اگر آپ متقی نہیں ہیں تو قاسمى، مظاہرى، ندوى، اصلاحى، فلاحى اور سلفى نسبتیں کسی کام کی نہیں
ايمان، اسلام، عمل صالح، تقوى، احسان، صبر، شكر، زہد، تواضع، قناعت، سچائى، امانت، ہمدردى، نيكى كے كاموں ميں تعاون، وغيره وه حقيقى قدريں ہيں جن كے متعلق قيامت ميں سوال ہوگا، ان كى بنياد پر جنت اور جہنم ميں جانے كا فيصله ہوگا، دنياوى زندگى ہميں اسى لئے دى گئى ہے كه ہم ان صفات كو اپنے اندر پيدا كريں، اور ان ميں ترقى كريں۔
ان صفات كى صحيح رہنمائى قرآن وسنت ميں ہے، ان كا علم حاصل كرنے كے لئے ہم دار العلوم ديوبند، مظاہر العلوم سہارنپور، ندوة العلماء لكهنؤ، مدرسة الاصلاح سرائے مير، جامعة الفلاح اعظمگڑه، جامعه سلفيه بنارس اور ديگر مدارس ميں داخله ليتے ہيں، اور كچه وقت گزار كر عالميت، فضيلت وغيره كى سنديں حاصل كرتے ہيں۔
مدرسوں ميں جاكر عالميت وفضيلت كى سنديں حاصل كرنے كا شمار وسائل ميں ہے، جبكه مذكوره بالا صفات كا تحقق مقاصد ميں سے ہے، ذرائع ووسائل كى اسى وقت اہميت ہے جب ان سے مطلوبه مقاصد حاصل ہوں، اگر انسان دكان كهولے ليكن كچه نه كمائے، جم جائے ليكن صحت نه بنائے، راستوں پر سرگرداں رہے اور منزل كى پروا نه كرے تو كسى كے نزديك اس كا عمل قابل تحسين نہيں ہوگا۔
اگر كوئى قاسمى، مظاہرى، ندوى، اصلاحى، فلاحى اور سلفى بن جائے ليكن اس كے اندر تقوى، صبر وشكر كے اوصاف نه ہوں، اس كى زبان سے لوگوں كو تكليف پہنچتى ہو تو قيامت كے روز اس كى نسبتيں كام نہيں آئيں گى، اس كا قاسمى يا ندوى وغيره ہونا اس كے لئے ہرگز مفيد نہيں ہوگا۔
اس كے برعكس اگر كوئى ان اداروں سے فارغ نہيں ليكن اس كے اندر خدا كا خوف ہے، سنت كا اتباع ہے، نيك عمل ميں سبقت كرتا ہے، ہر ايك سے تواضع سے پيش آتا ہے تو قيامت كے روز پوچهے جانے والے سوالات كا وه آسانى سے جواب دے سكے گا، اس كا رب اس سے خوش ہوگا، وه جنت ميں داخل ہوگا، اور جہنم كے عذاب سے محفوظ رہے گا۔
لہذا ہميں چاہئيے كه ہم مدرسوں اور تعليمى اداروں كى نسبتوں كے متعلق مبالغه آرائى سے باز آئيں، وسائل ومقاصد كے فرق كو سمجهيں اور سارى توجه ان صفات كے حصول پر لگائيں جو قيامت ميں كام آئيں گى، جن كى تعليم كے لئے آسمانى كتابيں نازل ہوئيں، پيغمبر مبعوث كئے گئے، اور ہميں زندگى كا تحفه ديا گيا۔
مدرسوں كى نسبتيں وطن اور نسل كى نسبتوں كى طرح ہيں، ان كى حيثيت محض شناخت اور تعارف كى ہے، ان سے كسى كو كوئى برترى نہيں حاصل ہوتى، نه كوئى مقرب دربار الہى بنتا ہے، اور نه كسى كو جنت كا استحقاق ہوتا ہے۔
حقيقت يه ہے كه ان نسبتوں پر فخر جاہليت كى علامت ہے، نبى اكرم صلى الله عليه وسلم نے حسب ونسب پر فخر كى مذمت كى، اور فرمايا "دعوها فإنها منتنة” يعنى اس طرح كے تفاخر سے باز آؤ كيونكه يه ايك بدبو دار خصلت ہے۔
سمجهدار ہيں وه لوگ جو وسائل ومقاصد كا فرق جانتے ہيں اور اسے اپنى زندگى ميں برتتے ہيں، مدرسوں سے علم حاصل كرتے ہيں، ليكن اسى پر بس نہيں كرتے، بلكه حقيقى صفات كے حصول كو اپنا مطمح نظر بناتے ہيں، الله تعالى ہميں صالح اور متقى بنائے۔
مزید خبریں:
اہلِ بیت رضی اللہ عنھم ایک ماڈل خانوادہ
مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال
ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام
عاقل نذیر افغان بزرگ نے دعویٰ کیا کہ میں آج 140 سال کا ہوں اور 1880 میں پیدا ہواہوں
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں