پروفیسر عبدالغنی بھٹ، ایک نامور کشمیری ماہر تعلیم، دانشور اور کل جماعتی حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے سابق چیئرمین، آج 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے سوپور علاقے کے بٹنگو میں اپنے گھر پر مختصر علالت کے بعد خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
سوپور میں پیدا ہونے والے پروفیسر بھٹ ایک معزز استاد تھے جنہوں نے 1963 میں گورنمنٹ کالج پونچھ میں فارسی کے پروفیسر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ تاہم، ان کی سرکاری ملازمت سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے ختم کر دی گئی۔ اس کے باوجود، وہ کشمیر کی سیاست میں ایک اہم شخصیت کے طور پر ابھرے اور 1980 کی دہائی میں مسلم متحدہ محاذ (ایم یو ایف) کے بانی ارکان میں شامل رہے، جس نے 1987 کے متنازعہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا۔ یہ انتخابات بعد میں وادی میں بدامنی کی بڑی وجہ قرار دیے گئے۔
پروفیسر بھٹ نے 1994 سے 1998 تک حریت کانفرنس کے سینئر رہنما کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ ہمیشہ بات چیت اور پرامن حل کے حامی رہے، یہاں تک کہ کشیدہ حالات میں بھی۔ ان کے معتدل رویے نے انہیں بھارتی رہنماؤں، بشمول سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی، کے ساتھ ملاقات پر آمادہ کیا، جس پر انہیں سراہا بھی گیا اور تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ان کے انتقال پر سیاسی اور سماجی حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے انہیں ’’امن کے لیے مخلص اور شائستہ آواز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا:
"اختلافات کے باوجود پروفیسر بھٹ صاحب کی بات چیت سے وابستگی نمایاں رہی۔ اللہ انہیں جنت نصیب کرے۔”
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ ’’ایک معزز اسکالر تھے جنہوں نے بندوق کے بجائے بات چیت کو ترجیح دی۔‘‘
حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے تعزیت کرتے ہوئے کہا:
"پروفیسر بھٹ ایک مشفق بزرگ اور رہنمائی کرنے والی روشنی تھے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔ اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔”
مزید خبریں:
انجینئر محمد علی مرزا مفتن یامحقق ؟
مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں