کشمیر کی سیب کی صنعت سنگین بحران کا شکار، شاہراہ کی بندش سے بڑے اور ناقابلِ تلافی نقصانات

کشمیر کی سیب

کشمیر کی معیشت کا سب سے مضبوط ستون، سیب کی صنعت، اس وقت شدید بحران سے دوچار ہے۔ لگاتار بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے سری نگر–جموں نیشنل ہائی وے (NH-44) کو کئی دنوں سے بند کر رکھا ہے، جو وادی کا واحد ہر موسم میں کھلا رہنے والا راستہ ہے۔ اس بندش کے نتیجے میں ہزاروں ٹرک پھلوں کے بوجھ کے ساتھ راستے میں پھنس گئے ہیں، اور سیب کے ساتھ ناشپاتی جیسی جلد خراب ہونے والی پیداوار سڑنے لگی ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف کسانوں کیلئے معاشی تباہی ہے بلکہ وادی کی دیہی معیشت کیلئے بھی ایک بڑے جھٹکے کے مترادف ہے، جو بڑی حد تک باغبانی اور بالخصوص سیب پر انحصار کرتی ہے۔


معاشی نقصانات اور صنعت پر اثرات

کشمیر کی باغبانی صنعت ہر سال 10,000 سے 12,000 کروڑ روپے کی آمدنی فراہم کرتی ہے اور 30 لاکھ سے زائد لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ سیب اکیلا ہندوستان کی پیداوار کا 70 سے 80 فیصد حصہ پورا کرتا ہے۔ موجودہ بحران نے اس سیزن کی تقریباً 30 فیصد فصل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

  • پیداوار کی خرابی: 2,000 سے 4,000 ٹرک پھنسے ہوئے ہیں، ہر ٹرک میں 700 سے 1,200 بکس ہیں جن کی مالیت فی ٹرک 10 سے 15 لاکھ روپے ہے۔ اب تک اندازاً 1,000–1,200 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔
  • مارکیٹ رکاوٹیں: سوپور کی ایشیا کی دوسری بڑی فروٹ منڈی کو بارہا بند کرنا پڑا۔ دیگر منڈیاں بھی احتجاجاً بند رہیں۔ اس کے نتیجے میں قیمتیں فی بکس 200–300 روپے تک گر گئیں جبکہ ٹرانسپورٹ لاگت تین گنا بڑھ گئی۔
  • وسیع اثرات: کولڈ اسٹوریج، پیکجنگ اور مزدور سب متاثر ہیں۔ چھوٹے کسان یا تو فصل ضائع کر رہے ہیں یا دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہیں۔

شوپیان کے کسان غلام نبی لون نے 1,500 بکس کے نقصان کی خبر دی۔ ان کے مطابق: “ہم پہلے ہی سیلاب اور گرمی کی مار جھیل چکے ہیں، اب شاہراہ کی بندش نے ہمیں مکمل طور پر توڑ دیا ہے۔”


احتجاج اور سیاسی دباؤ

کسانوں اور تاجروں کا غصہ اب احتجاج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

  • تاجروں کا ردعمل: کشمیر ویلی فروٹ گروورز اینڈ ڈیلرز یونین نے دو روزہ ہڑتال کی قیادت کی اور سوپور، اننت ناگ، بارہمولہ سمیت کئی مقامات پر پرامن مظاہرے کیے۔
  • سیاسی قیادت: عمر عبداللہ نے مرکز کو تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ پی ڈی پی کی التجا مفتی نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی جبکہ ایم وائی تاریگامی نے اسے “فصل کے لیے موت کی گھنٹی” قرار دیا اور فصل انشورنس کا مطالبہ کیا۔
  • سرکاری اقدامات: باغبانی وزیر جاوید احمد ڈار نے قاضی گنڈ کا دورہ کیا اور کہا کہ دو دن کیلئے یکطرفہ ٹریفک چلایا جائے گا تاکہ کچھ ٹرک کلیئر ہو سکیں۔ تاہم، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے مطابق بھاری گاڑیوں کیلئے مکمل بحالی میں وقت لگے گا۔

سوشل میڈیا پر عوام مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ویڈیوز میں کسان خراب سیب سڑک پر پھینکتے نظر آ رہے ہیں، اور لوگ حکام کو فوری قدم اٹھانے کی اپیل کر رہے ہیں۔


ممکنہ حل اور طویل مدتی اقدامات

ایک مثبت قدم کے طور پر ریلوے نے 13 ستمبر سے بڈگام سے دہلی تک روزانہ پارسل ٹرین شروع کی ہے، جس میں دو کوچز سیب کیلئے مختص ہیں۔ تاہم کسان کہتے ہیں کہ یہ ناکافی ہے کیونکہ ہزاروں ٹرک روزانہ وادی سے نکلتے ہیں۔

یونینز کا مطالبہ ہے کہ:

  • مزید پارسل ٹرینیں چلائی جائیں،
  • مغل روڈ کو بھاری ٹریفک کیلئے کھولا جائے،
  • اور بار بار آنے والی قدرتی آفات کے مقابلے کیلئے جامع انشورنس اسکیم متعارف کرائی جائے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت حل نہ نکالا گیا تو یہ بحران کشمیر کی سیب کی صنعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔


خلاصہ:کشمیر کے کسان اور تاجر اس وقت سخت آزمائش میں ہیں۔ ایک شاہراہ پر ضرورت سے زیادہ انحصار نے پوری صنعت کو کمزور بنا دیا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صرف اس سیزن کی فصل ہی نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ایمرجنسی بنیادوں پر ٹرانسپورٹ کے متبادل راستے اور پالیسی لائے تاکہ وادی کی سب سے بڑی معیشتی رگ کو بچایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے