پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے حال ہی میں امریکہ کے شہر ٹامپا، فلوریڈا میں ایک تقریب کے دوران بھارت کو سنگین دھمکیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت سے پاکستان کے وجود کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان ایٹمی جنگ چھیڑنے اور "آدھی دنیا کو تباہ کرنے” کے لیے تیار ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھی سخت بیان دیا، کہا کہ اگر بھارت دریائے سندھ پر ڈیم بناتا ہے تو پاکستان اسے 10 میزائلوں سے تباہ کر دے گا، کیونکہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کی منسوخی سے 25 کروڑ پاکستانی بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دریائے سندھ "ہندوستانیوں کی خاندانی جاگیر نہیں” اور پاکستان کے پاس میزائلوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔
بھارت نے ان دھمکیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایٹمی دھمکی دینا پاکستان کا پرانا وطیرہ ہے اور عالمی برادری کو اس غیر ذمہ دارانہ رویے پر خود نتیجہ اخذ کرنا چاہیے۔ وزارت نے یہ بھی افسوس کا اظہار کیا کہ یہ بیانات ایک دوستانہ تیسرے ملک (امریکہ) کی سرزمین سے دیے گئے۔ بھارت نے واضح کیا کہ وہ ایٹمی بلیک میلنگ کے آگے نہیں جھکے گا اور اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
یہ بیانات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں، خاص طور پر جب بھارتی آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے بھی حال ہی میں ممکنہ جنگ کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
نوٹ: یہ معلومات ویب سے حاصل کردہ رپورٹس پر مبنی ہیں اور اس کی حساس نوعیت کی وجہ سے مکمل تصدیق کی ضرورت ہے۔
پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ بیانات، جن میں انہوں نے بھارت سے وجودی خطرے کی صورت میں ایٹمی جنگ چھیڑنے اور "آدھی دنیا کو تباہ کرنے” کی دھمکی دی، اور ساتھ ہی دریائے سندھ پر ڈیم بنانے کی صورت میں 10 میزائلوں سے اسے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، نے عالمی سطح پر خاصی ہلچل مچائی ہے۔ یہ بیانات 11 اگست 2025 کو امریکی شہر टامپا، فلوریڈا میں ایک بلیک ٹائی ڈنر کے دوران دیے گئے، جو پاکستان کے قونصل جنرل کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔
عالمی ردعمل:
- بھارت کا سخت جواب: بھارتی وزارت خارجہ نے ان دھمکیوں کو پاکستان کا "پرانا وطیرہ” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ وزارت نے کہا کہ یہ غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان کے ایٹمی کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ساکھ پر سوالات اٹھاتے ہیں، خاص طور پر جب فوج دہشت گرد گروہوں سے مبینہ طور پر ملی ہوئی ہو۔ بھارت نے واضح کیا کہ وہ ایٹمی بلیک میلنگ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
- عالمی تشویش: عاصم منیر کے بیانات کو امریکی سرزمین سے کسی تیسرے ملک کے خلاف ایٹمی دھمکی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ایک غیر معمولی اور تشویشناک بات ہے۔ کئی ممالک نے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ سمجھا، اور سوشل میڈیا پر بھی اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا گیا۔ مثال کے طور پر، ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ یہ بیان پاکستان اور عاصم منیر کے لیے بین الاقوامی سطح پر مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
- پاکستان کے حامیوں کا موقف: کچھ پاکستانی صارفین نے ایکس پر عاصم منیر کے بیان کی حمایت کی، اسے بھارت اور اسرائیل جیسے ممالک کے ممکنہ حملوں کے خلاف جرات مندانہ موقف قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ "اگر پاکستان نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں”، جو اس بیان کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
تناظر اور پس منظر:
- سندھ طاس معاہدہ: عاصم منیر نے سندھ طاس معاہدے کو پاکستان کے لیے "زندگی اور موت” کا مسئلہ قرار دیا، کہا کہ اس کی منسوخی سے 25 کروڑ پاکستانی بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے ڈیم بنانے کے منصوبوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ "ہندوستانیوں کی خاندانی جاگیر نہیں”۔
- بھارت-پاکستان کشیدگی: یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب بھارتی آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے بھی "اگلی جنگ” کے امکان کی طرف اشارہ کیا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ عروج پر دکھائی دیتا ہے۔
- پاکستان کی سفارتی کامیابی: پاکستانی ذرائع نے عاصم منیر کے دورہ امریکہ کو کامیاب ملٹری ڈپلومیسی قرار دیا، دعویٰ کیا کہ اس سے بھارت کے "دہشت گردانہ چہرے” کو بے نقاب کیا گیا، خاص طور پر بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے کے امریکی فیصلے کے بعد۔
تجزیہ:
عاصم منیر کے بیانات نے نہ صرف بھارت-پاکستان تعلقات کو مزید کشیدہ کیا بلکہ عالمی برادری کو بھی الرٹ کر دیا۔ ایٹمی دھمکیوں کا امریکی سرزمین سے دیا جانا ایک غیر معمولی اقدام ہے، جو پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اس کے ایٹمی پروگرام کی ساکھ پر سوالات اٹھاتا ہے۔ دوسری جانب، پاکستانی میڈیا اور حامی ان بیانات کو خطے میں بھارت کی مبینہ جارحیت کے خلاف ایک ضروری موقف سمجھتے ہیں۔
تاہم، کچھ ایکس صارفین نے خبردار کیا کہ یہ بیانات پاکستان کے لیے سفارتی اور عالمی سطح پر نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ بھارت کو جوابی کارروائی کے لیے اکسا سکتے ہیں۔
نتیجہ:
یہ بیانات خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں اور عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ، خاص طور پر سندھ طاس معاہدے اور حالیہ فوجی بیانات کے تناظر میں، صورتحال کو مزید نازک بنا رہا ہے۔ عالمی برادری سے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے اس تناؤ کو کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہے۔