مشہور معلمہ اور داعیہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی سے پوچھا گیا سوال کہ اگر مرد دوسری شادی کرے تو ذمہ داریاں کس کی ہیں؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ :
ڈاکٹر فرحت ہاشمی ! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی مرد پہلی یا دوسری شادی کرے تو اسلام کے مطابق اس پر بیوی کے کیا حقوق اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟ کیا شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو گھر فراہم کرے اور تمام اخراجات برداشت کرے، یا صرف نکاح کافی ہے اور بیوی اپنے اخراجات خود اٹھائے؟ آج کل کچھ مرد یہ شرط رکھتے ہیں کہ بیوی بھی ملازمت کرے اور اپنے اخراجات خود پورے کرے۔ براہِ کرم اس بارے میں اسلامی رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً۔
جواب:
درج ذیل جواب میری کتاب "الفقہ الإسلامي” جلد نمبر 3 سے ماخوذ ہے، یہاں حوالہ جات شامل نہیں کئے گئے ہیں، جو لوگ حوالہ جات تلاش کرنا چاہیں، وہ براہِ کرم اصل کتاب کا مطالعہ کریں۔
بیوی کو رہائش اور نان نفقہ فراہم کرنا خاندان کی بقا کے لئے بہت اہم ہے، اور اس مسئله کی صحیح سمجھ بوجھ ضروری ہے تاکہ مرد اپنی شرعی ذمہ داریاں بخوبی ادا کر سکیں، شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کی بنیادی ضروریات، جیسے خوراک، لباس اور رہائش کا خیال رکھے، نفقہ معاشرتی روایات، حالاتِ زندگی، عمر اور رسم و رواج کے مطابق ہوگا۔ فقہاء نے ہر دور میں اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی ہے، اس كى روشنى میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
يه بات ذہن ميں رہے كه نان نفقہ دینا بیوی پر کوئی احسان نہیں، اور نه ہى يه كوئى اختیارى امر ہے، بلکہ رہائش اور نان نفقہ كى فراہمى مرد پر فرض اور اس كى قانونی ذمہ داری ہے، اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں: "باپ کی ذمہ داری ہے کہ ماؤں کو کھلائے اور انہیں عزت سے لباس پہنائے، اور کوئی جان اپنی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ اٹھائے۔” (القرآن، سورۃ البقرة آيت 233)، اور ارشاد فرمایا: "بیویاں وہیں رہیں جہاں تم رہتے ہو، اپنے وسائل کے مطابق، اور ان کو تکلیف نہ دو۔” (سورۃ الطلاق آيت 6)، ساتھ ہی فرمایا: "امیر شخص اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرے، اور جس کے وسائل کم ہوں وہ بھی اسی کے مطابق خرچ کرے، اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور آسانی پیدا فرماتا ہے۔” (سورۃ الطلاق آيت 7)
نفقہ کا تعین معاشرتی دستور کے مطابق کیا جاتا ہے۔ فقہاء میں اختلاف ہے کہ نفقہ شوہر کے معیارِ زندگی کے مطابق ہو یا بیوی کے، یا دونوں کی حالت کے مطابق، راجح رائے ہے کہ نفقہ شوہر کے معیار کے مطابق ہونا چاہئے، جیسا کہ قرآن میں بھی بیان ہوا ہے (سورۃ الطلاق: 7)۔
شوہر پر ضرورى ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لئے الگ اور آزاد رہائش کا بندوبست کرے، جو بيوى کو عزت اور تحفظ فراہم كرے۔ اس مكان میں شوہر یا بیوی کے خاندان کا کوئی بھی فرد بیوی کی اجازت کے بغیر داخل نہ ہو، بیوی کو گھر میں ایسا لباس پہننے پر مجبور نہ کیا جائے جو وہ غیر محرموں کے لئے پہنتی ہے، فقهاء فرماتے ہیں: "شوہر پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ایسا گھر دے جہاں شوہر کے خاندان کا کوئی فرد نہ رہے۔” اور: "الگ اور آزاد رہائش بیوی کا حق ہے، شوہر اسے کسی اور کے ساتھ شريكـ نہیں سکتا کیونکہ اس سے بیوی کو نقصان پہنچے گا اور وہ اپنے سامان کی حفاظت میں بے اطمینان ہو جائے گی۔”
شوہر کو بیوی کے لئے بستر، گدے، لحاف، چادر، اور موسمِ گرما و سرما کے سامان مہیا کرنا بھی ضرورى ہے۔
شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کے وضو اور غسل کے پانی کا بندوبست کرے، اس میں پانی کے بل ادا کرنے اور پانی خریدنے کا خرچ شامل ہے۔
خوراک کی کوئی مقررہ مقدار نہیں ہے، كهانا بیوی کی ضروریات کے مطابق ہونی چاہئے۔ اسے روٹی، سالن، گوشت، میٹھا، تیل، دودھ اور پھل وغیرہ دیئے جائیں۔ اگر شوہر خام چیزیں فراہم کرے تو بیوی خود پکائے، لیکن اگر بیوی کھانا پکانے سے انکار کرے تو شوہر کو تیار کھانا مہیا کرنا ہوگا، فقہاء نے واضح کیا ہے کہ نفقہ مقامی روايت اور شوہر کی مالی استطاعت کے مطابق ہونا چاہئے۔ شوہر کی طرف سے دیا گیا کھانا بیوی کی ملکیت ہوتا ہے اور شوہر بغیر اجازت نه اسے کسی اور کو دے سکتا ہے، اور نه خود استعمال کر سکتا ہے۔
حضرت معاویہ القشری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: "بیوی کا ہم پر کیا حق ہے؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جیسے تم خود کھاتے ہو اسے بھی کھلاتے رہو، اور جیسے تم خود کپڑے پہنتے ہو اسے بھی کپڑے دو۔”
اسى طرح شوہر کو چاہئے کہ بیوی کو سال میں دو مرتبہ مناسب لباس دے، ایک سردیوں کے لئے اور ایک گرمیوں کے لئے، تاکہ وہ سردی و گرمی سے محفوظ رہے۔ اگر اس کے پرانے کپڑے کم استعمال ہوئے ہوں تب بھی ہر چھ ماہ بعد نیا لباس دینا ضروری ہے۔ عام طور پر دو لمبے کپڑے، دو شلوار، دو دوپٹے، جوتے اور ایک جلباب دینا لازم ہے، اور سردیوں میں سویٹر اور کوٹ بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔
زینت و صفائی کے لئے ضروری اشیاء جیسے صابن، تیل، کنگھا، اور اگر بیوی حیض یا نفاس کے بعد غسل کے لئے حمام جاتی ہے تو اس کا خرچ بھی شوہر کو برداشت کرنا ہوگا۔ شوہر پر فرض ہے کہ بیوی کے صفائی کے تمام سامان کا بندوبست کرے۔
طبی علاج کے بارے میں قدیم فقہا نے زیادہ بحث نہیں کی کیونکہ ان کے زمانے میں علاج کو ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ مباح سمجھا جاتا تھا، آج کے دور میں جہاں کئی بیماریوں کا علاج لازم ہو چکا ہے، شوہر پر لازم ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی بیوی کے علاج کا خرچ اٹھائے۔
خلاصه: شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کی تمام ضروریات پوری کرے، نان نفقہ دینا اس کی شرعی و قانونی ذمہ داری ہے، بیوی کو اس کے حقوق سے محروم رکھنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حقوق و فرائض سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خیر اندیش ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
مزید خبریں:
اہلِ بیت رضی اللہ عنھم ایک ماڈل خانوادہ
مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال
ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام
عاقل نذیر افغان بزرگ نے دعویٰ کیا کہ میں آج 140 سال کا ہوں اور 1880 میں پیدا ہواہوں
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں