Dr Akram Nadwi

فلسفہ، علمِ کلام اور خدا کے وجود پر ایک فکری و دینی مکالمہ

السلام عليكم ڈاکٹر صاحب!
میں نہایت ادب و احترام کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں ایک مدرسے سے فارغ التحصیل ہوں اور اس وقت فلاں یونیورسٹی میں فلسفہ کے مضمون میں ایم اے کر رہا ہوں۔ میں اور میرے چند ساتھی آپ کی انگریزی اور اردو تحریروں کو نہایت شوق اور توجہ سے پڑھتے ہیں۔ آپ کی حالیہ تحریروں سے عقل کے حدود کو سمجھنے میں ہمیں بہت فائدہ حاصل ہوا ہے۔
ہم آپ کی خدمت میں تین سوالات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سوالات صرف میرے ذاتی نہیں، بلکہ میرے دیگر ساتھیوں کی جانب سے بھی ہیں۔ امید ہے کہ آپ ان کے جوابات عنایت فرما کر ہمیں مشکور فرمائیں گے:
سوال نمبر 1: ہم نے حال ہی میں خدا کے وجود کے اثبات كا مناظرہ دیکھا، مگر اس میں خدا کے وجود پر کوئی واضح عقلی دلیل پیش نہیں کی جا سکی۔ جب ہم نے ان علما سے، جو اس مناظرے میں فتح کی خوشی منا رہے تھے، اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ مناظروں میں توجہ جیت اور ہار پر ہوتی ہے۔ اور اگر خدا کے وجود کے عقلی دلائل درکار ہوں تو علمِ کلام کا مطالعہ کیا جائے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی علمِ کلام میں کوئی ایسی قطعی اور حتمی عقلی دلیل موجود ہے جو خدا کے وجود کو یقینی طور پر ثابت کرتی ہو؟
سوال نمبر 2: آپ نے اپنے ایک مضمون میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ خدا کے وجود کے عقلی دلائل کی نفی کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کی ربوبیت اور الوہیت کے دلائل موجود نہیں، بلکہ اس کے برعکس ان کے دلائل بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا آپ ان دلائل کی کچھ وضاحت اور نشاندہی فرما سکتے ہیں؟
سوال نمبر 3: آپ سے گزارش ہے کہ فلسفہ کے طلبہ کے لیے کوئی ایسی نصیحت ارشاد فرمائیں جس پر عمل کر کے ہم فلسفہ کے شر سے محفوظ رہ سکیں اور اسے اپنے لیے مفید اور کارآمد بنا سکیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے تازہ خبر ملے

جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کا مکتوب نہایت خوشی، اطمینان اور امید کا باعث بنا۔ اس میں جہاں ایک طرف علمی سنجیدگی، فکری دیانت اور سوال کرنے کا سلیقہ نمایاں ہے، وہیں دوسری طرف یہ بات خاص طور پر باعثِ مسرت ہے کہ آپ دینی تعلیم سے فراغت کے بعد فلسفہ جیسے دقیق اور پُرخطر میدان میں قدم رکھتے ہوئے بھی فکری احتیاط اور دینی ذمہ داری کو پیشِ نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو علمِ نافع، بصیرتِ صحیحہ اور حق پر استقامت عطا فرمائے۔
ذیل میں آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب، قدرے تفصیل اور وضاحت کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں تاکہ مفہوم پوری طرح منکشف ہو جائے اور کسی اجمال یا ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔

پہلے سوال کا جواب:
آپ چونکہ میری تحریروں کا باقاعدہ مطالعہ فرماتے ہیں، اس لیے آپ کو علم ہے کہ میں مسلسل اس امر کی طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ علمِ کلام کے منہج، اس کی فکری بنیادوں اور اس کے دعووں کا ازسرِنو سنجیدہ جائزہ لیا جانا ناگزیر ہے۔ ان شاء اللہ بہت جلد وہ مضامین سامنے آئیں گے جن میں علمِ کلام کی عقلی صلاحیت، اس کے استدلالی ڈھانچے، اور بالخصوص ان دلائل کی صحت پر مفصل گفتگو کی جائے گی جو متکلمین نے خدا کے وجود کے اثبات کے لیے پیش کیے ہیں۔
فی الوقت اتنی بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ یہ حضرات محض عقلی بنیادوں پر نہ صرف خدا کے وجود کو، بلکہ ادنیٰ ترین مخلوقات، جیسے مکھی اور مچھر کے وجود کو بھی ثابت کرنے سے عاجز ہیں۔ ان کے دلائل زیادہ سے زیادہ منطقی تصورات اور ذہنی مفروضات کی حد تک محدود رہتے ہیں، خارجی اور واقعی وجود (external existence) تک رسائی ان کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ کی ذات تو ایک طرف، خدا کی ایک بنیادی صفت ہی کو لے لیجیے، یعنی حیات۔ اللہ تعالیٰ الحي القيوم ہے۔ اب ذرا ان اہلِ کلام سے دریافت کیجیے کہ حیات کی حقیقت کیا ہے؟ حیات فی نفسہٖ کیا شے ہے؟ جب خود حیات کی ماہیت ان کے فہم اور ادراک سے باہر ہے، تو وہ کسی ذی حیات کے وجود کو محض عقل کی بنیاد پر کیسے ثابت کریں گے؟ اور جب یہ کام ممکن نہیں، تو ذاتِ باری تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کا دعویٰ کس قدر کھوکھلا اور بے بنیاد ہے، اس کا اندازہ خود بخود ہو جاتا ہے۔
آئندہ جب کوئی شخص آپ کو خدا کے وجود کے عقلی دلائل کے حوالے سے علمِ کلام کی طرف متوجہ کرے، تو نہایت سکون، وقار اور متانت کے ساتھ اس سے حیات کی حقیقت دریافت کیجیے۔ وہ اس بنیادی سوال سے پہلو تہی کرے گا؛ اور اگر آپ اس کے گھر جائیں تو وہ اپنے بیٹے کو بھیج دے گا کہ ابو کہہ رہے ہیں کہ وہ اس وقت گھر پر موجود نہیں ہیں۔

دوسرے سوال کا جواب:
درحقیقت یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کے جواب کی غرض سے یہ مضامین تحریر کیے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اگر خدا کے وجود کے عقلی دلائل پر تنقید کی جائے تو گویا خدا کے انکار کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، حالانکہ یہ ایک سراسر غلط فہمی ہے۔ خدا کے وجود کے عقلی دلائل کی نفی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت کے دلائل موجود نہیں؛ بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
ان شاء اللہ آئندہ تحریروں میں قرآنی دلائل کی حقیقت، ان کا منہجِ استدلال، اور ان کی فطری ووجدانی بنیادوں کی تفصیل کے ساتھ وضاحت کی جائے گی۔ وہاں یہ دکھایا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت کسی منطقی قیاس یا فلسفیانہ مقدمات کی محتاج نہیں، بلکہ وہ انسانی فطرت، کائنات کے مشاہدے، اور انسانی شعور کی گہرائیوں میں اس طرح راسخ ہے کہ اگر انسان تعصب اور ضد سے پاک ہو کر دیکھے تو انکار کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
فی الحال آپ کے لیے بہتر یہی ہے کہ آپ قرآنِ کریم کا نہایت گہرائی، سکون اور تدبر کے ساتھ مطالعہ کریں۔ قرآن محض دلائل کی کتاب نہیں، بلکہ وہ دل کو بیدار کرنے، فطرت کو جگانے اور شعور کو راست سمت دینے والی کتاب ہے۔ تدبر وہ کنجی ہے جو آپ کے لیے ایسی حقیقتوں کے دروازے کھول دے گا جن کا آپ اس وقت تصور بھی نہیں کر سکتے، اور آہستہ آہستہ آپ کا دل اللہ تعالیٰ کے شکر، محبت اور معرفت سے لبریز ہو جائے گا۔

تیسرے سوال کا جواب:
یہ نکتہ ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں کہ فلسفہ اپنی بنیادی ساخت میں شک پیدا کرنے اور سوال اٹھانے کا علم ہے۔ جب انسان فلسفہ پڑھتا ہے تو اسے ہر دعوے، ہر روایت اور ہر تصور میں سوال اور شبہ نظر آنے لگتا ہے۔ اپنی جگہ یہ شک نہ صرف برا نہیں بلکہ علم و معرفت کی پہلی کنجی ہے، کیونکہ بغیر سوال کے فکر کا دروازہ نہیں کھلتا۔
اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان شک ہی پر رک جائے اور اسے اپنی آخری منزل سمجھ لے۔ شک اگر منزل بن جائے تو گمراہی ہے، اور اگر ذریعہ بن جائے تو ہدایت کا دروازہ ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ فلسفے سے سوالات ضرور حاصل کریں، مگر ان سوالات کے جوابات صرف ذہنی قیاسات میں نہ ڈھونڈیں، بلکہ عالمِ فطرت، انسانی تجربے اور وحیِ الٰہی کی روشنی میں تلاش کریں۔
یہی وہ منہج ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عمل کیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا، مشاہدہ کیا، غور و فکر کیا، اور پھر یقین کی اس منزل تک پہنچے جس میں شک کی کوئی آمیزش باقی نہ رہی۔ اسی راستے پر چل کر علمِ یقین، عین الیقین اور حق الیقین کے ابواب کھلتے ہیں۔
جب آپ اس فکری جدوجہد کے بعد قرآنِ شریف کا مطالعہ کریں گے تو ایمان محض موروثی یا جذباتی نہیں رہے گا، بلکہ شعوری، زندہ اور راسخ ایمان میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے خود سپردگی، عبدیت اور توکل کی وہ حقیقی کیفیت پیدا ہو گی جو فلسفے کی تمام الجھنوں، سوالات اور اضطراب کا آخری اور کامل جواب ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو حق کا سچا طالب بنائے، آپ کے علم کو نور عطا فرمائے، اور آپ کو اپنے دین کے لیے نافع اور مؤثر بنائے۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے