طى مكان وزمان حقیقت کیا ہے ؟

عربى زبان وادب كى تعليم

علامه عبد الوهاب شعرانى نے (لواقح الانوار في طبقات الاخيار) ميں اپنے شيخ علي الخواص كے متعلق نقل كيا ہے كه ان كے شيخ ظہر كے وقت مصر ميں اپنى دكان پر ہوتے تهے، ليكن كوئى ان كو نماز پڑهتے نه ديكهتا، جب بهى كوئى ان سے پوچهتا كه آپ ظہر كى نماز كيوں نہيں پڑهتے تو وه خاموش رہتے، بعد ميں فلسطين كے بعض خدام نے بتايا كه وه ظہر كى نماز ان كے ساتهـ فلسطين كے شہر رمله ميں ادا كرتے تهے۔

اہل تصوف كا عقيده ہے كه اقطاب اربعه يعنى عراق كے شيخ عبد القادر جيلانى، شام كے شيخ احمد الرفاعى، يمن كے شيخ احمد البدوى اور مصر كے شيخ ابراهيم الدسوقى كو طى ارض كى كرامت حاصل تهى، بلكه اس طرح كا عقيده ہندوستان كے صوفيه كے متعلق بهى مشہور ہے، كچهـ لوگ رہتے تهے پنجاب وغيره كے كسى گاؤں ميں اور وه خود يا ان كے مريدين دعوى كرتے تهے كه وه نماز مسجد حرام ميں پڑهتے تهے۔

عبد الوهاب شعرانى نے (الطبقات الكبرى) ميں نقل كيا ہے كه ابو المواهب شاذلى حالت بيدارى ميں نبى اكرم صلى الله عليه وسلم كى زيارت كرتے تهے، نبى اكرم صلى الله عليه وسلم نے ان سے فرمايا كه مجه پر موت نہيں طارى ہوئى، ميرى موت كا مطلب ہے كه جنہيں الله كى سمجهـ نہيں الله تعالى انہيں مجهـ سے مستور كرديا ہے، شيخ ابو المواهب شاذلى نے عرض كيا كه اے الله كے پيغمبر صلى الله عليه وسلم! اگر ميں لوگوں سے كہوں كه ميں اپنى ان آنكهوں سے حسى طريقه پر آپ كى زيارت كرتا ہوں تو وه مجهے جهٹلائيں گے، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا: الله كى عزت وعظمت كى قسم جو بهى اس رؤيت پر ايمان نہيں لائے گا يا اس سلسله ميں تمہارى تكذيب كرے گا وه يہودى يا عيسائى يا مجوسى ہو كر مرے گا۔

صوفيه كى كتابوں اور ان كے ملفوظات، مواعظ ومجالس ميں طى زمان ومكان كى كہانياں كثرت سے نقل كى جاتى ہيں، عام طور سے علماء اس پر شديد نكير كرتے ہيں، امام ابن تيميه كہتے ہيں كه ايكـ شخص بيكـ وقت دو جگہوں پر نہيں ہو سكتا، وه جب مصر كے جيل ميں قيد تهے تو انہين دمشق ميں تقرير كرتے ہوئے ديكها گيا، شام كا حاكم گهبرا گيا، اس نے مصر ميں كسى كو تحقيق كے لئے بهيجا، تو معلوم ہوا كه ابهى تكـ وہاں قيد ميں ہيں، امام ابن تيميه سے جب اس كے متعلق استفسار كيا گيا تو انہوں نے فرمايا كه كوئى جنات تها جو ميرى شكل بناكر دمشق ميں تقرير كر رہا تها، كسى نے عرض كيا كه وه فرشته بهى تو ہو سكتا ہے، اس پر ابن تيميه نے فرمايا كه وه جهوٹ بول رہا تها كه وه ابن تيميه ہے، فرشتے جهوٹ نہيں بول سكتے، البته جنات كثرت سے جهوٹ بولتے ہيں۔

اہل تصوف كہتے ہيں كه انسان كو جس چيز كا علم نه ہو اس كے متعلق عناد نہيں كرنا چاہئے، اور اپنى جہالت كا اعتراف كر لينا چاہئے، اہل تصوف كى يه بات صحيح ہے، تا ہم اس سے ان كے دعوے اور شطحات ثابت نہيں ہوتے، ہر وه دعوى جو دلائل نقل وعقل سے عارى ہو وه محض وہم ہے، خود فريبى ہے اور جہل ہے، الله تعالى نے انسانوں كو كسى ايسى چيز كے ماںنے كا مكلف نہيں بنايا ہے جس كى دليل نه ہو۔

كوئى يہاں يه اشكال نه كرے كه اگر اولياء كى كرامت بر حق ہيں تو پهر طے زمان ومكان ميں كيا اشكال ہے؟ اس كا جواب يه ہے كه كرامت الله كا انعام ہوتى ہے، جب الله تعالى چاہتا ہے وه اپنے بندوں كو اس طرح كى خارق العادة نعمت سے نوازتا ہے، كوئى بنده خود خرق عادت پر قادر نہيں، نيز كرامت ہميشه وقتى اور كسى خاص ضرورت كى تكميل كے لئے ہوتى ہے، ورنه لازم آئے گا كه خرق عادت عادت بن جائے۔

يه بات بهى ذہن ميں ركهيں كه محض امكان كسى بات كے ثبوت كى دليل نہيں ہوتا، اگر ہم امام ابو حنيفه، امام شافعى، يا شيخ عبد القادر جيلانى كے متعلق كسى خرق عادت كا دعوى كرتے ہيں، تو اس كى دليل يه نہيں ہوگى كه "كرامات الأولياء حق”، بلكه اس كے لئے ان لوگوں كى شہادت ضرورى ہے جنہوں نے يه كرامت ديكهى ہے، اور كرامت كا مشاہده كرنے والے اور ہمارے درميان ايكـ متصل سند كا ہونا ضرورى ہے، اور اس سند كے رجال ثقاہت كى شرطوں پر پورے اترتے ہوں، مثلا يه كہا جاتا ہے كه امام شافعى رمضان ميں ہر روز دو قرآن ختم فرماتے تهے، يا امام ابو حنيفه نے چاليس سال تكـ عشاء كے وضو سے فجر كى نماز پڑهى وغيره وغيره، مگر آج تكـ ان كراماتى دعوون كى ايكـ سند بهى نہيں پيش كى جا سكى ہے، بلكه يه دعوے الله اور اس كے رسول كى تعليم كے منافى ہيں، ظاہر ہے كه كوئى مكروه يا غير پسنديده چيز كرامت كہاں سے ہو سكتى ہے؟

صحيح بات يه ہے كه كرامتوں كے يه دعوے يا تو باطل ہيں، يا كسى غلط فہمى پر مبنى ہيں، مثلا جو شخص عشاء اور فجر كى نماز جماعت سے پڑهے وه ايسا ہے جيسے اس نے رات بهر نماز پڑهى ہو، كسى نے اسى بنا پر رات بهر نماز پڑهنے كا دعوى كرديا۔

اسى طرح زمان ومكان كى طى كا مسئله ہے، كوئى اپنے شہر ميں ہے مگر قوت متخيله سے وه كہيں اور پہنچ گيا، يا كوئى آج كے دور ميں ہے اور اپنے خيال ميں الله كے پيغمبر صلى الله عليه وسلم سے ہم كلامى كرنے لگا، شعراء كے يہاں اس طرح كى طى زمانى ومكانى بكثرت ہے۔

ميرے ساته بهى طى زمان ومكان كے واقعات ہر روز پيش آتے ہيں، ميں جب اكيلے چل رہا ہوتا ہوں يا بستر پر ليٹا رہتا ہوں تو نبى اكرم صلى الله عليه وسلم كے متعلق سوچتا ہوں، آپ كى مباركـ مجلسيں ذہنوں ميں گهومنے لگتى ہيں، ابراہيم عليه السلام كے واقعات تازه ہو جاتے ہيں، صحابه كرام رضي الله عنهم كى غزوات كى تفصيلات مشاہده ميں آنے لگتى ہيں، كبهى كبهى سفيان ثورى، وكيع بن الجراح اور ابن تيميه وغيره كے حديث كے حلقوں ميں خود كو پاتا ہوں۔

ظاہر ہے كه تخيل كے يه واقعات سب كے ساتهـ پيش آتے ہيں، مگر لوگ ان كے حدود جانتے ہيں، اسى لئے انہيں اہميت نہيں ديتے، ان كى حيثيت خواب سے بهى كم درجه ہوتى ہے۔

بعض دماغ كمزور ہوتے ہيں، يا مختلف قسم كى رياضتوں كا ان پر اتنا شديد اثر پڑتا ہے كه وه خواب وخيال كو حقيقت سمجهنے لگتے ہيں، جب انسان ايسى كيفيتوں كا سامنا كرے تو ہر ايكـ سے انہيں بيان كرتا نه پهرے، بلكه اپنى بيمارى كا علاج كرے، اور الله تعالى سے شفاء كى دعا كرے۔

الله تعالى ہميں اباطيل وخرافات كى نشر واشاعت سے محفوظ كرے، ہميں ايسى بے سر وپا باتوں كے اعتقاد سے بچائے، اور كتاب الہى، سنت نبوى اور علم صحيح پر اعتماد كى توفيق عطا كرے، آمين۔

اہلِ بیت رضی اللہ عنھم ایک ماڈل خانوادہ

مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال

ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام

عاقل نذیر افغان بزرگ نے دعویٰ کیا کہ میں آج 140 سال کا ہوں اور 1880 میں پیدا ہواہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے