہا کہ "ہم چین کے ساتھ اچھا کر رہے ہیں” اور یہ ملاقات "بہترین ڈیل” لائے گی۔

اس ملاقات سے کیا ہو سکتا ہے:

  • تجارت کی جنگ ختم: دونوں ملکوں کے نمائندوں نے کولالمپور میں ایک پلان بنایا ہے۔ اس میں ٹیرف کم کرنا، امریکی کسانوں کو چینی مارکیٹ میں داخلہ، اور ٹیکنالوجی کی پابندیاں شامل ہیں۔
  • یوکرین میں امن: ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین یوکرین کی جنگ روکنے میں مدد کر سکتا ہے۔
  • علاقے پر اثر: جنوبی کوریا اور جاپان جیسے دوست ملک فائدہ اٹھائیں گے، کیونکہ تجارت کا تناؤ کم ہوگا۔ لیکن چین کی فیکٹریاں اور سپلائی چین کی طاقت کی وجہ سے شی جن پنگ مضبوط ہیں۔

ایکس (پرانا ٹوئٹر) پر لوگ کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ چین سے نرم ہو رہے ہیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ یہ امریکی فائدے کی ڈیل ہوگی۔

دیگر اہم باتیں

  • علاقائی امن: ٹرمپ نے کیمبوڈیا-تھائی لینڈ کے امن معاہدے میں مدد کی، جو "کولالمپور امن معاہدہ” کہلاتا ہے۔ اس میں قیدی چھوڑنا اور سرحد پر ہتھیار کم کرنا شامل ہے۔
  • شمالی کوریا کا معاملہ: ٹرمپ نے کہا کہ وہ کم جونگ ان سے ملنے کو تیار ہیں، لیکن ابھی فوکس تجارت پر ہے۔
  • مسائل: اگر ملاقات ناکام ہوئی تو ٹیرف بڑھیں گے، جو پوری دنیا کی معیشت کو نقصان دیں گے۔ ایشیا کے ملک ٹرمپ-شی کے جھگڑے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اختتام

ٹرمپ کا یہ دورہ نہ صرف تجارت کی جنگ کا راستہ طے کرے گا بلکہ ایشیا میں امریکہ کا اثر بڑھائے گا۔ شی جن پنگ سے ملاقات کامیاب ہوئی تو دونوں ملک فائدہ اٹھائیں گے، ورنہ جھگڑا بڑھ سکتا ہے۔ جیسے جیسے 30 اکتوبر قریب آ رہا ہے، دنیا کی آنکھیں اس پر جمی ہیں۔ یہ دورہ ٹرمپ کی "امریکہ پہلے” پالیسی کا ٹیسٹ بھی ہے۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے