لکھنو اترپردیش: ندوۃ العلماء لکھنو کے معروف عالم دین مولانا ڈاکٹر نذیر احمد ندوی کے اچانک انتقال کی خبر نے لکھنو اور ہندوستان بھر کے علمی اور ادبی حلقوں کو بہت رنجیدہ کردیا ہے ۔مولانا نذیر احمد ندوی کی طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں اٹیک ہوا اور کچھ ہی دیر میں یہ خبر بھی ملی کہ مولانا اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔
مولانا نذیر احمد ندوی ایک انتہائی شریف النفس، مہذب، سنجیدہ مزاج، خاموش طبیعت اور بااخلاق عالم دین تھے۔ انہوں نے نہ صرف دینی علوم کی تعلیم دی بلکہ طلبہ کی زندگیوں میں روشنی اور رہنمائی بھی فراہم کی۔ مولانا کی شخصیت ہمیشہ مفید اور بے ضرر رہی، اور انہوں نے کبھی کسی طالب علم کو شاکی نہیں پایا۔
مولانا نذیر صاحب اپنی نوعیت کے استاد تھے، جو صلہ و ستائش سے بے پروا اور نام و نمود سے ماوراء علم دین اور طلبہ کی خدمت میں مصروف رہتے تھے۔ وہ عرصہ سے شوگر کے مریض تھے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی تدریس میں مسلسل سرگرم رہتے اور طلبہ کو اردو، انگریزی اور عربی زبانوں میں مہارت سکھاتے۔ ان کا خاص اندازِ تدریس یہ تھا کہ ایک ایک لفظ کی گہرائی میں اتر کر طلبہ کو کئی زبانوں سے متعارف کراتے۔
مولانا کو عربی، اردو اور انگریزی پر مہارت حاصل تھی، اور وہ مشہور عربی جریدہ "الرائد” کا فائنل پروف بھی چیک کرتے تھے۔ ادیب کبیر مولانا سید واضح رشید حسنی رحمہ اللہ بھی ان پر اعتماد کرتے تھے۔ مولانا نے ندوہ میں تدریس کا انتخاب صرف خدمت دین کے جذبے سے کیا اور پوری زندگی اسی انتخاب کے ساتھ وفادار رہے۔
مزید خبریں:
گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنان کی گرفتاری کے بعد 137 کو اسرائیل نے کیارہا
گلوبل صـمود فلوٹیلا کے گرفتار رکن ‘توماسو بورٹولازی’ نے اسـرائیلی جیل میں اسـلام قبول کرلیا
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں