ہندوستانی پارلیمنٹ میں پیر کو "آپریشن سندور” پر ہونے والی بحث کے دوران ایوان کا ماحول سخت گرما گیا، جب اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے یہ سوال اٹھایا کہ "اگر پاکستان واقعی پسپا ہو چکا تھا، تو اچانک جنگ بندی کیوں کی گئی؟”
اپوزیشن نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے قومی جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ میں آ کر کارروائی روکی، جب کہ خود حکومت کے وزرا یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان رحم کی بھیک مانگ رہا تھا۔
پس منظر: آپریشن سندور اور پہلگام حملہ
22 اپریل 2025 کو پہلگام کے مشہور بیسرن میدان میں دہشت گردوں کے حملے میں 26 سیاح جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس حملے کے ردعمل میں حکومت نے 7 مئی کو "آپریشن سندور” کا آغاز کیا، جس کا مقصد سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں کو ختم کرنا اور پاکستان کو واضح پیغام دینا تھا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا، لیکن 10 مئی کو اچانک جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا، جس پر اب اپوزیشن سوالات اٹھا رہی ہے۔
اپوزیشن کا اعتراض: جنگ بندی کس کے کہنے پر؟
پارلیمان میں بحث کے دوران کانگریس، ترنمول کانگریس، شیوسینا (یو بی ٹی) اور دیگر جماعتوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
کانگریس کے رہنما گورو گوگوئی نے سوال اٹھایا:
"اگر پاکستان گھٹنے ٹیکنے کو تیار تھا، تو آپ نے ہتھیار کیوں ڈالے؟ 21 اہداف کا اعلان کیا گیا تھا، پھر صرف 9 پر حملے کیوں کیے گئے؟”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں پورے ملک نے حکومت کا ساتھ دیا، تو پھر کارروائی ادھوری کیوں چھوڑی گئی؟
شیوسینا کے رکن اروند ساونت نے بھی انٹیلیجنس ناکامی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا:
"پہلگام جیسے حساس علاقے میں اتنے بڑے حملے کیونکر ممکن ہوا؟ وہاں سیکیورٹی فورسز کیوں موجود نہیں تھیں؟”
ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی نے وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:
"آپ نے خود امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی پر کوئی سخت بیان کیوں نہیں دیا؟ کیا آپ اُن کے دباؤ میں آ گئے؟”
حکومت کا مؤقف: کوئی بیرونی دباؤ نہیں، فوجی مقصد مکمل ہوا
حکومتی وزرا، بالخصوص وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ:
- "ہم نے کارروائی اسی وقت روکی جب ہمارے تمام فوجی مقاصد حاصل ہو چکے تھے۔”
- "پاکستان کو ایک مضبوط پیغام دے دیا گیا ہے۔”
- "امریکی ثالثی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔”
وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم مودی اور امریکی صدر کے درمیان اپریل سے جون کے درمیان کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہوئی۔
وزیراعظم کی خاموشی پر سوالات
اپوزیشن نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جب سارا ملک جاننا چاہتا ہے کہ جنگ بندی کا فیصلہ کن حالات میں کیا گیا، تو وزیراعظم خود پارلیمان میں کیوں نہیں آئے؟
پرینکا گاندھی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا:
"جب اتنا بڑا معاملہ زیر بحث ہو اور وزیراعظم خاموشی اختیار کریں، تو شک پیدا ہوتا ہے۔”
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
سوشل میڈیا پر بھی اپوزیشن کے سوالات کو زبردست حمایت مل رہی ہے۔ متعدد صارفین اور سیاسی تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ اگر حکومت کے پاس مکمل سچ ہے تو وزیراعظم کو پارلیمان میں کھڑے ہو کر جواب دینا چاہیے۔
سیاست دان اسدالدین اویسی نے بھی اپنی تقریر میں کہا:
"پہلگام حملے جیسے بزدلانہ واقعے کے بعد پاکستان سے کرکٹ کھیلنے کی بات کیوں ہو رہی ہے؟ یہ دوہرا رویہ ناقابل قبول ہے۔”
نتیجہ: بحث جاری، جواب طلب
پارلیمان میں "آپریشن سندور” پر بحث تاحال جاری ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ کے بھی ایوان میں بیان دینے کی توقع ہے، جب کہ بعض ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی آج شام یا کل (بدھ) کو پارلیمان سے خطاب کر سکتے ہیں۔
تاہم اپوزیشن کا واضح مؤقف ہے کہ جب تک انہیں تمام سوالات کے تسلی بخش اور شفاف جوابات نہیں ملتے، وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔
تجزیہ:
"آپریشن سندور” صرف ایک فوجی کارروائی نہیں، بلکہ اب یہ ایک سیاسی، سفارتی اور عوامی احتساب کا معاملہ بن چکا ہے۔ اگر حکومت واقعی شفاف ہے، تو وزیراعظم کو ایوان میں آ کر خود تفصیل بیان کرنی چاہیے تاکہ شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو اور قوم کو مکمل سچ معلوم ہو۔
مزید خبریں:
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
انڈیاپاکستان جنگ میں 5 طیارے مار گرانے کے ٹرمپ کے دعویٰ نے مودی کو مشکل میں ڈالدیا
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں