امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تجارتی تعلقات میں تناؤ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ امریکی سیکریٹری خزانہ سکاٹ بسنیٹ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر دہلی نے روسی تیل اور ہتھیاروں کی خریداری میں کمی نہ کی تو اس پر مزید اضافی محصولات عائد کیے جائیں گے۔
یہ دھمکی ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ کے روز الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کرنے والے ہیں، جہاں یوکرین جنگ کے خاتمے پر بات چیت مرکزی موضوع ہوگی۔ بسنیٹ کے مطابق امریکہ پہلے ہی روسی تیل کی درآمدات کی وجہ سے ہندوستان پر اضافی محصولات لگا چکا ہے، اور اگر حالات نہ بدلے تو مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
رواں ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے ہندوستان پر عائد 25 فیصد محصولات میں مزید 25 فیصد کا اضافہ کیا، جس کی وجہ دہلی کی روس سے بڑھتی ہوئی توانائی اور دفاعی تجارت بتائی گئی۔ 2024 میں ہندوستان کی کل تیل درآمدات میں روسی تیل کا حصہ تقریباً 40 فیصد رہا، جبکہ 2021 میں یہ صرف تین فیصد تھا۔ دہلی کا موقف ہے کہ یہ اقدام توانائی کی ضروریات اور عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ محصولات ان کی معاشی پالیسی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد امریکی معیشت کو مضبوط بنانا اور عالمی تجارت کو منصفانہ بنانا ہے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ ہندوستان ناجائز محصولات کے ذریعے امریکی مصنوعات کو نقصان پہنچا رہا ہے، اور وہ 45 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
تجارتی مذاکرات کئی ماہ سے جاری ہیں، لیکن زرعی اور ڈیری مصنوعات پر ڈیوٹی کم نہ کرنے کا بھارتی اصرار رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ امریکی حکام 25 اگست کو دہلی میں نئے مذاکراتی دور کے لیے پہنچیں گے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکی دھمکیوں پر عمل ہوا تو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات شدید متاثر ہوں گے۔
27 اگست سے نافذ ہونے والے نئے محصولات کے بعد ہندوستان ایشیا میں سب سے زیادہ محصولات والا امریکی تجارتی شراکت دار بن جائے گا، جس سے خاص طور پر ٹیکسٹائل اور زیورات کی صنعت کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے ہندوستان کی معاشی ترقی ایک فیصد سے بھی کم رہ سکتی ہے، جبکہ عالمی تجارتی منظرنامے میں دونوں ملکوں کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔
مزید خبریں:
اہلِ بیت رضی اللہ عنھم ایک ماڈل خانوادہ
مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال
ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام
عاقل نذیر افغان بزرگ نے دعویٰ کیا کہ میں آج 140 سال کا ہوں اور 1880 میں پیدا ہواہوں
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں