کشتواڑ سانحہ: جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گاؤں چشوتی میں کلاؤڈ برسٹ اور طوفانی بارش کے بعد تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ سانحے کو تین دن گزرنے کے باوجود متاثرہ علاقے میں ریسکیو ٹیموں کی جان توڑ کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق اب تک 65 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے 50 لاشیں ان کے ورثاء کے حوالے کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ 100 سے 150 کے درمیان زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جبکہ کئی افراد کو معمولی زخموں کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔
درجنوں لاپتہ، اہل خانہ کی دعائیں اور انتظار
اب بھی تقریباً 70 افراد لاپتہ ہیں، جن میں خواتین، بچے، مقامی زائرین اور ایک سی آئی ایس ایف اہلکار شامل ہے۔ زیادہ تر لاپتہ افراد جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔ اہل خانہ بے چینی اور دکھ کے عالم میں اپنے پیاروں کی خبر کے منتظر ہیں۔ کچھ لوگ اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے۔
ریسکیو آپریشن دن رات جاری
ریسکیو مہم میں فوج، پولیس، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، بارڈر روڈز آرگنائزیشن (BRO) اور مقامی رضاکار شامل ہیں۔ بڑے پتھروں کو ہٹانے کے لیے بارودی مواد کا استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ مشینری سے ہٹانا ناممکن تھا۔ تلاش کے لیے کتے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اسپتالوں میں زخمیوں کا علاج
گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں سب سے زیادہ زخمی پہنچائے گئے ہیں۔ پرنسپل ڈاکٹر آتشوتھ گپتا کے مطابق، صرف ایک رات میں 66 شدید زخمی داخل ہوئے اور 25 بڑے آپریشن کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ عملہ زخمیوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے دکھ درد میں بھی ساتھ کھڑا رہا۔ نرسوں نے زخمی بچوں کو کھانا کھلایا اور خوفزدہ افراد کو دلاسہ دیا۔
اعلیٰ حکام اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں
سانحے کے بعد اعلیٰ سول و فوجی افسران جائے حادثہ پر کیمپ کیے ہوئے ہیں تاکہ امدادی کاموں کی نگرانی ہو سکے۔ اسی دوران سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی علاقے کا دورہ کیا اور ریلیف سامان بھیجا۔
غم اور بے بسی کا ماحول
متاثرہ خاندانوں کی آنکھیں نم ہیں۔ کچھ کو اپنے پیاروں کی لاشیں ملی ہیں، جبکہ کچھ اب بھی اندھی امید پر قائم ہیں۔ ہر طرف دکھ، غم اور بے بسی کا ماحول ہے لیکن ریسکیو ٹیمیں پوری لگن کے ساتھ کام کر رہی ہیں تاکہ مزید جانیں بچائی جا سکیں۔
مزید خبریں:
اہلِ بیت رضی اللہ عنھم ایک ماڈل خانوادہ
مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال
ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام
عاقل نذیر افغان بزرگ نے دعویٰ کیا کہ میں آج 140 سال کا ہوں اور 1880 میں پیدا ہواہوں
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں