وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو روسی صدر پیوٹن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ یہ رابطہ صدر پیوٹن کی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے الاسکا میں ہونے والی اہم ملاقات کے فوراً بعد عمل میں آیا۔
ذرائع کے مطابق صدر پیوٹن نے وزیراعظم مودی کو ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جس میں یوکرین جنگ اور عالمی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس کال کا وقت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ صرف چند گھنٹے بعد صدر ٹرمپ کی ملاقات واشنگٹن میں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں سے طے ہے۔
وزیراعظم مودی نے اس موقع پر یوکرین مسئلے پر بھارت کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ امن اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت ہمیشہ سے کشیدگی کم کرنے اور پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے بھارت اور روس کے درمیان توانائی، تجارت، دفاع اور رابطے کے منصوبوں پر بھی بات چیت کی اور خطے و دنیا کے اہم معاملات پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم مودی نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے صدر پیوٹن کے ساتھ مفید تبادلہ خیال کیا اور عالمی استحکام کے لیے بھارت کی پُرامن کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ تازہ رابطہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت، روس کے ساتھ اپنے روایتی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکہ اور یورپ کے ساتھ بھی سرگرم انداز میں جڑا ہوا ہے۔ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے بیچ بھارت اپنی پالیسی کو امن، مذاکرات اور کثیر القطبی تعاون پر مرکوز رکھے ہوئے ہے۔
مزید خبریں:
اہلِ بیت رضی اللہ عنھم ایک ماڈل خانوادہ
مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال
ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام
عاقل نذیر افغان بزرگ نے دعویٰ کیا کہ میں آج 140 سال کا ہوں اور 1880 میں پیدا ہواہوں
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں