علمِ تاریخ اور علمِ حدیث سے متعلق شاهد خان ندوى صاحب کے کچھ سوالات
سوال: مشفق مکرم جناب محمد شاهد خان ندوى مقیم قطر نے درج ذیل استفسار بهيجا:
مکرمی ومحترمی جناب ڈاکٹر شیخ محمد اکرم ندوی صاحب حفظہ اللہ ورعاہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزشتہ دنوں واٹساپ گروپ "ندوہ العلم والادب” میں حدیث کے موضوع پر کافی گفتگو ہوئی، ماشاءاللہ آپ کا موضوعِ اختصاص "حدیث” بھی ہے اور یہ آپ کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بھی ہے، آپ نے "حدیث” کو تاریخ کی ایک نوع قرار دیا ہے جس کی وجہ سے بعض اہل علم کو حدیث کو تاریخ سمجھنے میں شدید تأمل ہے، آپ نے اپنی بات کو مدلل انداز میں پیش بھی کیا اور کئی مضامین بھی پوسٹ کئے، اس کے باوجود بعض لوگوں کے حلق سے یہ بات نیچے نہیں اتر رہی ہے، آپ کی بات تسلیم نہ کرنے کے پیچھے چند وجوہات ہیں، شاید انھیں وجوہات کی بنیاد پر ان حضرات کو حدیث کو تاریخ کی ایک نوع سمجھنے میں تأمل ہے۔
ان کے اشکالات درج ذیل ہیں:
1- حدیثوں کی تدوین کی کسوٹی عام تاریخ کی تدوین کی کسوٹی سے بہت بلند ہے، اس لیے حدیث کو تاریخ کی ایک نوع قرار دینے سے حدیث کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔
2- حدیث کو تاریخ ماننے سے اس کے مآخذ شریعت ہونے میں کمی واقع ہوتی ہے، کیا فی الواقع ایسا ہی ہے؟
3- بعض لوگ قرآن و حدیث کو ایک ہی درجے میں رکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ قرآن وحی متلو ہے اور حدیث وحی غیر متلو ہے، اس لیے دونوں کی حیثیت برابر ہے، اس لیے جس طرح قرآن کو تاریخ کی کتاب نہیں کہا جاسکتا، اسی طرح حدیث کو بھی تاریخ کی کتاب قرار نہیں دیا جاسکتا، اس سے حدیث کی شان میں کمی واقع ہوتی ہے۔
یہ چند اشکالات ہیں، آپ کو جب بھی فرصت ملے اپنے جواب سے نوازیے گا۔ و جزاکم اللہ عنا خیرا فی الدنیا والآخرة۔
جواب:
آپ کے سوالات پڑھ کر دلی مسرت ہوئی، آپ نے جو نکات اور اشکالات پیش کیے ہیں، ان کے جوابات میں نے اپنی مختلف تحریروں اور مضامین میں بکھرے ہوئے انداز میں پیش کئے ہیں۔ مگر چونکہ وہ منتشر تھے اور ہر جگہ ایک تسلسل کے ساتھ بیان نہیں ہو پائے، اس لیے یہاں میں انہیں دوبارہ ایک منظم، مفصل اور واضح اسلوب میں بیان کر رہا ہوں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک ہی بات کو مختلف انداز میں دہرانے سے وہ افراد جو پہلے ہی حقیقت کو مانتے ہیں، ان کا یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے؛ اور جو حضرات ابھی شبہ میں مبتلا ہیں یا کسی بات کو تسلیم نہیں کرتے، وہ جب اس بات کی تشریح کسی نئے زاویے سے سنتے ہیں تو ان کے اشکالات بتدریج زائل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
اس لیے یہ تحریر نہ صرف سوالات کے براہِ راست جوابات فراہم کرے گی بلکہ اس مسئلے کے پس منظر اور اصولی بنیادوں کو بھی واضح کرے گی، تاکہ قاری خود بھی اس معیار پر باقی شبہات کو پرکھ سکے۔
ذیل میں پہلے ایک جامع تمہید پیش کی جاتی ہے، اس کے بعد آپ کے سوالات کو علیحدہ علیحدہ ذکر کر کے ان کے جوابات دلائل و توضیحات کے ساتھ دیے جائیں گے۔
تمہید
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے اندر تین طرح کے پہلو ہمیں ملتے ہیں:
1. قول: وہ ارشادات اور الفاظ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود زبانِ مبارک سے ارشاد فرمائے۔
2. فعل: وہ اعمال جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں سرانجام دیے اور جنہیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
3. تقرِیر: وہ حالات کہ جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کوئی قول یا عمل کیا گیا اور آپ نے اسے منع نہ فرمایا، بلکہ خاموشی یا سکوت کے ذریعے اس کی تائید فرما دی۔
یہ تینوں چیزیں: قول، فعل اور تقرِیر دین کا حصہ ہیں۔ جو لوگ آپ کے براہِ راست مخاطب تھے، یعنی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، ان کے لیے یہ سب براہِ راست دین تھے۔ ان کے ہاں ان میں کسی قسم کی تفریق نہیں تھی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیتِ رسول جو کچھ کہتے یا کرتے ہیں وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت اور وحی ہی ہے۔
جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ان اقوال، افعال اور تقاریر کو بعد کی نسلوں تک منتقل کیا تو یہ سب چیزیں خبر کی شکل اختیار کر گئیں۔ یعنی اب یہ ایسی باتیں ہو گئیں جنہیں بعد کے لوگوں نے نقل کر کے آگے پہنچایا۔
یہاں سے تحقیق کی ضرورت پیدا ہوئی:
• کیا یہ بات بالکل ویسی ہی ہے جیسی کہی گئی تھی؟
• کیا درمیان میں کسی نے کوئی لفظ کم یا زیادہ کر دیا؟
• کیا مختلف راویوں کی روایات آپس میں مطابقت رکھتی ہیں یا ان میں تضاد پایا جاتا ہے؟
صحابہ کے دور تک چونکہ راوی براہِ راست مشاہدہ کرنے والے تھے، اس لیے غلطی کا امکان نہایت محدود تھا۔ مگر جب ان کے بعد کئی واسطے بیچ میں آگئے تو خطا، سہو اور حتیٰ کہ جعل سازی کے امکانات بھی پیدا ہو گئے۔
ائمۂ حدیث خصوصاً امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے ان روایات کی عہد بہ عہد تحقیق کی۔ انہوں نے دیکھا کہ کون سی روایت ہر دور سے ثابت ہے، اور کس میں کسی دور کا حوالہ غائب ہے۔ اگر کسی روایت میں سند میں خلا (کسی زمانے یا راوی کا نام چھوٹ جانا) پایا جاتا تو اسے قبول نہیں کیا جاتا۔
مزید یہ کہ ہر دور کے راویوں کے طریقے بھی مختلف تھے۔ مثلاً اگر کسی حدیث کی سند میں قتادہ یا اعمش ہوں تو لازم ہے یہ دیکھا جائے کہ آیا انہوں نے وہ بات براہِ راست اپنے استاد سے سنی ہے یا تدلیس (یعنی درمیان کا واسطہ ذکر کیے بغیر روایت کرنا) کی ہے، کیونکہ یہ دونوں حضرات تدلیس میں معروف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امام بخاری و امام مسلم نے قتادہ اور اعمش کی بہت سی روایات کو رد کر دیا۔
اسی طرح اگر کسی روایت میں امام زہری جیسے بڑے محدث ہوں تو یہ تحقیق کرنا ضروری ہے کہ انہوں نے کس بات کو جوں کا توں نقل کیا ہے، کہاں اپنی تشریح کا اضافہ کیا ہے، اور کہاں کسی اور کا قول شامل کر دیا ہے۔ حدیث کی اصطلاح میں اس عمل کو ادراج کہا جاتا ہے، اور امام زہری کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ اکثر ادراج کیا کرتے تھے۔
معاشرتی، سیاسی، دینی اور تمدنی حالاتِ زمانہ کو عہد بہ عہد بیان کرنا ہی تاریخ کہلاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقاریر تو صحابہ کے لیے براہِ راست دین تھے، لیکن بعد کی نسلوں کے لیے یہ سب کچھ روایت کی صورت اختیار کر گیا۔ یعنی وہ براہِ راست واقعہ کے مشاہد نہیں تھے بلکہ انہیں یہ سب باتیں راویوں کے ذریعے معلوم ہوئیں، اور یہی روایت تاریخ کا موضوع ہے۔
اسی لیے ضروری ہوا کہ ان روایات پر عمل کرنے سے پہلے ان کی عہد بہ عہد تحقیق کی جائے، ان میں موجود صحیح و سقیم کو الگ کیا جائے اور کمی و بیشی کی چھان بین کی جائے۔ محدثین نے اسی مقصد کے تحت ہر روایت کے ساتھ اس کی سند ذکر کی اور اسے قبول کرنے کے لیے سند کا متصل ہونا لازمی قرار دیا۔
چونکہ یہ سب کچھ نقل و روایت کے ذریعے منتقل ہوا ہے، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور تقاریر کی نقل میں وہی الفاظ استعمال ہوئے جو تاریخ کی روایت میں رائج ہیں: جیسے حدثنا، أخبرنا، أنبأنا وغیرہ۔
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور تقاریر کو تو دین ہی مانتے ہیں، البتہ ان کی روایت، تحدیث اور نقل کو تاریخ کہتے ہیں۔ محدثین کی اصطلاح میں اسی کو خبر، حدیث، روایت وغیرہ کہا جاتا ہے، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اصل متن کو سمجھنے سے پہلے اس کی سند اور ماخذ کی تحقیق ضروری ہے؛ ورنہ سند کے ذکر کی حاجت ہی نہ ہوتی۔
سوالات و جوابات
1. حدیثوں کی تدوین کی کسوٹی عام تاریخ کی تدوین سے بہت بلند ہے، اس لیے حدیث کو تاریخ کی ایک نوع قرار دینے سے حدیث کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔
یہ بات درست ہے کہ محدثین خصوصاً امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کا معیار عام تاریخ کے معیار سے نہایت بلند ہے، بلکہ عام تاریخ اس معیار کے نصف تک بھی نہیں پہنچ سکتی۔
لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بلند معیار کی بنا پر حدیث اپنی جنس (یعنی تاریخ) سے خارج ہو جاتی ہے؟ ہرگز نہیں!
اسے سمجھنے کے لیے چند مثالیں ملاحظہ کریں:
• انسان اور خنزير میں بے پناہ فرق ہے، مگر انسان بہرحال جنسِ حیوان ہی میں شامل ہے۔
• مکہ مکرمہ اور دیگر شہروں کے درمیان روحانیت و حرمت کے اعتبار سے زمین و آسمان کا فرق ہے، مگر مکہ پھر بھی ایک شہر ہی کہلاتا ہے۔
• مولانا ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ اور کسی معمولى ندوی کے درمیان علم و فضل میں بے حد تفاوت ہے، مگر دونوں کا انتساب ندوی ہی ہے۔
خلاصہ یہ کہ جنس کی انواع میں درجات اور مراتب کا فرق ضرور ہوتا ہے، مگر اس فرق کی وجہ سے کوئی نوع اپنی اصل جنس سے خارج نہیں ہوتی۔
2. کیا حدیث کو تاریخ ماننے سے اس کے ماخذِ شریعت ہونے میں کمی واقع ہوتی ہے؟
ہرگز نہیں! ماخذِ شریعت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقاریر ہیں۔ ان کو تاریخ نہیں کہا جا رہا، بلکہ تاریخ کا اطلاق ان کی روایت، تحدیث، اخبار اور نقل پر کیا جا رہا ہے۔
یعنی حدیث کو تاریخ کہنا دراصل روایت کے اس پہلو کو بیان کرنا ہے، نہ کہ حدیث کی اصل حیثیت یا اس کے ماخذِ شریعت ہونے پر کوئی قدغن لگانا۔
3. بعض لوگ قرآن و حدیث کو ایک ہی درجے میں رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دونوں وحی ہیں: قرآن وحی متلو ہے اور حدیث وحی غیر متلو، اس لیے دونوں کی حیثیت برابر ہے۔ پھر اگر قرآن کو تاریخ کی کتاب نہیں کہا جا سکتا تو حدیث کو بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس سے حدیث کی شان میں کمی نہیں آئے گی؟
یہ نکتہ بھی غور طلب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن اپنے ثبوت کے لیے انسانوں کی روایت کا محتاج نہیں۔ قرآن کے قرآن ہونے کی دلیل خود قرآن ہے، جو غیر معمولی اور منفرد كلام ہے۔
لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقاریر ہم تک انسانی روایت کے ذریعے پہنچے ہیں۔ جو چیز روایت پر موقوف ہو، وہ اصطلاحِ تاریخ کے دائرے میں آتی ہے۔
البتہ یہ بھی واضح رہے کہ قرآن سے متعلق کئی علوم تاریخ کے دائرے میں داخل ہیں، مثلاً:
• تفسیرِ قرآن
• رسمِ خطِ قرآن
• قراءتِ قرآن
لہٰذا یہ کہنا کہ حدیث تاریخ کی ایک نوع ہے، اس کے ماخذِ شریعت ہونے میں کوئی کمی نہیں کرتا، بلکہ صرف اس کے انتقال کے طریقہ کو بیان کرتا ہے۔
اختتامی بات
یہ وضاحت اس لیے کی گئی ہے کہ حدیث کو تاریخ کہنا دراصل اس کی منتقلی کے انداز کو بیان کرنا ہے، نہ کہ اس کے دینی مقام و مرتبہ کو گھٹانا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ہر حدیث پر عمل کرنے سے پہلے اس کی سند کی جانچ پڑتال کی جائے، یہی وہ عمل ہے جسے محدثین نے باقاعدہ فن بنا دیا اور اسی کی برکت سے صحیح و ضعیف، متصل و منقطع، اور مدلس و غیر مدلس کی پہچان ممکن ہوئی۔
ڈاكٹر محمد اكرم ندوى
آكسفورڈ لندن
مزید خبریں:
اہلِ بیت رضی اللہ عنھم ایک ماڈل خانوادہ
مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال
ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام
عاقل نذیر افغان بزرگ نے دعویٰ کیا کہ میں آج 140 سال کا ہوں اور 1880 میں پیدا ہواہوں
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں